رسائی کے لنکس

وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے اسلام آباد کے نواح میں ہوائی اڈے سے کچھ ہی فاصلے پر گرنے والے مسافر طیارے کی عدالتی تحقیقات کا اعلان کیا ہے۔

اُنھوں نے ہفتہ کی صبح وفاقی دارالحکومت کے پمز اسپتال کا دورہ کیا جہاں ہلاک ہونے والوں کی لاشیں اور ان کی باقیات کو رکھا گیا تھا۔

وزیراعظم نے بعد میں صحافیوں کو بتایا کہ ’’خدشات کو دور کرنے کے لیے ہی میں نے جوڈیشل کمیشن کا اعلان کیا ہے تاکہ آپ کے ذہنوں میں تمام سوالات کے جواب مل سکیں‘‘۔

وزیراعظم کی ہدایت پر اس حادثہ کے حقائق جاننے کے لیے سول ایوی ایشن اتھارٹی کے سینیئر افسر کی سربراہی میں بھی ایک تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے۔ شہری ہوا بازی کے ادارے سول ایوی ایشن اتھارٹی کے سربراہ ندیم یوسفزئی نے ایک نیوز کانفرنس میں بتایا کہ مسافر طیارے کی تحقیقات مکمل ہونے میں ’تین ماہ سے ایک سال کا عرصہ‘‘ لگ سکتا ہے۔

ندیم یوسفزئی نے بتایا کہ اگرچہ جمعہ کو محکمہ موسمیات کی طر ف سے ایک انتباہ جاری کیا گیا تھا لیکن موسم اتنا خراب نہیں تھا کہ فضائی حدود کو بند کر دیا جاتا یا جہاز ’لینڈ‘ نہیں کر سکتا تھا۔

اُنھوں نے بتایا کہ بھوجا ائیر کے طیارہ حادثے کے کچھ دیر بعد ہی ایک دوسری نجی کمپنی کا طیارہ اسلام آباد کے ہوائی اڈے پر اترا۔ ’’اس بات کا فیصلہ پائلٹ نے کرنا ہوتا ہے کہ وہ جہاز کو اتارے یا کہیں اور لے جائے، حتمی فیصلہ پائلٹ کا ہی ہوتا ہے۔‘‘

ندیم یوسفزئی نے بتایا کہ ہلاک ہونے والے 127 افراد میں سے 115 کی شناخت کر لی گئی ہے جب کہ 12 کا ’ڈی این اے‘ ٹیسٹ کیا جائے گا۔

ہسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ایسے افراد جن کی تاحال شاخت نہیں ہو سکی ہے ان کے باقیات کے ڈی این ٹیسٹ کے نتائج آنے میں چند دن لگ سکتے ہیں۔

اس سے قبل وفاقی وزیر داخلہ رحمن ملک نے صحافیوں کو بتایا کہ بھوجا ایئر لائن کے مالک فاروق بھوجا کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈال دیا گیا کہ تاکہ وہ ملک سے باہر نہ جا سکیں ان سے حادثے کے بارے میں تحقیقات بھی کی جارہی ہیں۔ ’’یہ بھی الزامات آ رہے تھے کہ اس فضائی کمپنی کو اجازت کیسے ملی، اس کی بھی ہم انکوائری کر رہے ہیں‘‘۔

انھوں نے کہا کہ تحقیقات کی روشنی میں ہی یہ واضح ہو سکے گا کہ کیا جہاز پرواز کے قابل تھا یا نہیں اور حادثے کے ممکنہ اسباب کیا تھے۔

بھوجا ایئر لائن کی انتظامیہ کا موقف ہے کہ طیارے کو تنکینکی طور پر درست ہونے کے بعد ہی بیڑے میں شامل کیا گیا تھا اور بظاہر یہ حادثہ موسم کی خرابی کے باعث پیش آیا۔

وفاقی درالحکومت کے نواحی علاقے حسین آباد میں جائے حادثہ سے شواہد اکٹھے کرنے کام ہفتے کو بھی جاری رہا۔ آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے ’این ڈی ایم اے‘ کے چیئرمین ڈاکٹر ظفر اقبال قادر نے بتایا کہ حادثے میں ہلاک شدگان کی لاشوں اور ان کے جسموں کے اعضاء جمعہ کی رات دیر گئے تک اکٹھے کر لیے تھے۔

جمعہ کی شام نجی فضائی کمپنی بھوجا ایئر کا مسافر طیارہ کراچی سے اسلام آباد آرہا تھا کہ لینڈنگ سے کچھ دیر قبل گر کر تباہ ہوگیا۔ جہاز پر عملے کے ارکان سمیت 127 افراد سوار تھے جو تمام اس حادثے میں ہلاک ہوگئے۔

XS
SM
MD
LG