رسائی کے لنکس

بھارت کی سپریم کورٹ نے پاکستانی شہری ڈاکٹر خلیل چشتی کو ان کے ملک جانے کی اجازت دیتے ہوئے کہا کہ انھیں یکم نومبر کو واپس آنا ہو گا۔

عدالت نے کہا کہ ڈاکٹر چشتی کو قتل کے مقدمے میں سنائی گئی سزا کے خلاف ان کی اپیل زیر التوا ہے اس لیے انھیں بھارت آنا ہو گا۔

بھارتی عدالت نے کہا کہ خلیل چشتی کو پاکستان جانے سے قبل پانچ لاکھ روپے زرِ ضمانت دینی ہو گی۔

بھارت کی سپریم کورٹ نے ملک میں 20 سال سے قید پاکستانی شہری کی ضمانت کی درخواست گزشتہ ماہ منظور کرتے ہوئے ان کی رہائی کے احکامات جاری کیے تھے۔

معروف سماجی کارکن انصار برنی نے بھارت کی عدالت میں ڈاکٹر چشتی کے لیے رحم کی اپیل دائر کی تھی جس میں یہ استدعا کی گئی تھی کہ ضعیف العمر پاکستانی ماہر تعلیم پروفیسر ڈاکٹر خلیل چشتی کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر رہا کیا جائے۔

ڈاکٹر چشتی جامعہ کراچی کے شعبہ مائیکرو بیالوجی سے وابستہ تھے اور مارچ 1992ء میں اپنی علیل والدہ کی تیمار داری کے لیے بھارتی شہر اجمیر شریف گئے جہاں خاندانی جھگڑے میں ایک شخص کی ہلاکت کے بعد اُنھیں دیگر افراد سمیت قتل کے الزام میں حراست میں لے لیا گیا۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG