رسائی کے لنکس

انڈونیشا کی پولیس نے بتایا ہے کہ سماجی میڈیا چینلز اور روابط کا استعمال کرتے ہوئے، نعیم انڈونیشیا میں شام کے لیے دہشت گرد بھرتیاں کرنے اور دہشت گرد منصوبوں کے لیے رقوم اکٹھی کرنے میں مشغول رہا ہے

انڈونیشیا سے تعلق رکھنے والا مفرور دہشت گرد دراصل کمپیوٹر کا ماہر ہے، جو بم بنانے کا شہرہ رکھتا ہے۔ اُس نے شام میں داعش میں شمولیت اختیار کی، جہاں پولیس کا کہنا ہے کہ اب وہ اپنے آبائی ملک کے خلاف دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔

انڈونیشیا کے حکام نے بتایا ہے کہ بہرون نعیم دہشت گرد حملوں اور اپنے آبائی ملک میں عدم استحکام پیدا کرنے کی منصوبہ سازی میں ملوث رہا ہے۔ مبینہ طور پر ’ٹیلی گرام ایپلیکشن‘ کی مدد سے وہ انڈونیشیا میں داعش کی کارروائیوں کی نگرانی کرتا ہے، جس ایپ کو رقہ میں داعش پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھتا ہے، جو شام میں دولت اسلامیہ کے شدت پسند گروہ کا فی الواقع دارالحکومت ہے۔

تینتیس برس کا نعیم گذشتہ اختتام ہفتہ جکارتہ میں ہونے والے دہشت گرد حملے کا سرغنہ بتایا جاتا ہے۔ حکام نے بتایا ہے کہ مشتبہ خود کش بم حملہ آور خاتون جو داعش کی وفادار بتائی جاتی ہیں، اُنھیں اُس وقت دھر لیا گیا جب وہ دارالحکومت میں معروف اہداف پر حملے کی تیاری کر رہی تھیں۔

پولیس کمشنر، اوی ستییونو نے اخباری نمائندوں کو بتایا کہ ’’اُنھوں نے بم بنانے کی تربیت بہرون نعیم سے لی‘‘۔

انڈونیشا کی پولیس نے بتایا ہے کہ سماجی میڈیا چینلز اور روابط کا استعمال کرتے ہوئے، نعیم انڈونیشیا میں شام کے لیے دہشت گرد بھرتیاں کرنے اور دہشت گرد منصوبوں کے لیے رقوم اکٹھی کرنے میں مشغول رہا ہے۔

حکام نے بتایا ہے کہ نعیم انڈونیشیا میں داعش کی سرگرمیوں میں رابطہ کار کا کلیدی کردار ادا کرتا رہا ہے۔

سڈنی جونزجکارتہ میں قائم ’انسٹی ٹیوٹ فور پالیسی انالسز آف کونفلکٹ‘ کے سربراہ ہیں۔ اُنھوں نے وائس آف امریکہ کی انڈونیشین سروس کو بتایا کہ ’’بہرون نعیم انڈونیشیا کےعوام کے لیے اور ساتھ ہی ملائیشیا اور سنگاپور کے لیے کشش کا باعث ہے‘‘۔

پولیس نے بتایا ہے کہ اس سال انڈونیشیا میں ہونے والے متعدد ناکام دہشت گرد حملوں کی منصوبہ سازی میں ملوث بتایا جاتا ہے،
جن میں جولائی میں جاوا کے شہر سولو میں ہونے والا خودکش بم حملا شامل ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ جنوری میں جکارتہ کے مرکزی علاقے میں ہونے والے مربوط بم اور مسلح حملوں کی سازش کے پیچھے اُسی کا ہاتھ تھا، جس میں بشمول چار حملہ آوروں کے، آٹھ افراد ہلاک ہوئے۔ اِن واقعات کی داعش نے ذمہ داری قبول کی ہے۔
گذشتہ ماہ کیے گئے ایک چھاپے میں مشتبہ دہشت گرد کی گرفتاری کے معاملے میں بھی نعیم کا نام لیا جارہا ہے۔ رائٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق، اس چھاپے کے دوران، پولیس نے بتایا کہ ایک زوردار بم بنانے میں استعمال ہونے والے کیمیلز کی کافی مقدار ملی ہے، جس سے سنہ 2002 میں بالی کے بم حملے سے دوگنا زیادہ طاقتور بم بنایا جاسکتا تھا، جس میں 202 افراد ہلاک ہوئے۔

پولیس کمشنر، ستیونو نے اخباری نمائندوں کو بتایا کہ ’’بہرون نعیم کے احکامات بجا لاتے ہوئے، اُنھوں نے چھوٹی کوٹھڑیاں بنائیں جہاں دیگر شدت پسندوں کے ساتھ مل کر یہ بم تیار کیے جاتے تھے‘‘۔

تجزیہ کار جونز کے مطابق، نعیم دھماکہ خیز مواد کا ایک ماہر خیال کیا جاتا ہے۔

XS
SM
MD
LG