رسائی کے لنکس

المالکی نے بدھ کے روز امریکی نائب صدر جو بائیڈن سے ملاقات کی، جنھوں نے عراق کے لیے امریکی حمایت کا اعادہ کیا

ایسے میں جب عراقی وزیر اعظم واشنگٹن میں اعلیٰ عہدے داروں سے ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کرنے والے ہیں، عراق میں تشدد کی کارروائیوں میں آنے والی تیزی سے نبردآزما ہونے کے سلسلے میں، لگتا یوں ہے کہ نوری المالکی کو امریکہ سے یقین دہانیاں ملنے لگی ہیں۔

المالکی نے بدھ کے روز امریکی نائب صدر جو بائیڈن سے ملاقات کی، جنھوں نے عراق کے لیے امریکی حمایت کا اعادہ کیا۔

جو بائیڈن کے بقول، ’ہم عراق کی سلامتی کے ساتھ ساتھ پائیدار ساجھے داری کو مضبوط کرنے کی حمایت کرتے ہیں‘۔

ملاقات کے بعد، ایک اعلیٰ امریکی اہل کار نے کہا کہ کچھ تاخیر کے باوجود، امریکہ اس بات کا خواہاں ہے کہ اگلے سال کے آخر تک عراق کو ایف 16جنگی طیاروں کی کھیپ موصول ہو جائے گی۔ حال ہی میں عراق اِن طیاروں کی خریداری کے لیے 65کروڑ ڈالر کی ادائگی کر چکا ہے۔

فرقہ وارانہ فسادات کے بڑھتے ہوئے واقعات کے نتیجے میں اس سال اب تک 7500اموات واقع ہو چکی ہیں۔

بدھ کی ملاقات سے قبل، ’دِی نیو یارک ٹائمز‘ میں شائع ہونے والے ایک اداریے میں، عراقی راہنما نے القاعدہ پر الزام لگایا کہ زور پکڑتا ہوا باغی گروپ فرقہ واریت کو ہوا دے کر اپنی دہشت گردانہ کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔

جمعے کے روز، مسٹر مالکی وائٹ ہاؤس میں صدر براک اوباما کے ساتھ بات چیت کریں گے، جہاں وہ عراق کی حربی صلاحیتوں کو تقویت دینے کے لیے مزید امداد کی فراہمی کے لیے کہیں گے۔

القاعدہ کے بارے میں تشویش کے باوجود، بااثر امریکی سینیٹر صدر اوباما کو خبردار ہونے پر زور دے رہے ہیں، یہ دلیل دیتے ہوئے کہ مسٹر مالکی کی قیادت ’عراق کی صورتِ حال میں بگاڑ‘ کا اہم سبب ہے۔

یہ سینیٹر، جِن میں جان مک کین، کارل لیون، رابرٹ مینڈیز اور لِنڈسی گراہم شامل ہیں، اُنھوں نے اپنے ایک مراسلے میں مسٹر اوباما کو لکھا ہے کہ سنیوں کو کمزور کرنے، کردوں کو اکیلا کرنے اور ایسے شیعہ حضرات کو بیگانہ کرنے کے لیے جو سب کو ساتھ لے کر عراق کو ایک جمہوری راہ پر چلانے کے خواستگار ہیں، عراقی لیڈر نے اکثر و بیشتر ’فرقہ وارانہ اور آمرانہ ایجنڈا‘ اختیار کیے رکھا ہے۔

اِن سینیٹروں نے صدر پر زور دیا ہے کہ مسٹر مالکی پر دباؤ ڈالا جائے کہ ملک کو مستحکم کرنے کے لیے وہ سیاسی اور سلامتی سے متعلق ایک واضح حکمت عملی سامنے لائی جائے۔

انسداد دہشت گردی کی حمایت کے لیے، اُنھوں نے عراق کی حمایت میں اضافے کا مطالبہ کیا ہے۔ تاہم، یہ اُس صورت میں کیا جانا چاہیئے جب مختلف فرقوں سے تعلق رکھنے والے عراقیوں کو متحد کے لیے ایک جامع منصوبہ اپنایا جائے۔

امریکی سینیٹروں نے اِن اطلاعات پر اپنی تشویش ظاہر کی کہ شام کو فوجی رسد فراہم کرنے کے لیے، ایران عراقی فضائی حدود کا استعمال کر رہا ہے۔

اِسی تشویش کا اظہار ایوان ِنمائندگان میں امور خارجہ کی کمیٹی کے ارکان نے بھی کیا ہے، جنھوں نے عراقی وزیر اعظم کو بھیجے گئے ایک مراسلے میں اس بات کا مطالبہ کیا ہے کہ عراق کو ایران سے پرواز کرنے والے تمام جہازوں کو نیچے اتارنا چاہیئے، جو عراق کی فضائی حدود کا استعمال کرتے ہیں۔
XS
SM
MD
LG