رسائی کے لنکس

افغانستان: ہلمند میں شدید لڑائی جاری


ہیلمند

ہیلمند

صوبائی گورنر کے ایک ترجمان نے حملہ آوروں کی تعداد 1000کے قریب بتائی ہے، جس میں القاعدہ سے منسلک عرب اور چیچنیا کے دہشت گرد بھی شامل ہیں

سرکشی کے شکار صوبہٴہیلمند کے ایک دور افتادہ مقام پر طالبان شدت پسندوں اور افغان حکومت کی فوج کے درمیان جھڑپوں کی خبر موصول ہوئی ہے۔

بدھ کے روز افغان حکام نے دعویٰ کیا کہ اُنھیں صوبہٴ ہیلمند کے جنوب میں فتح حاصل ہوئی ہے۔

اُنھوں نے بتایا کہ سنگین کے مقام پر طالبان عسکریت پسندوں کی طرف سےکیے جانے والےحملوں کا مؤثر جواب دیا گیا۔

صوبائی گورنر کے ایک ترجمان نے حملہ آوروں کی تعداد 1000کے قریب بتائی ہے، جس میں القاعدہ سے منسلک عرب اور چیچنیا کے دہشت گرد بھی شامل ہیں۔

طالبان عہدے داروں نے بھی سنگین کارروائی میں اپنی کامیابی کا دعویٰ کیا ہے۔ اُنھوں نے نامہ نگاروں کو ایک ’ٹیکسٹ مسیج‘ میں بتایا کہ اُن کے لوگوں نے کم از کم تین پولیس چوکیوں پرقبضہ کر لیا ہے۔

متعدد افغان عہدے داروں نے کہا ہے کہ سنگین کے مقام پر چار سے چھ افغان پولیس افسران ہلاک ہوئے، جب کہ تقریباً 20 باغی مارے گئے۔

ایک اور خبر کے مطابق، ملک کے وسطی صوبے، غزنی کی ایک مارکیٹ میں ہونے والے خودکش بم حملے میں ایک طالبان مخالف دیہی علاقے سے تعلق رکھنے والے عمر رسیدہ شخص کے علاوہ کم از کم تین افراد ہلاک ہوئے۔ حکام نے کہا ہے کہ 14دیگر افراد زخمی ہوئے۔

افغانستان میں موسم گرما کی لڑائی کا یہ روایتی آغاز سمجھا جا رہا ہے، اور یہ کہ اس وقت افغان فوجیوں، نیٹو اور اتحادی فوج پر دباؤ بڑھایا جارہا ہے، ایسے میں جب اُن کا انخلا جاری ہے۔

کچھ عہدے داروں کا کہنا ہے کہ ایسے میں جب طرفین اپنے اپنے دعوے کر رہے ہیں، افغان حکومت اور طالبان دونوں کا بہت کچھ داؤ پر لگا ہوا ہے۔ مثال کے طور پر، سنگین میں بدھ کے روز جاری لڑائی کو بیان کرنے میں نیٹو کا ایک ترجمان بہت ہی محتاط دکھائی دیا۔

XS
SM
MD
LG