رسائی کے لنکس

بحرین: عوام آنسو گیس کےحملوں سےنالاں


بحرین: عوام آنسو گیس کےحملوں سےنالاں

بحرین: عوام آنسو گیس کےحملوں سےنالاں

بحرین میں جمہوریت پسند احتجاجی تحریک کا ایک سال مکمل ہونے پر رواں ہفتے کئی شہروں میں حکومت کے مخالفین نے جلوس نکالنے اور مظاہرے کرنے کی کوشش کی تھی جسے سرکاری فورسز نے ناکام بنادیا تھا

بحرین حکومت کے ساتھ بطورِ مشیر منسلک ایک سابق امریکی پولیس افسر نے ملک میں ہونے والے حالیہ مظاہروں کے دوران میں سیکیورٹی اہلکاروں کی جانب سے رہائشی علاقوں میں آنسو گیس کی شیلنگ کیے جانے کا دفاع کیا ہے۔

بحرین میں جمہوریت پسند احتجاجی تحریک کا ایک سال مکمل ہونے پر رواں ہفتے کئی شہروں میں حکومت کے مخالفین نے جلوس نکالنے اورمظاہرے کرنے کی کوشش کی تھی جسے سرکاری فورسز نے ناکام بنا دیا تھا۔

ملک کی اکثریتی شیعہ آبادی کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی فورسز کی جانب سے رہائشی علاقوں پر چھاپوں اور روزانہ کی بنیاد پر آنسو گیس کے حملوں میں حالیہ چند روز میں شدت آگئی ہے۔

ملک میں ہونے والی حالیہ کئی ہلاکتوں کا سبب بھی آنسو گیس کی اس وقت بے وقت شیلنگ کو قرار دیا جارہا ہے اور شیعہ رہنمائوں نے حکومت سے رہائشی علاقوں پہ آنسو گیس کی شیلنگ فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔

لیکن سیکیورٹی امور سے متعلق بحرین حکومت کے امریکی مشیر جان ٹمونی نے آنسو گیس حملوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیاسی کارکنوں کی جانب سے سیکیورٹی فورسزپر پرتشدد حملوں میں اچانک اضافے کے باعث سیکیورٹی اہلکاروں کو جوابی کاروائی پر محبور ہونا پڑا ہے۔

ٹمونی امریکی شہروں فلاڈیلفیا اور میامی میں محکمہ پولیس کے سربراہ رہے ہیں اور گزشتہ برس چلنے والے حکومت مخالف احتجاجی تحریک کے بعد بحرین حکومت نے انہیں سیکیورٹی اداروں میں اصلاحات کے نفاذ کے لیے اپنا مشیر مقرر کیا تھا۔

ٹمونی کا کہنا ہے کہ فسادی گروہوں کو قریب آنے سے روکنے کے لیے پولیس کو آنسو گیس کا استعمال کرنا پڑتا ہے۔

ان کےبقول یہ فسادی گروہ پولیس اہلکاروں پرکاک ٹیل بموں، پتھروں اور نوکیلی اور تیز دھار اشیا سے حملہ کرتے ہیں اور اس نوعیت کے واقعات روزانہ کی بنیاد پر پیش آرہے ہیں۔

بحرین حکومت کا کہنا ہےکہ جمہوریت پسند تحریک کی پہلی سال گرہ کے موقع پر 14 فروری کو مظاہرین اور پولیس کےمابین جھڑپوں میں 40 سے زائد پولیس اہلکار زخمی ہوئے تھے جن میں سے کئی تاحال اسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں۔

ٹمونی کا کہنا ہے کہ پولیس اہلکار مظاہرین کےان ہتھکنڈوں کا ایسے طریقوں سے جواب دینے کی کوشش کر رہے ہیں جو مہلک ثابت نہ ہوں۔

ان کے بقول گو کہ آنسو گیس سےعام لوگ بھی متاثر ہوتے ہیں لیکن اپنے دفاع میں براہِ راست فائرنگ کے بجائے آنسو گیس کا استعمال بہر حال بہتر ہے۔

انہوں نے حزبِ اختلاف کے اس الزام کو بھی مسترد کیا کہ بحرین حکومت مظاہرین کے خلاف مہلک گیسوں کو بطورِ ہتھیار استعمال کر رہی ہے۔

یاد رہے کہ بحرین میں حزبِ اختلاف کی بیشتر جماعتوں کا تعلق شیعہ اکثریت سے ہے جن کا ملکی آبادی میں تناسب 70 فی صد ہے۔ لیکن شیعہ رہنماؤں کو کہنا ہے کہ ان کے ساتھ ملک میں دوسرے درجے کے شہریوں کا سا سلوک کیا جاتا ہے اور انہیں سنی العقیدہ مسلمانوں کے برابر حقوق حاصل نہیں جو اقلیت میں ہونے کے باوجود مملکت کے حکمران ہیں۔

ایک سال قبل شیعہ مظاہرین یکساں حقوق اور حکومت میں نمائندگی دینے کے مطالبات کرتے ہوئے سڑکوں پر آگئے تھے۔

لیکن بحرین حکومت کی جانب سے ملک میں تین ماہ کے لیے ہنگامی حالت کے نفاذ اور پڑوسی ممالک سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے قیامِ امن کے لیے اپنی افواج بحرین بھیجنے کے بعد شیعہ اکثریت کی یہ احتجاجی تحریک اپنے آغاز کے ایک ماہ بعد دم توڑ گئی تھی۔

XS
SM
MD
LG