رسائی کے لنکس

دو سال سے بھی کم عرصے میں اسلام آباد کی حدود میں مسافر طیارہ گر کر تباہ ہونے کا یہ دوسرا حادثہ ہے۔ جولائی 2010ء میں نجی کمپنی ’ایئر بُلو‘ کا ایک طیارہ اسلام آباد میں مارگلہ کی پہاڑیوں سے ٹکڑا کر تباہ ہونے سے اس میں سوار تمام 152 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے ہوائی اڈے کے قریب جمعہ کی شام مقامی نجی ایئرلائن کا ایک مسافر طیارہ گر کر تباہ ہونے سے اس میں سوار تمام 127 افراد ہلاک ہو گئے۔

جس وقت یہ حادثہ پیش آیا راولپنڈی اور اسلام آباد میں طوفانی بارش کے ساتھ تیز ہوائیں بھی چل رہی تھیں۔

نجی کمپنی ’بھوجا ایئر‘ کے اس بوئنگ 737 ساخت کے طیارے نے پانچ بجے کے قریب کراچی سے اُڑان بھری تھی اور کئی سالوں کے وقفے کے بعد اس ایئر لائنز کے دوبارہ شروع کیے گئے آپریشنز میں ملک کے اقتصادی مرکز سے اسلام آباد تک کی یہ پہلی پرواز تھی۔

طیارے کا ملبہ اسلام آباد ہائی وے سے چند کلومیٹر دور حسین آباد نامی گاؤں میں گھروں اور ان کے ارد گرد وسیع علاقے میں گرا۔

مسافر طیارے کے گر کر تباہ ہونے کی اطلاع ملتے ہی شہری اور فوجی امدادی ٹیمیں جائے حادثہ پر پہنچ گئیں لیکن علاقے میں بجلی نا ہونے کی وجہ سے اُنھیں اپنی سرگرمیوں میں مشکلات کا سامنا رہا۔

امدادی کارروائیوں میں شریک ایک فوجی افسر نے بتایا کہ نصف شب تک ملبے سے کم از کم 110 افراد کی لاشیں نکالی جا چکی تھیں، جب کہ جائے حادثہ سے انسانی اعضا بھی ملے ہیں۔

حسین آباد کے رہائشی رضوان عباس نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ حادثے سے چند لمحوں پہلے اُنھیں آسمانی بجلی کی کڑک اور پھر ایک دھماکے کی سی آواز سنائی دی۔

’’اتنی زیادہ آگ تھی کہ ہمیں کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کیا ہو رہا ہے۔ ہم باہر نکلے تو دیکھا کہ گھروں کی چھتوں پر طیارے کے ٹکڑے پڑے ہیں، لاشیں پڑی ہیں، اعضا پڑے ہیں، قیامت کا منظر تھا۔‘‘

اس حادثے کے ایک اور عینی شاہد عاصم علی نے بتایا کہ طیارہ گرنے سے پہلے اُنھوں نے اس کے پچھلے حصے میں آگ کے شعلے دیکھے۔

’’پھر یک دم جہاز زمین پر آ گرا اور تقریباً آدھے کلومیٹر کے علاقے میں ہر طرف لاشیں اور سامان بکھر گیا۔ کسی کے زندہ بچنے کا کوئی امکان نہیں تھا، اگر کوئی شخص زندہ بچا تو معجزہ ہی ہوگا۔‘‘

بھوجا ایئر کے ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن جاوید اسحاق نے کراچی ایئر پورٹ پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بظاہر خراب موسم ہی اس حادثے کی وجہ بنا۔

تاہم اطلاعات کے مطابق تباہ ہونے والا طیارہ تقریباً 30 سال پرانا تھا اور اس میں تکنیکی خرابی کو خراج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔

طیارے کا ’بلیک باکس‘ مل گیا ہے اور وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے گروپ کیپٹن مجاہد الاسلام کی سربراہی میں ایک تحقیقاتی کمیٹی قائم کرکے حادثے کی اصل وجوہات کا تعین کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہیں۔

دو سال سے بھی کم عرصے میں اسلام آباد کی حدود میں مسافر طیارہ گر کر تباہ ہونے کا یہ دوسرا حادثہ ہے۔

جولائی 2010ء میں نجی کمپنی ’ایئر بُلو‘ کا ایک طیارہ اسلام آباد میں مارگلہ کی پہاڑیوں سے ٹکڑا کر تباہ ہونے سے اس میں سوار تمام 152 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG