رسائی کے لنکس

کشور کمار کے 82 ویں جنم دن پر ان کی سدابہار یادیں


کشور کمار کے 82 ویں جنم دن پر ان کی سدابہار یادیں

کشور کمار کے 82 ویں جنم دن پر ان کی سدابہار یادیں

کشور کمار لیجنڈ تھے، ہندی گائیکی کے امر فنکار تھے، فن کی معراج تھے۔۔۔ان کے بارے میں ایسے کتنے ہی تعریفی کلمات کہے جاسکتے ہیں لیکن یہ سب الفاظ کشور کمار جیسے فنکار کے آگے بہت تھوڑے معلوم ہوتے ہیں ۔ شاید جہاں سے الفاظ کا ذخیرہ ختم محسوس ہوتا ہے وہیں سے کشور کمار جیسے سنگرز کی تعریف شروع ہوتی ہے۔ مختصرا ً یوں کہئے کہ کشور کمار ۔۔۔بس کشور کمار ہی تھے۔ زمانہ بدلہ کئی سنگر آئے اور گئے لیکن کشور کمار کی جگہ کسی نے نہیں لی۔۔۔اور یوں دنیا کو صرف ایک ہی کشور مل سکا۔

شائد بہت کم لوگ جانتے ہوں کہ کشور کمار کا اصل نام آبھاس کمار گنگولی تھا ۔ بنگلا زبان میں چھوٹے یا نابالغ بچے کو " کشور " کہتے ہیں جبکہ " دا" کے معنی بھائی کے ہیں۔چونکہ کشور چار بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹے اور سب کے چہیتے تھے لہذا سب انہیں " کشور دا " یعنی چھوٹا بھائی کہہ کر پکارتے تھے ۔ یوں پڑتے پڑتے ان کا نام "کشور کمار" یا "کشور دا" پڑ گیا۔ ان کے دونوں بڑے بھائی اشوک کمار اور انوپ کمار فلموں سے وابستہ تھے۔ تینوں بھائیوں کی ایک لاڈلی بہن بھی تھی جس کا نام ستی دیوی تھا۔
کشور کمار کے 82 ویں جنم دن پر ان کی سدابہار یادیں

کشور کمار کے 82 ویں جنم دن پر ان کی سدابہار یادیں

کشور کمار 4اگست 1929کو ریاست مدھیہ پردیس کے ایک چھوٹے سے علاقے کھنڈوا کے ایک بنگالی خاندان میں پیدا ہوئے تھے ۔ان کے والد پیشے کے اعتبار سے وکیل تھے جبکہ ماں اعلیٰ خاندان سے تعلق رکھتی تھیں ۔ انہوں نے میٹرک اپنے آبائی گاوٴں کھنڈوا سے ہی کیا تھا جبکہ گریجویشن کرسچن کالج اندور سے کیا ۔وہ ریاضی کے مضمون میں خاصے کمزور تھے مگر انہوں نے اس کا بھی نرالا حل نکال لیا تھا۔ وہ لے میں گاکر اپنا سبق یاد کرتے تھے ۔کالج کے زمانے میں وہ کینٹین سے پیسہ ادھار لے کر دوستوں کی دعوت کیا کرتے تھے، اسی کی یاد تازہ کرتے ہوئے انہوں نے اپنا ایک گانا بھی تخلیق کیا جو بہت کامیاب رہا ۔ گانے کے بول تھے "پانچ روپیہ بارہ آنا"

کشور کو شروع ہی سے موسیقی سے لگاوٴ تھا ۔ وہ کے ایل سہگل سے متاثر ہی نہیں تھے بلکہ ان جیسا گانے کی بھی کوشش کرتے تھے۔ مدھیہ پردیس میں 18 سال تک رہنے کے بعد کشور کمار کو ان کے بڑے بھائی اشوک کمار نے ممبئی بلالیا۔ اس وقت تک اشوک کمار فلموں کا ایک بڑا نام بن چکا تھا۔ اشوک کمار چاہتے تھے کہ کشور کمار اپنی زندگی کے سہانے سفر کی شروعات فلمی اداکار کے طور پر کریں کیوں کہ ان دنوں فلموں میں اداکاری کرنے والوں کو زیادہ پیسے ملتے تھے لیکن تقدیر کو کچھ اور ہی منظو ر تھا ۔ ایک دن ایس ڈی برمن اشوک کمار سے ملنے ان کے گھر آئے ہوئے تھے ابھی وہ بیٹھے ہی تھے کہ انہوں نے اشوک کمار کے گھر سے سہگل کی آواز سنائی دی۔

