رسائی کے لنکس

بحرین: حکومت مخالف تحریک کی پہلی سالگرہ

  • فلپ والمین

بحرین: حکومت مخالف تحریک کی پہلی سالگرہ

بحرین: حکومت مخالف تحریک کی پہلی سالگرہ

بحرین میں حکومت کے خلاف عوامی تحریک کی پہلی سالگرہ قریب آ رہی ہے اور اس کے ساتھ ہی سیکورٹی فورسز اور احتجاج کرنے والوں کے درمیان جھڑپوں میں شدت پیدا ہوگئی ہے ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک میں مصالحت کی جو محدود کوششیں کی گئی تھیں وہ ناکام ہو رہی ہیں۔

حزبِ اختلاف کے بعض حامیوں نے عہد کیا ہے کہ وہ 14 فروری کی پہلی برسی کے روز پھر اسی مقام پر مارچ کریں گے جہاں سے احتجاج کی تحریک کا آغاز ہوا تھا ۔ یہ دارالحکومت ماناما میں پرل راؤنڈ اباؤٹ کا علامتی مقام ہے جسے فوجی زون قرار دے دیا گیا ہے۔

اختتام ِ ہفتہ میں جب مظاہرین نے اس مقام پر پہنچنے کی کوشش کی تو پولیس نے ان پر آنسو گیس پھینکی۔
حالیہ ہفتوں میں دارالحکومت کے باہر کے علاقوں میں تشدد میں خاصا اضافہ ہو گیا ہے۔ عوامی تحریک میں سرگرم لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے سیکورٹی فورسز پر پتھر اور آتشیں بم پھینکے ہیں، اور ٹائر جلا کر سڑکوں کو بند کر دیا ہے ۔

حکومت نے اور اس کی مخالف سب سے بڑی پارٹی الوفاق نے تشدد کی مذمت کی ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ دونوں طرف کے انتہا پسند عناصر لوگوں کو حملوں کے لیے اکسا رہے ہیں۔

بحرین میں اصلاحات کی حمایت کرنے والے بیشتر احتجاجی شیعہ مسلمان ہیں۔ ملک کی 12 لاکھ آبادی میں تقریباً دو تہائی شیعہ ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حکمراں سنی اقلیت نے انہیں نظر انداز کر دیا ہے ۔
بحرین کی انفارمیشن افیئرز اتھارٹی میں بین الاقوامی میڈیا ایڈوائزر عبدالعزیز بن مبارک الخلیفہ کے مطابق، ملک میں طویل عرصے سے جاری بے چینی سے دونوں فرقوں کے لوگوں کے درمیان اختلافات کی خلیج گہری ہوتی جا رہی ہے۔’’ہم نے دیکھا ہے کہ سنیوں کا ایک سنی اتحاد وجود میں آیا ہے اور یہ لوگ بھی بہت زیادہ سرگرم ہو گئےہیں۔ لہٰذا اب ہمارا واسطہ دو کیمپوں سے ہے جن کے درمیان اختلافات بہت شدید ہیں۔‘‘

ماناما کے رہنے والے ایک شخص نے اس شرط پر کہ اس کا نام ظاہر نہ کیا جائے ، تفصیل سے بتایا کہ بہت سے سنّی اپنے شیعہ ہم وطنوں کے بارے میں کس قسم کے خیالات رکھتے ہیں۔’’ہم اب ان کے ساتھ رہنا نہیں چاہتے ۔ ہم ان کے ساتھ بیٹھنا پسند نہیں کرتے ۔ ہم ان کے ساتھ کام کرنا نہیں چاہتے ۔‘‘

بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ فرقہ وارانہ اختلافات میں روز افزوں اضافے کی وجہ یہ ہے کہ سیاسی اصلاحات کی رفتار بہت سست ہے۔ بحرین کے غیر جانبدار انکوائری کمیشن نے نومبر میں ایک رپورٹ جاری کی تھی جس میں حکومت کو کئی سفارشات فراہم کی گئی تھیں جن کے ذریعے ملک میں مصالحت کا عمل تیزی سے شروع کیا جا سکتا تھا۔

تا ہم لندن اسکول آف اکنامکس کے ریسرچ فیلو کرسٹیان کوٹس۔الرچسن کہتے ہیں کہ حکومت نے ان سفارشات پر عمل نہیں کیا جس کی وجہ سے ایک ایسے تنازع میں جس میں اختلافات بڑھتے جا رہے ہیں، درمیانی راہ تلاش کرنے کا موقع ہاتھ سے نکل گیا۔ ’’بحرین میں اب خطرہ یہ ہے کہ یہ تنازع ، کم و بیش منجمد ہو کر رہ جائے گا کیوں کہ تمام فریق اپنے اپنے سخت موقف پر ڈٹ جائیں گے ۔ لہٰذا میرے خیال میں، کم از کم تھوڑی مدت کے لیے حالات خاصے مایوس کن ہیں کیوں کہ حکومت نے کسی با معنی اصلاح میں دلچسپی کا مظاہرہ نہیں کیا ہے ۔‘‘

گذشتہ ہفتے ماناما میں تقریر کرتے ہوئے جمہوریت، انسانی حقوق اور محنت کے لیے امریکہ کے معاون وزیر خارجہ مائیکل پوسنر نے بحرین کے ساتھ امریکہ کے مضبوط تعلقات کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔

امریکی بحریہ کے پانچویں بیڑے کا اڈا بحرین میں ہے اور اسے تیل کی دولت سے مالا مال خلیج ِ فارس میں ایرانی اثر و رسوخ کے توڑ کے لیے انتہائی اہم خیال کیا جاتا ہے ۔ اپنی تقریر میں پوسنر نے بحرین میں تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ ایک دوسرے کے لیے احترام کا مظاہرہ کریں۔ انھوں نے کہا’’ہم بحرین کے تمام شہریوں پر زور دیتے ہیں کہ وہ تشدد سے باز رہیں۔ ہم حکومت پر بھی زور دیتے ہیں کہ وہ پُر امن مظاہروں کی اجازت دے اور تمام شہریوں کے اپنے سیاسی خیالات کے اظہار کے حق کا احترام کرے۔‘‘

انسانی حقوق کی جدو جہد کرنے والے گروپوں کا کہنا ہے کہ گذشتہ سال حزبِ اختلاف کے خلاف حکومت کی کارروائیوں کے نتیجے میں 60 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے ۔

XS
SM
MD
LG