رسائی کے لنکس

بھارت: کُندن کُلم جوہری تنصیبات کے خلاف احتجاج جاری

  • سہیل انجم

فائل

فائل

ایک حالیہ انٹرویو میں من موہن سنگھ نے الزام لگایا کہ امریکہ میں سرگرم کچھ غیر سرکاری تنظیمیں اِس تحریک کی مالی مدد کر رہی ہیں

بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ نے تامل ناڈو کے’ کُندن کُلم ‘ کی جوہری تنصیبات کے خلاف جاری احتجاجی تحریک میں پہلی بار ردِ عمل ظاہر کرتے ہوئے سخت انداز میں احتجاجی مظاہرین کو نشانہ بنایا ہے اور اُن کو حاصل ہونے والی مالی امداد پر سوال اٹھائے ہیں۔

اُنھوں نے ایک امریکی میگزین ’سائنس‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ کچھ غیر سرکاری تنظیمیں جو کہ امریکہ سے سرگرم ہیں اِس تحریک کی مالی مدد کر رہی ہیں۔ اُن کے بقول، یہ تنظیمیں نہیں چاہتیں کہ بھارت اپنی ضرورتوں کے لیے توانائی کی پیداوار میں اضافہ کرے، جس کی وجہ سے روسی امداد سے تیار جوہری پروگرام دشواریوں میں پڑ گیا ہے اور مقامی غیر سرکاری تنظیموں کی قیادت میں جاری احتجاج کے سبب 1000میگاواٹ جوہری پلانٹ کا کام تعطل کا شکار ہو گیا ہے۔

وزیرِ اعظم کےدفتر میں وزیر مملکت نارائن سوامی نے اُن کے بیان کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ نجی فنڈنگ کی اطلاعات ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ بھارت کی ’این جی اوز‘ کو امریکہ سےسرگرم نجی تنظیموں کی جانب سے ملنے والی امداد کے سلسلے میں دوسری رپورٹ موصول ہوئی ہے۔

تاہم، اِس کی ابھی جانچ چل رہی ہے کہ اُن کوجِس مقصد کے لیے پیسے مل رہے تھے وہ اُسی مد میں استعمال ہو رہے ہیں یا کسی دوسری مد میں۔ وزیر ِاعظم کے اِس بیان پر اپوزیشن بھارتیا جنتا پارٹی (بی جے پی) اور بعض نجی تنظیموں نے سخت اعتراض کیا ہے اور اُن سے وضاحت کا مطالبہ کیا ہے۔

ارون جیٹلی نے میڈیا سے بات چیت میں کہا کہ حکومت کو اِس سلسلے کے تمام حقائق عوام کے سامنے رکھنے چاہئیں تاکہ وہ جان سکیں کہ سچ کیا ہے۔

کُندن کُلم جوہری تنصیبات کے خلاف تحریک چلانے والے کارکنوں نےبھی شدید ردِ عمل ظاہر کیا ہے اور احتجاج کو خالص ملکی قرار دیا ہے۔ تحریک کے رابطہ کار ایس یو اُدے کمار نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ وزیر اعظم کے خلاف چارہ جوئی کے لیے قانونی صلاح و مشورہ کر رہے ہیں۔

XS
SM
MD
LG