رسائی کے لنکس

عراق اب پہلے سے بہتر ملک ہے:جنرل (ر) مائرز

  • کوکب فرشوری

جنرل (ر) رچرڈ مائرز ‘خبروں سے آگے’ کو انٹرویو دیتے ہوئے

جنرل (ر) رچرڈ مائرز ‘خبروں سے آگے’ کو انٹرویو دیتے ہوئے

سنہ 2003 میں عراق پر امریکہ کے حملے کے وقت جنرل رچرڈ مائرز چیرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف تھے

امریکہ کے سابق چیرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل رچرڈ مائرز نے کہا ہےکہ عراق ماضی کے مقابلے میں آج ایک بہتر ملک ہے۔

اُن کے بقول، اگرچہ عراق کی صورتحال مکمل طور پر تسلی بخش نہیں ہے لیکن وہ ایک درست سمت میں آگے بڑھ رہا ہے۔

ریٹائرڈ جنرل مائرز نے یہ بات صدر براک اوباما کی جانب سے عراق سے امریکی افواج کے انخلا کے اعلان کے بعد وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔

سنہ 2003 میں عراق پر امریکہ کے حملے کے وقت جنرل رچرڈ مائرز چیرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف تھے۔

اِس سوال پر کہ کیا عراق پر حملے کے اہداف حاصل ہوئے ہیں، انونں نےبتایا کہ عراق پر حملے کے وقت اہداف یقیناًٍ کچھ اور تھے یعنی بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی برآمدگی۔ ‘لیکن ظاہر ہے کہ بعد میں اہداف بدل گےے، اور ہم نے دیکھا کہ عراق کو جمہوری معاشرہ بنانے اور فرقہ واریت سے نجات دلانے کی ضرورت ہے۔

اُن کے بقول، ‘ یقینا ً ابھی عراق میں صورتحال مکمل طور پر ٹھیک نہیں ہوئی، لیکن عراق ایک درست سمت میں آگے بڑھ رہا ہے اور وہ اپنے خطے کے لیے اب ایک بہتر ملک بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔’

گذشتہ روز صدر اوباما نے کہا کہ عراق سے امریکی فوجیوں کا انخلا اُن کے طے شدہ منصوبے کے تحت ہی ہوگا۔ پیر کو سابق امریکی فوجیوں کی ایک تنظیم سے خطاب کرتے ہوئے صدر اوباما نے کہا کہ وہ عراق سے فوج واپس بلانے کا اپنا وعدہ پورا کررہے ہیں۔

صدر اوباما کے الفاظ میں: ‘عہدہ صدارت سنبھالنے کے فوراً بعد میں نے عراق کے لیے نئی امریکی حکمتِ عملی اور تمام ذمہ داری عراقیوں کو منتقل کرنے کا اعلان کیا تھا۔ میں نے یہ واضح کردیا تھا کہ 31 اگست 2010 تک عراق میں لڑاکا مشن مکمل کرلیے جائیں گے۔’

صدر اوباما نے کہا کہ اگست کے اختتام تک 90 ہزارامریکی فوجی وطن واپس آجائیں گے۔صدر اوباما نے کہا کہ اب عراق میں امریکہ کی توجہ عراقی سکوترٹی فورسز کو دہشت گردی سے لڑنے کی تربیت دینے پر ہوگی۔

صدر اوباما نے اپنی تقریر میں افغانستان کا بھی ذکر کیا جہاں امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کے اعتبار سے جولائی بدترین مہینہ رہا۔ صدر کے بقول، ‘اِس خطے میں یا کہیں اور، ہم القاعدہ اور اسکے انتہاپسند اتحادیوں کے محفوظ ٹھکانوں کو برادشت نہیں کریں گے۔ہم ان کے ٹھکانوں کو تباہ کردیں گے اور القاعدہ کو شکست دیں گے۔ ’

عراق کی جنگ کے ناقدین کا کہنا ہے کہ عراق پر امریکہ کے حملے کی وجہ سے امریکہ کی توجہ القاعدہ اور افغانستان سے ہٹ گئی جس سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جاری بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچا۔

مائک اوہانلن، بروکنگز انسٹی ٹیوشن سے وابستہ ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ عراق کی جنگ کی وجہ سے کسی حد تک تو امریکہ کے وسائل منقسم ہوئے لیکن یہ کہنا بہت مشکل ہے کہ اگر امریکہ عراق پر حملہ نہ کرتا تو ہم اسامہ بن لادن کو پکڑنے میں کامیاب ہوجاتے ، کیونکہ اسامہ کو پکڑنے کا سب سے اچھا موقع ہمیں تورا بورا میں ملا تھا اور اُس وقت تک عراق کی جنگ شروع نہیں ہوئی تھی۔ عراق کی جنگ کی غیر مقبولیت نے امریکہ کے امیج کو ضرور متاثر کیا اور اس سے یقینا ً دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہمیں مدد نہیں ملی۔’

صدر اوباما نے کہا کہ عراق کے لیے امریکی پالیسی کے حوالے سے مختلف آراء تو یقینا ً موجود ہیں لیکن اِس بارے میں کوئی اختلافِ رائے نہیں ہے کہ عراق میں تعینات امریکیوں کی ضروریات کو پورا کرنا ہماری اولین ترجیح ہونی چاہیئے۔

XS
SM
MD
LG