رسائی کے لنکس

پاکستان میں بھارت کی کامیابی کی دعائیں


پاکستان میں بھارت کی کامیابی کی دعائیں

پاکستان میں بھارت کی کامیابی کی دعائیں

دارالحکومت اسلام آباد میں یونیورسٹی کے ایک طالب علم کا کہنا تھا کہ ”ہماری دُعا ہے کہ سیمی فائنل میں ہمارا مقابلہ بھارت سے ہواور ہم یقینا اُے شکست دیں گے۔“ایک دوسرے نوجوان نے اس اُمید کا اظہار کیا کہ پاکستان کی ٹیم کی کارکردگی یقینا بین الاقوامی ٹیموں کی حوصلہ افزائی کرے گی کہ وہ یہاں آکر میچ کھیلیں۔

جمعرات کو احمد آباد میں عالمی کپ کرکٹ کا دوسرا کوارٹر فائنل میچ بھارت اور آسٹریلیا کے درمیان کھیلا جارہاہے جبکہ ممکنہ پاک بھارت سیمی فائنل میچ نے برصغیر میں شائقین کے جوش وخروش میں بھی غیر معمولی اضافہ کردیا ہے۔

تاہم دلچسپ امر یہ ہے کہ ہمسایہ ملک پاکستان میں اس کھیل کے شائقین ، سابق کھلاڑی اور سیاست دان اس میچ میں بھارتی ٹیم کی کامیابی کے لیے دُعا گو ہیں ۔لیکن خیر سگالی کے ان جذبات کے اظہار کاہرگز یہ مطلب نہیں کہ ”امن کی آشا“ کا جادو چل گیا ہو اور راتوں رات پاک بھارت تعلقات میں بہتری آگئی ہے ۔

حقیقت اس کے برعکس ہے ۔ برصغیر کے ان دونوں روایتی حریف ملکوں کے مابین سیاسی کشیدگی ہو، ایک دوسرے پر دہشت گردی کے الزامات لگا نے کا مقابلہ ہو، سرحدوں پر جھڑپیں ہوں یا پھر کھیل کے میدان میں آمنا سامنا ہو ایک دوسرے پر سبقت لے جانا دونوں کے لیے ”قومی وقار اورانا“ کی جنگ بن جاتی ہے۔

پاکستان میں بھارت کی کامیابی کی دعائیں

پاکستان میں بھارت کی کامیابی کی دعائیں

پاکستانی کرکٹ ٹیم نے بدھ کو ڈھاکہ میں کھیلے جانے والے عالمی کپ کے پہلے کوارٹر فائنل میں ویسٹ انڈیز کو باآسانی دس وکٹوں سے شکست دے کر دنیائے کرکٹ کے اس سب سے بڑے ٹورنامنٹ کا سیمی فائنل کھیلنے کا اعزاز حاصل کر لیا ہے۔

بھارت اور آسٹریلیا کے درمیان دوسرے کوارٹر فائنل میچ کی فاتح ٹیم 30 مارچ کو بھارتی شہر موہالی میں پاکستان کے خلاف سیمی فائنل کھیلے گی اور ہمیشہ کی طرح پاکستان میں شائقین کرکٹ اس خواہش کا اظہار کررہے ہیں کہ سیمی فائنل میچ پاکستان اور بھارت کی ٹیموں کے درمیان کھیلا جائے۔

لندن میں خودساختہ جلا وطن سابق پاکستانی فوجی صدر پرویز مشرف نے بدھ کو کھیلے جانے والے میچ میں پاکستان کی فتح پر اظہار خیال کرتے ہوئے نجی ٹیلی ویژن اے آروائی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ” میری دُعاہے کہ ہندوستان جیت جائے، آسٹریلیا کو شکست دے دے تاکہ اس کے بعد پاکستان ہندوستان کو شکست دے۔“

عمران خان 1992 کے ورلڈ کپ تھامے ہوئے

عمران خان 1992 کے ورلڈ کپ تھامے ہوئے

ویسٹ انڈیز کے خلاف پاکستان کی جیت پر تبصرہ کرتے ہوئے 1992ء کی عالمی چیمپیئن پاکستانی ٹیم کے کپتان عمران خان نے بھی کہا ہے کہ بھارت اور آسٹریلیا کے درمیان میچ میں اُن کی حمایت اور دعائیں بھارتی ٹیم کے ساتھ ہوں گی۔نجی ٹی وی چینل جیو سُپر سے گفتگو کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ ”میں چاہتا ہوں کہ سیمی فائنل پاکستان اور بھارت کے درمیان کھیلا جائے کیونکہ اس سے ایک تو کرکٹ کے کھیل کی عظیم تشیہر ہوگی اور دوسرے میر ے خیال میں ہماری ٹیم کو بھی اس کا فائدہ ہوگا۔“

