رسائی کے لنکس

شیخ زید اسٹیڈیم نومبر دو ہزارآٹھ کی یادیں تازہ کرنے کیلیے تیار


شیخ زید اسٹیڈیم نومبر دو ہزارآٹھ کی یادیں تازہ کرنے کیلیے تیار

شیخ زید اسٹیڈیم نومبر دو ہزارآٹھ کی یادیں تازہ کرنے کیلیے تیار

جنوبی افریقہ کے خلاف دوسرے ایک روزہ میچ میں عبدالرزاق کی دھواں دار سنچری نے تقریباً دو سال سے کسی سیریزمیں فتح کیلئے ترستی پاکستان کرکٹ ٹیم کے لئے امید کی ایک نئی کرن پیدا کر دی۔ گرین شرٹ نے 16 نومبر دو ہزار آٹھ کو ویسٹ انڈیز کے خلاف شیخ زید کے میدان پر ہی ویسٹ انڈیز کو تین ایک روزہ میچوں کی سیریزمیں کلین سوئپ کر کے سیریزاپنے نام کی تھی تاہم اس کے بعد دو ہزار نو اور دس میں پاکستان نے مختلف ممالک کے ساتھ چھ سیریزکھیلیں لیکن فتح ہمیشہ حریف ٹیم کے ہی حصے میں آئی ۔

سال دو ہزار نو کا سورج پاکستان کیلئے ایک روزہ کرکٹ میں ناکامیوں کاپیغام لے کر طلوع ہوا ۔اس سال پاکستان نے سری لنکا سے دو جبکہ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ سے ایک ، ایک ون ڈے سیریز میں حصہ لیا تاہم ہر بار شکست نے ہی اس کا استقبال کیا۔ چیمپئنرٹرافی کے سیمی فائنل میں نیوزی لینڈ بھی اسے میدان چھوڑنے پر مجبور کر چکی ہے جبکہ دو ہزار دس میں اس کا ٹکراؤ ون ڈے سیریز میں آسٹریلیا اور انگلینڈ سے ہوا لیکن نتائج دو ہزار نو سے مختلف نہ آسکے ۔ اس سال اسے ایشیا کپ میں بھارت اور سری لنکا کے ہاتھوں بھی شکست کا کڑوا گھونٹ پینا پڑا۔

پاکستان کرکٹ ٹیم کی مایوس کن کارکردگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس نے دو ہزار نو کے بعد سے اب تک 35 ایک روزہ میچوں میں سے صرف بارہ میں فتح حاصل کی جبکہ 23 میں اسے ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔ دو ہزار نو میں بیس ایک روزہ میچز کھیلے جن میں سے آٹھ میں اسے کامیابی حاصل ہوئی جبکہ بارہ میں اسے ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا ۔

سال دو ہزار دس میں اس کی حالت مزید خراب ہو گئی ،اب تک گرین شرٹ نے پندرہ میچوں میں حصہ لیا جن میں سے صرف چار میں اسے کامیابی ہوئی جبکہ گیارہ میں اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

گرین شرٹس کی شکستوں کا سلسلہ سال دو ہزار نو میں اس وقت شروع ہوا جب سری لنکن ٹیم دورہ پاکستان پر آئی ۔ تین ایک روزہ میچوں کی سیریزکا ابتدائی میچ 20 جنوری کو کھیلا گیا جس میں پاکستان کو آٹھ وکٹ سے کامیابی نصیب ہوئی تاہم 21 اور 24 جنوری کے میچوں میں سری لنکا نے بالترتیب کامیابی حاصل کر کے سیریزاپنے نام کر لی ۔اسی دوران تین مارچ کو لاہور میں سری لنکن ٹیم پر دہشت گردوں کے حملے نے پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کے دروازے بند کر دیئے ۔

سری لنکن ٹیم پر حملے کے بعد آسٹریلیا نے دورہ پاکستان منسوخ کر دیا جس کے بعدپاکستان نے ابوظہبی میں شیخ زید گراؤنڈ پر اپریل ، مئی دو ہزار نو میں اس کی میزبانی کی ۔ 22 اپریل کو شروع ہونے والی اس سیریزکے ابتدائی میچ میں پاکستان کو چار وکٹوں سے کامیابی نصیب ہوئی تاہم 24 ، 27 اپریل اوریکم مئی کے میچوں میں آسٹریلیا نے کامیابی سمیٹی ۔ 03 مئی کو آخری میچ میں پاکستان سات وکٹ سے جیت گیا تاہم سیریز آسٹریلیا پہلے ہی اپنے نام کر چکا تھا ۔

