رسائی کے لنکس

زندگی کی آخری اڑان بھرنے سے قبل ایرہوسٹس غزالہ کی اپنے بھائی کو تاکید۔ دیگر متاثرین کی وائس آف امریکہ سے بات چیت

’’بھائی میں جا رہی ہوں۔۔۔ امی کا خاص طور پر خیال رکھنا۔‘‘ یہ الفاظ تھے اسلام آباد طیارہ حادثے میں لقمہ ٴاجل بننے والی ایک ایر ہوسٹس غزالہ کے جنھوں نے بھوجا ایرلائن کے ساتھ پہلی مگر تیرہ سالہ کیریر کی آخری اڑان بھرنے سے قبل گھر سے روانہ ہوتے وقت اپنے بھائی بہرام ملک سے کہے۔

غزالہ کے بھائی بہرام ملک نے وائس آف امریکہ کے اردو ریڈیو سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ غزالہ کو بجپن سے ہی ایرہوسٹس بننے کا شوق تھا اوراس کا یہ خواب بی ایس سی پاس کرنے کے فورا ً بعد ہی پورا ہو گیا۔

بہرام نے بتایا کہ غزالہ نے 13 سال تک ایک اور نجی ایرلائن میں کام کیا تھا اور صرف دو ماہ قبل ہی بھوجا ایرلائن جائن کی تھی۔ بہرام کہتے ہیں کہ غزالہ ایک ہنس مکھ اورپیار کرنے والی بہن تھی اور خاص طور پر ماں کے بہت قریب تھی۔ اسی لیے جب گھر سے نکلیں تو کہا ’’ میرے جانے کے بعد تم خاص طور پر امی کا خیال رکھنا‘‘۔

اس المناک حادثے میں ایک ایسا خاندان بھی تھا جس کے چھ افراد موت کے منہ میں چلے گئے۔ عادل چغتائی اپنی اہلیہ اور چار بچوں کے ساتھ محو پرواز تھے۔ ان کے بھائی نوید چغتائی وائس آف امریکہ سے گفتگومیں اپنے آنسووں کو نہ روک سکے۔ وہ کہتے ہیں کہ خاندان کی ایک مکمل اکائی ختم ہو گئی ہے اور دکھ ناقابل بیان ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ بھوجا ایرلائن یا حکام نے ان سے رابطہ نہیں کیا۔ اتنے بھاری جانی نقصان کے بعد ابھی تک جو سب سے بڑی رعایت روا رکھی گئی ہے وہ ہے صرف ایک ہوائی ٹکٹ کی فراہمی۔

نیر زبیر کے چچا تصدق محمود کراچی میں اپنی نو بیاہتا بیٹی حلیمہ سعدیہ کے ساتھ کراچی سے آرہے تھے۔ جہلم منزل تھی مگر راہ میں اجل تھا۔ نیر بتاتے ہیں کہ ان کے چچا علاقے کی ایک ہردلعزیر سماجی شخصیت تھے۔ ریٹائرڈ نائب ھیڈماسٹر۔۔ ادب سے شغف رکھنے والے۔ ان کی عمر 65 کے قریب ہو گی جبکہ بیٹی سعدیہ 22 سال کی۔ نیر کے بقول انہیں اپنے پیاروں کے جسد خاکی تو مل گئے ہیں مگر وہ تابوت میں بند تھے اور گھر میں سے کوئی ان کا آخری دیدار نہیں کر سکا۔

پاکستان انٹرنیشنل ایرلائنز کے سابق مینیجر آپریشنز اورآج کل عسکری فلائنگ سکول میں انسٹرکٹر کے طور پر کام کرنے والے قیصر انصاری نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ اسلام آباد میں، 20 اپریل کی شام جس طرح کا موسم تھا وہ سول ایوی ایشن کی زبان میں ’’مائیکروبرسٹ‘‘ کا سبب بنتا ہے جس میں 50، 80 اور بعض اوقات 100 کلومیٹر فی گھنٹہ سے بھی زیادہ رفتار میں اپ ڈراپ یا ڈاون ڈراپ ہوتے ہیں۔ اس صورت میں ہوابازی کی کتابیں یہ تجویز کرتی ہیں کہ ایرپورٹ سے 10 میل دور رہا جائے۔ لگتا ہے کہ اس حادثے میں بھی مائیکروبرسٹ کی وجہ سے جہاز پائلٹ کے کنٹرول میں نہیں رہا۔

ان سے جب پوچھا گیا کہ ان حالات میں پائلٹ کے پاس کیا آپشنز ہوتے ہیں اور کیا جدید سہولیات سے آراستہ جہاز بھی اس شدت کے موسم میں حادثے کا شکار ہو جاتا ہے؟ اس پر قیصر انصاری نے بتایا کہ مائیکروبرسٹ کی وجہ سے جدید ممالک میں حادثے ہوئے ہیں مگر آج کل یورپ اور امریکہ کے ایرپورٹس پر’’ مائیکروبرسٹ‘‘ وارننگ پائلٹ کو مل جاتی ہے جبکہ پاکستان میں اس کی سہولت نہیں ہے۔

آڈیو رپورٹ سنیئے:

XS
SM
MD
LG