عمران خان نے کہا کہ عالمی کپ سے پہلے پاکستانی ٹیم کسی کھاتے میں نہیں تھی جب کہ بھارت کا شمار اُن ٹیموں میں کیا جارہا تھا جو یہ اعزاز حاصل کرنے کے لیے فیورٹ قرار دی جارہی تھیں۔ ”اور میر ا خیال ہے کہ سیمی فائنل کھیلنے کے دباؤ، ہوم گراؤنڈ پر تماشائیوں کے دباؤ اور پاکستان سے ہارنے کے خوف یہ سب ایسی وجوہات ہیں جن کی وجہ سے بھارت کی ٹیم انتہائی دباؤ میں ہوگی اور یہ صورت حال ہماری ٹیم کے لیے مفید ثابت ہوسکتی ہے۔“

پاکستان میں بھارت کی کامیابی کی دعائیں

پاکستان میں بھارت کی کامیابی کی دعائیں

ویسٹ انڈیز کے خلاف قومی ٹیم کی کامیا بی پر پاکستان میں شائقین ِکرکٹ بدھ کی شب جشن منانے کے لیے سڑکوں پر نکل آئے اور کہیںآ تش بازی کے مظاہرے دیکھنے میں آئے تو کہیں نوجوان خوشی سے ڈانس کرتے رہے۔بڑے شہروں میں بعض مقامات پر بڑی بڑی سکرینیں آویزا ں کی گئی تھیں۔

دارالحکومت اسلام آباد میں یونیورسٹی کے ایک طالب علم کا کہنا تھا کہ ”ہماری دُعا ہے کہ سیمی فائنل میں ہمارا مقابلہ بھارت سے ہواور ہم یقینا اُے شکست دیں گے۔“ایک دوسرے نوجوان نے اس اُمید کا اظہار کیا کہ پاکستان کی ٹیم کی کارکردگی یقینا بین الاقوامی ٹیموں کی حوصلہ افزائی کرے گی کہ وہ یہاں آکر میچ کھیلیں۔

نوجوانوں نے اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی ٹیم ہر لحاظ سے مبارک باد کی مستحق ہے کیونکہ اُس نے ”مصیبت سے ماری ہماری قوم کو خوشیاں دی ہیں“۔ایک سرکاری ملازم کا کہنا تھا کہ ”آئے روز ہم کبھی ڈرون حملوں کی تو کبھی (امریکی) ریمنڈ ڈیوس کے ہاتھوں دو پاکستانیوں کے قتل کی خبریں سنتے رہتے ہیں اور ایک طویل عرصے کے بعد ہمیں خوشی کی یہ خبر سننے کو ملی۔“

پاکستان میں بھارت کی کامیابی کی دعائیں

پاکستان میں بھارت کی کامیابی کی دعائیں

مارچ 2009ء میں سری لنکا کی ٹیم پر لاہور میں ہونے والے دہشت گرد حملے کے بعد سے پاکستان میں کوئی بھی بین الاقوامی میچ نہیں ہوسکا اور قومی ٹیم تب سے آج تک بیرون ملک ٹیسٹ میچ اور ایک روزہ میچ کھیلنے پر مجبور ہے اور پاکستانی شائقین اپنے کھلاڑیوں کو ہوم گراؤنڈ پر دیکھنے سے محروم ہیں۔ دسویں عالمی کپ کے میزبانوں میں پاکستان بھی شامل تھا لیکن سری لنکن کھلاڑیوں پر حملے کے بعد انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے یہاں میچ نا کھلانے کا اعلان کردیا۔

حالیہ چندبرسوں میں پاکستانی ٹیم سٹے بازی اور سپاٹ فکسنگ کے الزامات کی زد میں بھی رہی ہے اور انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے سٹے بازی میں ملوث ہونے کا الزام ثابت ہونے پر عالمی کپ سے چند روز قبل تین پاکستانی کھلاڑیوں ، سلمان بٹ، محمد آصف اور محمد عامر پر بالترتیب دس، سات اور پانچ سال کرکٹ کھیلنے پر پابندی بھی لگا دی۔

مزید برآں پاکستان کرکٹ بورڈ نے عالمی کپ سے صرف دس روز پہلے شاہد آفرید ی کو ٹیم کا کپتان بنانے کا اعلان کیا اوریو ں بھارت ، بنگلادیش اور سری لنکا کی مشترکہ میزبانی میں لڑی جانے والے کرکٹ کی اس عالمی جنگ سے پہلے پاکستانی ٹیم کئی طرح کے سنگین بحرانوں سے دوچار تھی۔

پاکستان میں بھارت کی کامیابی کی دعائیں

پاکستان میں بھارت کی کامیابی کی دعائیں

لیکن پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین اعجاز بٹ کا کہنا ہے کہ شاہد آفرید ی کی ٹیم نے قوم کے زخموں کو بھرنے میں بہت مدد کی ہے۔”ٹیم نے اب تک جس کھیل کا مظاہرہ کیا ہے وہ ایک عظیم کردار کی عکاسی ہے اور میر ی دعا ہے کہ پاکستان عالمی کپ جیتے کیونکہ پاکستان کی کرکٹ کے لیے یہ ایک شاندار پیش رفت ہوگی اور اس سے ملک میں بین الاقوامی کرکٹ کی بحالی میں مدد گار ثابت ہوگی۔ “

XS
SM
MD
LG