رسائی کے لنکس

گائے بھینسوں کا گوبر بھی قیمتی ہے، اسے ’سنبھالئے‘

  • کراچی

بائیو گیس دراصل گائے بھینیسوں کے گوبر سے حاصل ہوتی ہے اسی لئے اسے ’گوبر گیس‘ بھی کہا جاتا ہے۔ گوبر کے ایک نہیں دو دو فائدے ہیں

پاکستان میں توانائی کا شدید بحران ہے۔ قدرتی گیس، کمپریس گیس اور بجلی کم ہونے کی وجہ سے حکومتی سطح کے ساتھ ساتھ عوامی سطح پر بھی اب توانائی کے متبادل ذرائع اپنانے پر زور دیا جارہا ہے۔

بائیو گیس بھی متبادل توانائی ہے اور یہ ایسے ذرائع سے پیدا کی جاتی ہےجس کے بارے میں سن کر آپ کو شائد ہنسی آئے۔ لیکن، حقیقت یہی ہے کہ بائیو گیس دراصل گائے بھینیسوں کے گوبر سے حاصل ہوتی ہے۔ اسی لئے اسے ’گوبر گیس‘ بھی کہا جاتا ہے۔ گوبر کے ایک نہیں دو، دو فائدے ہیں۔ اسی لئے تو ماہرین کہتے ہیں کہ گائے بھینسوں کا گوبر بھی قیمتی ہے اسے ’سنبھالئے‘۔

پڑوسی ملک بھارت میں تو گوبر گیس کی اصطلاع کئی عشروں پہلے عام ہوگئی تھی لیکن پاکستان میں یہ ابھی ابتدائی مراحل میں ہے۔ البتہ، جن علاقوں میں اس سے فائدہ اٹھایا جارہا ہے ان میں صوبہ سندھ کے اضلاح ٹھٹھہ، دادو، سانگھڑ اور نواب شاہ شامل ہیں۔

ان علاقوں میں بائیو گیس پلانٹ لگانے کا سہرا ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ پاکستان (ڈبلیوڈبلیو ایف۔پی) کے سر ہے، جس نے اقوام متحدہ کے ڈویلپمنٹ پروگرام (یو این ڈی پی ) کے تعاون سے اب تک تقریباً400گیس پلانٹ لگائے ہیں۔ ڈبلیو ڈبلیو ایف کے منیجر کنزرویشن سندھ، الطاف شیخ نے ’وائس آف امریکہ‘ سے خصوصی بات چیت میں بتایا کہ، ’اب تک ڈسٹرکٹ دادو میں 200یونٹس، ڈسٹرکٹ ٹھٹھہ میں 150 بائیو گیس یونٹس کام کر رہے ہیں جبکہ 40 سے 50 پلانٹس سانگھڑ اور نواب شاہ میں بھی لگائے جا چکے ہیں‘۔

الطاف شیخ نے مزید بتایا کہ بائیو گیس پلانٹس لگانے کا پروگرام 2011 ءمیں آنے والے تباہ کن سیلاب کے بعد عمل میں آیا تھا۔ اس پروگرام کا مقصد سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں متبادل گیس کی فراہمی ہے کیوں کہ سیلاب کے بعد بیشتر علاقوں میں گیس کی فراہمی ختم ہوگئی تھی۔ ایسے میں بائیو گیس پلانٹ متبادل توانائی کا ذریعہ ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ بائیو گیس کے ہر پلانٹ سے استعمال کنندہ کو چھ کیوبک فٹ گیس حاصل ہو رہی ہے۔ ’وائس آف امریکہ‘ کے استفسار پر الطاف شیخ نے بتایا کہ ایک بائیو گیس پلانٹ لگانے کے لئے 16 اسکوائر فٹ جگہ اور 10 سے 12 دن درکار ہوتے ہیں، جبکہ ایک پلانٹ کی تکمیل پر تقریباً 80000 سے ایک لاکھ روپے خرچ آتا ہے۔

ایک اور سوال کے جواب میں الطاف شیخ نے بتایا کہ، ’عام طور پر بائیو گیس کا پروجیکٹ ان علاقوں میں شروع کیا جاتا ہے جہاں گیس کی قلت ہو‘۔

