رسائی کے لنکس

لیبیا: سرکاری افواج کی جانب سے بن غازی پر بڑے حملے کی تیاری


لیبیا: سرکاری افواج کی جانب سے بن غازی پر بڑے حملے کی تیاری

لیبیا: سرکاری افواج کی جانب سے بن غازی پر بڑے حملے کی تیاری

لیبیا کے صدر معمر قذافی کی وفادار افواج کی جانب سے باغیوں کے زیرِقبضہ ملک کے مغربی اور مشرقی علاقوں پر بمباری کا سلسلہ بدھ کے روز بھی جاری رہا ۔ ادھر سرکاری افواج سے مقابلے کیلیے باغیوں کی جانب سے اپنے زیِرقبضہ اہم شہر "بن غازی" کے نزدیکی قصبے "اجدابیہ" میں مورچہ بندی کی جارہی ہے۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ صدر قذافی کے مخالف گروپوں سے تعلق رکھنے والے جنگجو سرکاری افواج کی "بن غازی" تک رسائی روکنے کی غرض سے "اجدابیہ" کے مشرقی علاقوں میں مورچہ بند ہورہے ہیں۔

سرکاری افواج کی جانب سے "اجدابیہ" پر بمباری کا سلسلہ جاری ہے اور حکام نے گزشتہ روز شہر کا قبضہ باغیوں سے چھین لینے کا دعویٰ بھی کیا تھا۔

ادھر معمر قذافی کے بیٹے سیف الاسلام قذافی نے اعلان کیا ہے کہ لڑائی اب باغیوں کے زیرِقبضہ اہم ترین شہر "بن غازی" کی طرف بڑھ رہی ہے اور شہر کی قسمت کا فیصلہ ہونے میں ان کے بقول کئی دن لگ سکتے ہیں۔

لیبیا کے سرکاری ٹی وی پہ نشر ہونے والے ایک پیغام میں "بن غازی" کے شہریوں کو سرکاری افواج کی آمد کی 'خوشخبری' دی گئی ہے ۔ سرکاری ٹی وی کے بقول افواج شہر کے رہائشیوں کی "سلامتی یقینی بنانے، ان کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کے ازالے، اور شہر میں امن و امان اور معمولاتِ زندگی کی بحالی" کیلیے جلد پہنچنے والی ہیں۔

"بن غازی" کا انتظام سنبھالنے والے حزبِ مخالف کے رہنمائوں کا کہنا ہے کہ شہر سرکاری افواج کے حملے کے مقابلے کیلیے تیار ہے۔

ادھر دارالحکومت تریپولی میں صدر قذافی کے حامیوں نے ان کے حق میں ایک بڑی ریلی نکالی ہے جس سے دارالحکومت کی ایک فوجی چھائونی میں مقیم صدر قذافی نے بھی خطاب کیا۔

اپنے خطاب میں لیبیا کے حکمران نے باغیوں ا ور غیر ملکی میڈیا پر لیبیا کے حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کا الزام لگایا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اس سے قبل بھی بغاوتوں کا سامنا کر چکے ہیں تاہم ان کے بقول اس بار ان کے مخالفین میڈیا کا سہارا لے کر دنیا کے سامنے حقائق کے برخلاف تصویر پیش کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میڈیا لیبیا میں مظاہروں اور ان پر فورسز کی فائرنگ کی خبریں دے رہا ہے جبکہ یہاں ایسا کچھ نہیں ہورہا۔

ادھر باغیوں کے زیرِقبضہ لیبیا کے مغربی شہر "مسراطہ" کے شہریوں کا کہنا ہے کہ سرکاری افواج ٹینکوں اور توپ خانے کی مدد سے شہر پر بمباری کررہی ہیں جس سے کئی افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

لیبیا کی سرکاری افواج اور باغیوں کی جانب سے فتح کے متضاد دعویٰ کیے جارہے ہیں۔ ملک کے سابق وزیرِداخلہ اور اب باغیوں کے ایک اہم گروپ کی قیادت کرنے والے عبدالفتاح یونس نے عرب ٹی وی چینل "العریبیہ" کو بتایا ہے کہ ان کی فورسز نے "صدر قذافی کی حامی افواج کے کئی درجن اہلکاروں کو ہلاک اور گرفتار کرلیا ہے جبکہ دیگر اہلکار علاقے سے فرار ہوگئے ہیں"۔

ادھر سیف الاسلام قذافی نے "یورو نیوز" سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ باغی مصری سرحد کی طرف فرار ہورہے ہیں، تاہم ان کے بقول سرکاری افواج فرار ہوتے باغیوں کے خلاف کسی قسم کی انتقامی کاروائی نہیں کررہی ہیں۔

XS
SM
MD
LG