رسائی کے لنکس

پاکستان کے راستے رسد کی جلد بحالی کی اُمید، نیٹو


(فائل فوٹو)

(فائل فوٹو)

نیٹو نے اُمید ظاہر کی ہے کہ افغانستان میں تعینات بین الاقوامی افواج کو پاکستان کے راستے رسد کی ترسیل جلد بحال ہو جائے گی کیونکہ اس تعطل کی وجہ سے دونوں ہمسایہ ملکوں کی معیشتوں کو نقصان ہو رہا ہے۔

کابل میں اتحادی افواج کے ترجمان بریگیڈیئر کارسٹن جیکبسن نے پیر کو ایک بیان میں کہا ہے کہ اگر پاکستان کے راستے سپلائی لائن بحال نہیں ہوتی تو بھی افغانستان میں فوجی کارروائیوں کو موجودہ سطح پر جاری رکھنے کے لیے اُن کے پاس رسد کے کافی ذخائر جمع ہیں۔

’’ہمارے پاس ایسی وجوحات ہیں جن کی بنیاد پر ہم رسد کی بحالی کی خواہش کرسکتے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ سرحدوں پر موجودہ حالات دونوں ملکوں کی معیشتوں پر منفی اثرات مرتب کر رہے ہیں۔‘‘

افغان تاجروں کا کہنا ہے کہ نیٹو کی رسد کے لیے پاکستان کی جانب سے سرحد کی بندش نے اُن کی درآمدات کو بھی متاثر کیا ہے جس کی وجہ سے چینی، چاول اور خوراک کی دیگر اشیا کی قمیتوں میں اضافہ ہو گیا ہے۔

پاکستان کے راستے نیٹو افواج کو 40 فیصد سے زائد رسد فراہم کی جاتی ہے لیکن نومبر میں مہمند ایجنسی میں سرحدی چوکیوں پر نیٹو کے اُس بلا اشتعال حملے کے بعد پاکستانی حکومت نے رسد کے راستے بند کر دیے تھے جس میں اُس کے 24 فوجی ہلاک ہو گئے تھے۔

امریکہ نے اس واقعہ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حملے کی وجہ غلط فہمی تھی، لیکن پاکستان امریکہ کی اس وضاحت سے متفق نہیں ہے۔ یہ واقعہ پاک امریکہ تعلقات میں پائی جانے والی کشیدگی میں اضافے کا باعث بنا ہے۔

افغانستان میں تعینات بین الاقوامی افواج کا کہنا ہے کہ گزشتہ دو سالوں کے دوران روس اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے ذریعے رسد کے متبادل راستے ملنے کے بعد پاکستان پر انحصار کو کم کیا گیا ہے۔ لیکن نیٹو حکام اس بات کا اعتراف بھی کرتے ہوئے کہ نئے راستوں سے فوجی رسد خاصی مہنگی پڑ رہی ہے۔

XS
SM
MD
LG