اگست دو ہزار نو میں پاکستا ن نے دورہ سری لنکا کے موقع پر پانچ ایک روزہ میچوں میں حصہ لیا ۔ 30 جولائی ، یکم اور تین اگست کو ہونے والے میچوں میں سری لنکا نے فتح حاصل کر کے سیریزپر اپنا حق جما یا جبکہ سات اور نو اگست کو ہونے والے میچوں میں پاکستان نے سری لنکا پر فتح پائی ۔

ستمبر ، اکتوبر دو ہزار نو میں ہونے والی آئی سی سی چیمپئنر ٹرافی میں 23 اور 26 ستمبر کو ہونے والے ابتدائی میچوں میں ویسٹ انڈیز اور بھارت کو شکست تو دی تاہم 30 ستمبر کو آسٹریلیا اس پر غالب رہا ، سیمی فائنل میں نیوزی لینڈ نے اسے مات دے دی ۔

سال دو ہزار نو کی آخری سیریز پاکستان نے کیویز کے خلاف نومبر میں شیخ زیدکے میدان میں کھیلی،تین نومبر کو ابتدائی میچ میں نیوزی لینڈ کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تاہم چھ اور نو نومبر کے میچوں میں گرین شرٹ پر فتح حاصل کر کے اس نے سیریزاپنے نام کر لی ۔

اس کے بعد سال دو ہزار دس گزشتہ سال سے زیادہ کٹھن ثابت ہوا ۔ جنوری میں پاکستانی ٹیم پانچ ایک روزہ میچوں کی سیریزکھیلنے کے لئے کینگروز کی زمین پر پہنچی تاہم22،24،26،29 اور31 جنوری کو کھیلے جانے والے پانچوں کے پانچوں میچوں میں شکست کا داغ سجائے اسے واپس وطن لوٹنا پڑا۔

جون دو ہزار دس میں ایشیا کپ میں پاکستان فائنل کی دوڑ سے پہلے ہی باہر ہو گیا ۔ 15 جون کو سری لنکا اور 19 جون کو بھارت سے شکست کھانے کے بعد آخری میچ میں بنگلہ دیش پر غالب آ گیا تاہم اب بہت دیر ہو چکی تھی ۔

ستمبر دو ہزار دس میں پاکستانی ٹیم نے انگلینڈ کا دورہ کیا لیکن اس بار شکست کے ساتھ ساتھ مختلف انواع و اقسام کے تنازعات بھی اس کے منتظر تھے ۔ لارڈز ٹیسٹ کے دوران اسپاٹ فکسنگ کے الزام میں فاسٹ بالرمحمد آصف ، محمد عامر اور سلمان بٹ کو معطل کر دیا اور وہ پانچ ایک روزہ میچوں کی سریز میں شرکت نہیں کر سکے ۔دس اور بارہ ستمبر کو کھیلے گئے ابتدائی دونوں میچوں میں انگلینڈ نے فتح پائی تاہم سترہ اور بیس تاریخ کا فیصلہ پاکستان کے حق میں رہا ۔ بائیس ستمبر کو انگلینڈ نے پاکستان کو شکست دے کر سیریز اپنے نام کر لی ۔

اب ایک مرتبہ پھر شیخ زید اسٹیڈیم میں پاکستانی ٹیم جنوبی افریقہ کی میزبانی کر رہی ہے اور پہلے میچ میں شکست کھانے کے بعد دوسرے میچ میں عبدالرزاق کی شاندار اننگز اور سنچری نے پاکستان کو فتح دلا دی ۔ عبدالرزاق کی اننگز سے ثابت ہوتا ہے کہ پاکستانی ٹیم میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں جب ایک کھلاڑی ایسے کھیل سکتا ہے تو سب اگر مشترکہ جدوجہد کریں تو شیخ زید کا میدان دسمبر دو ہزار کی خوشگوار یادیں تازہ کرنے کیلئے تیار ہے ۔

XS
SM
MD
LG