رسائی کے لنکس

بحرین: حزبِ اختلاف کا احتجاج جاری رکھنے کا اعلان


حکومت مخالف راہنما اخباری کانفرنس کرتے ہوئے

حکومت مخالف راہنما اخباری کانفرنس کرتے ہوئے

حکومت مخالف تحریک کی پہلی سالگرہ کے موقع پر منگل کو پورا دن پولیس اور حزبِ اختلاف کے کارکنوں کے مابین جھڑپیں ہوتی رہیں جن کا سلسلہ بدھ کو بھی جاری رہا

بحرین میں حزبِ اختلاف کی جماعتوں نےملک میں سیاسی اصلاحات کےنفاذ کےلیےعوامی مظاہروں کا سلسلہ جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

یہ اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہےجب حکومت مخالف تحریک کی پہلی سال گرہ کے موقع پرسیکیورٹی فورسز نےسیاسی کارکنوں کوعوامی طاقت کا مظاہرہ کرنے سےبالجبر روک دیا ہے۔

حکومت مخالف تحریک کی پہلی سالگرہ کے موقع پرمنگل کو پورا دن پولیس اورحزبِ اختلاف کے کارکنوں کے مابین جھڑپیں ہوتی رہیں جن کا سلسلہ بدھ کو بھی جاری رہا۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ بحرینی سیکیورٹی فورسز نےمظاہرین پر آنسو گیس کے شیل پھینکے اور چھرے فائر کیے جس سے لگ بھگ 100 افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

مظاہرین کی اکثریت 'پرل اسکوائر' نامی دارالحکومت کے اس چوک تک جانا چاہتی تھی جو گزشتہ برس چلنے والی احتجاجی تحریک کا مرکز تھا، تاہم فورسز نے مظاہرین کی یہ کوشش ناکام بنادی۔

سیکیورٹی فورسز نے 'وٹنیس بحرین' نامی ایک مشاورتی تنظیم سے منسلک چھ امریکی باشندوں کو مذکورہ چوک کے نزدیک سے گرفتار بھی کرلیا جسے اب ایک ممنوعہ فوجی علاقہ قرار دے دیا گیا ہے۔

بحرینی حکام نے بعد ازاں گرفتار شدگان کو "غلط معلومات دے کر" ملک میں داخل ہونے کے الزام میں ملک بدر کردیا۔

مظاہرین کے احتجاج کو سختی سے دبائے جانے کے باوجود بحرین کی مرکزی اپوزیشن جماعت 'الوفاق' کے رہنما شیخ علی السلمان نے اعلان کیا ہے کہ ان کے حامی ملک کی سڑکوں پر تبدیلی کا مطالبہ کرتے رہیں گے۔

شیخ علی کے بقول بحرین کے عوام اس وقت تک اپنے مطالبات کے لیے آواز اٹھاتے رہیں گے جب تک ملک میں ایک جمہوری نظام نافذ نہیں کردیا جاتا۔

یاد رہے کہ بحرین میں حزبِ اختلاف کی بیشتر جماعتوں کا تعلق شیعہ اکثریت سے ہے جن کا ملکی آبادی میں تناسب 70 فی صد ہے۔ تاہم شیعہ رہنماؤں کو کہنا ہے کہ ان کےساتھ ملک میں دوسرے درجے کے شہریوں کا سا سلوک کیا جاتا ہے اور انہیں سنی العقیدہ مسلمانوں کے برابر حقوق حاصل نہیں جو اقلیت میں ہونے کے باوجود مملکت کے حکمران ہیں۔

XS
SM
MD
LG