انہوں نے اشکوک سے پوچھا تو جواب ملا کہ چھوٹا بھائی کشور گارہا ہے اور وہ بھی باتھ روم میں۔ برمن صاحب دھیان سے سنتے رہے اور کشور کے باتھ روم سے باہر آنے کا انتظار کرتے رہے۔ جب کشور باہر نکلے تو انہوں نے کہا بہت اچھا گاتے ہو لیکن کسی کی نقل مت کرو۔ برمن صاحب کی اسی بات نے کشور کمار کو ایک نیا موڑ دیا۔ کم ہی لوگ جانتے ہیں کہ بعد میں کشور کمار نے ایس ڈی برمن کے لئے 112 گانے گائے اور ان کا یہ سفر کشور کی زندگی کے آخری دنوں تک جاری رہا۔

1958ء میں کشور کمار کو پہلی بار فلم میں اداکاری کرنے کا موقع ملا۔ فلم کا نام تھا" چلتی کا نام گاڑی"۔ یہ فلم ریلیز ہوئی تو تھیٹر میں لوگ دیکھنے کے لئے تو اشوک کو جاتے تھے لیکن لوٹتے وقت ان کے ذہن میں کشور کمار چھائے ہوئے ہوتے تھے۔ ابتدائی دور میں کشور کمار کی پہچان ایک مزاحیہ اداکار کے طور پر ہوئی تھی۔

"پڑوسن "جیسی فلمیں تو آج بھی لوگوں کے ذہن میں تازہ ہیں ۔ 1964ء میں" دور گگن کی چاوٴں میں "اور 1971ء میں فلم "دور کا راہی " کے بعد کشور دا کی مثالیں دی جانے لگیں۔ ادھر گلوکاری میں بھی ان کا سکا جمتا جارہا تھا ۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ کشور کمار نے کبھی بھی گائیکی کی باقاعدہ تربیت نہیں لی تھی۔اس دور میں جبکہ ہر طرف محمد رفیع اور منا ڈے کی گونج تھی کشور کمار کی آوارز کا جادو سب کو حیران کرگیا۔

اداکاری ، گلوکاری اور ہدایت کاری کے ساتھ ساتھ کشورکمار شاعری بھی کیا کرتے تھے اور اپنا نام" کوی کشور دا" رکھا ہوا تھا۔ انہوں نے چار شادیاں کیں۔ ان کی پہلی بیوی کانام روما گوہا ٹھاکر عرف رومی دیوی تھا۔یہ بنگالی اداکارہ تھیں لیکن کشور کی یہ شادی زیادہ دن نہ چل سکی اور دونوں میں علیحدگی ہوگئی۔ ان کی دوسری شادی مدھوبالا سے ہوئی جبکہ تیسری شادی 1976ء میں یوگیتا بالی سے ہوئی لیکن یہ شادی بھی کچھ ہی مہینے چل سکی ۔1980میں انہوں نے چوتھی شادی لینا چندرورکر سے کی۔ لینا بھی اس دور کی مشہور اداکارہ تھیں۔

کشور کی آواز آج برسوں بعد بھی لوگوں کو مدہوش کردیتی ہے۔ رومانس ہو یا "چھڑخانی" یا پھر درد، ہر رنگ سے سجی ان کی آوازاپنی مثال آپ تھی۔کشور نے اپنے دور کے ہر بڑے گلوکار ور گلوکارہ کے ساتھ گانے گائے جن میں لتا منگیشکر جیسی ماہر پلے بیک سنگر بھی شامل ہیں۔

"آدمی جو کہتا ہے" ،" بچنا اے حسینوں لو میں آگیا"، "آنے والا پل" اور" آ چل کے تجھے" ان کے تاپ فیورٹ گانے تھے۔ ان کے گائے ہوئے 27 گانوں کو فلم فیئر ایوارڈ کے لئے بھی نامزد کیاجاچکا ہے۔ وہ ایک کامیاب پینٹر اور آرٹسٹ بھی تھے۔ 13 اکتوبر 1987ء کوجبکہ اس دن اشوک کمار کا جنم دن ہوتا ہے، کشور کمار کو دل کا دورہ پڑاجو جان لیوا ثابت ہوا۔

XS
SM
MD
LG