رسائی کے لنکس

افغان فوج کے لیے ایندھن کی خریداری میں ’خُرد برد‘


افغان نیشنل آرمی کا ایک مرکزی دفتر (فائل)

افغان نیشنل آرمی کا ایک مرکزی دفتر (فائل)

گزشتہ چار سال سے زائد عرصے کے دوران افغان نیشنل آرمی کے لیے ایندھن کی خریداری کے مالی گوشواروں پر مبنی دستاویزات پھاڑ کر ضائع کر دی گئی ہیں۔

افغانستان میں فوجی تربیتی منصوبوں سے منسلک امریکہ اور نیٹو حکام نے امریکی حکومت کے تفتیش کارروں کو بتایا ہے گزشتہ چار سال سے زائد عرصے کے دوران افغان نیشنل آرمی کے لیے ایندھن کی خریداری کے مالی گوشواروں پر مبنی دستاویزات پھاڑ کرضائع کر دی گئی ہیں۔

یہ انکشاف امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے کرتے ہوئے اس کارروائی میں مجموعی طور پر ساڑھے سینتالیس کروڑ ڈالرکے خُردبرد کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

مزید برآں امریکی اور نیٹو افواج نے مستبقل میں افغان آرمی کی ایندھن کی ضروریات کا اندازہ لگانے کے لیے کوئی نظام وضع نہیں کیا ہے جو اس مرحلے پر انتہائی اہم ہے کیونکہ ایندھن کی خریداری پر کنٹرول کو عنقریب سخت جبکہ نیٹو اور امریکہ سے اس کا اختیار افغان حکومت کو منتقل کیا جانا ہے۔
افغان نیشنل آرمی کے اہلکار (فائل فوٹو)

افغان نیشنل آرمی کے اہلکار (فائل فوٹو)



اخبار نے کہا ہے کہ یہ تفصیلات افغانستان میں تعمیر نو کے لیے امریکی اسپیشل انسپکٹر جنرل کی تحقیقاتی رپورٹ کا حصہ ہیں جس کا اجراء پیر کو متوقع ہے۔ اس سرکاری ادارے کا کام افغانستان میں تعمیر نو پر خرچ کیے جانے والے اربوں امریکی ڈالر کے حساب کتاب پر نظر رکھنا ہے۔

افغان فوج کے لیے ایندھن کی مد میں 2014ء میں سالانہ تخمینہ ساڑھے پچپن کروڑ ڈالر تجویز کیا گیا ہے مگر ممکنہ چوری اور ضیاع کا انتباہ کرتے ہوئے رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ بجٹ میں کمی کر کے اسے 2012ء کی سالانہ ساڑھے تیس کروڑ ڈالر کی سطح پر اُس وقت تک منجمد رکھا جائے جب تک احتساب اور مستبقل کی ضروریات کا تخمینہ لگانے کا طریقہ کار وضع نہیں کیا جاتا۔

انسپکٹر جنرل جان سو پکو نے وزیر دفاع لیون پنیٹا اور اتحادی افواج کے کمانڈر جنرل جان ایلن سمیت دیگر اعلی فوجی افسران کے نام لکھے گئے اپنے خط میں کہا ہے کہ اُنھوں نے اکتوبر 2006ء سے فروری 2011ء کے عرصے میں کی گئی ادائیگیوں کی دستاویزات کے بظاہر ضیاع کی تحقیقات شروع کردی ہیں۔

اُن کے بقول افغانستان میں عہدے دار حالیہ جانچ پڑتال کے لیے مارچ 2011ء سے مارچ 2012ء کے گوشوارے فراہم کرنے سے بھی قاصر تھے۔

انسپکٹر جنرل نے اپنے خط میں لکھا ہے کہ ریکارڈ کا ضیاع اور دیگر ریکارڈ کی فراہمی میں غیر واضح ناکامی محکمہء دفاع اور فوج کے محمکمے کی پالیسیوں کی خلاف ورزی ہے۔

افغان سکیورٹی فورسز کو مسلح کرنے اور اُن کی تربیت کے منصوبوں سے وابستہ نیٹو اور امریکی افسران کے ایک ترجمان نے انسپکٹر جنرل کی رپورٹ کی تردید نہیں کی ہے البتہ کہا ہے کہ وہ ادارے کے نتائج اور تحقیقات میں تعاون کا جائزہ لے رہے ہیں۔
XS
SM
MD
LG