اُنھوں نے بتایا کہ کراچی میں بھی بائیو گیس کو متبادل انرجی کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ لیکن، اس پرمکمل انحصار اس لئے نہیں کر سکتے کہ یہاں اتنی زیادہ مقدار میں گوبر حاصل نہیں ہوسکتا۔ البتہ، وہ علاقے جہاں مویشی وافر مقدار میں موجود ہوں وہاں اس قسم کے پراجیکٹ شروع کئے جاسکتے ہیں۔ کراچی جیسے شہروں میں بائیو گیس کے مقابلے میں سولرانرجی پر زیادہ کام ہورہا ہے۔ یہ بھی متبادل توانائی کا بہترین ذریعہ ہے۔‘

بائیو گیس بنانے کا آسان طریقہ

الطاف شیخ کہتے ہیں کہ بائیو گیس بنانا انتہائی آسان ہے۔اس میں صرف پانی اور گوبر کو برابر، برابر استعمال کیا جاتا ہے۔

یونٹ میں مختلف کمپوننٹس ہوتے ہیں، جبکہ ایک انلیٹ اور ایک چیمبر ہوتا ہے جس پر ڈوم لگاہوتا ہے۔ اس کا بھی ایک ہی آؤٹ لیٹ ہوتا ہے۔ اس میں بننے والی گیس سلنڈر میں لگے پائپوں کے ذریعے گھروں کو فراہم کی جاتی ہے۔ اس پروسس میں بچ جانے والے قدرتی مواد کو’سلری‘ کہا جاتاہے۔ اسے بھی ضائع نہیں کیا جاتا بلکہ یہ مواد کھادکے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔

الطاف شیخ کا کہنا ہے کہ خشک گوبر کی کھاد کواستعمال میں لانا بائیو گیس پلانٹ لگانے کی دوسری بڑی وجہ ہے۔ یہ موٴثر بھی ہے اور اس میں پیسوں کی بچت بھی ہے۔ بہت سے کاشتکاروں کے نزدیک بائیو گیس کی’ اصل پروڈکٹ‘ کھاد ہے جبکہ گیس کا نمبر دوسرا ہے۔

’گوبر گیس‘ کا گھریلو استعمال

سندھ کے دیہات میں گھروں پربھی بائیو گیس کا استعمال رفتہ رفتہ بڑھ رہا ہے۔ گھروالے ہرروزصبح ہی صبح ایک بالٹی گوبر اور کچھ پانی بائیو گیس پلانٹ میں ڈالتے ہیں جس سے گیس بنتی ہے۔ گھروالے صبح کے ناشتے سے رات کے کھانے تک ہر چیز اسی گیس پر پکاتے ہیں۔

دیہی خواتین کے حوالے سے الطاف شیخ نے بتایاکہ بائیو گیس آنے سے پہلے متذکرہ دیہات میں لکڑیوں پرکھانا پکایا جاتا تھا۔ اس کا دھواں آنکھوں میں بھرجاتا تھا اور جلن بھی ہوتی تھی۔ برتنوں پربھی کالک لگ جاتی تھی۔ لیکن، بائیو گیس نے دھویں، جلن اور برتن کالے ہونے کا مسئلہ بھی ختم کردیا۔

الطاف شیخ کے بتائے ہوئے فائدوں کے علاوہ بائیوگیس کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ اب لکڑیوں کے حصول کے لئے ہرے بھرے درختوں کا ’قتل‘ نہیں ہوگا، جنگلات بچ جائیں گے۔ جنگلات بچ گئے تو سمجھئے ماحول بچ گیا، پاکستان ماحولیاتی تبدیلی کے مضر اثرات سے بچ گیا۔ ۔۔اور یہ سب ممکن ہوسکے گا صرف ’گوبر‘ سے۔ لہذا، ماہرین صحیح کہتے ہیں کہ گائے بھینسوں کا گوبر بھی قیمتی ہے اسے ’سنبھالئے‘۔
XS
SM
MD
LG