رسائی کے لنکس

فرانس کے لیبیا میں نمایاں کردار پر ترکی کی تشویش

  • ڈوریان جونز

فرانس کے لیبیا میں نمایاں کردار پر ترکی کی تشویش

فرانس کے لیبیا میں نمایاں کردار پر ترکی کی تشویش

ترکی کے وزیرِ اعظم نے لیبیا میں جاری فوجی کارروائی کی شدت پر تنقید کی ہے ۔ اس دوران ایسی تجاویز بھی دی جا رہی ہیں کہ اس آپریشن کا کنٹرول نیٹو کو منتقل کر دیا جائے ۔ اس بارے میں سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ کیا ترکی، جو نیٹو کا رکن ہے، اس قسم کی تجویز کو قبول کرے گا۔

ترکی کے وزیرِ اعظم رجب طیب اردگان نے پارلیمینٹ کے ارکان کے سامنے اپنی ہفتہ وار تقریر میں لیبیا پر مغربی ملکوں کے ہوائی حملوں کو اپنی تنقید کا نشانہ بنایا ۔ انھوں نے اس بات پر شک کا اظہار کیا کہ ان حملوں کا محرک انسان دوستی ہے۔ انھوں نے کہا کہ لیبیا اور بعض دوسرے ملک سمجھتے ہیں کہ یہ کارروائی مغرب کی طرف سے مداخلت ہے اور تیل کے حصول اور منافع کمانے کے لیئے ہے ۔ انھوں نے کہا کہ ترکی ان ملکوں کا ساتھ نہیں دے گا جن کی توپوں کا رُخ لیبیا کی طرف ہے۔

مسٹر اردگان لیبیا کے لیڈر معمر قذافی کے خلاف عوامی ہنگامے شروع ہونے کے بعد ہی سے کسی بھی قسم کی مداخلت کے خلاف رہے ہیں۔ چند روز پہلے تک، انھوں نے اپنے مغربی اتحادیوں کے اس مطالبے کی تائید کرنے سے انکار کردیا تھا کہ مسٹر قذافی اقتدار چھوڑ دیں۔اس قسم کا رویہ ترکی میں پسند کیا جاتا ہے جہاں کے لوگ مغربی ملکوں کی طرف سے مسلمان ملکوں میں فوجی مداخلت کو شک و شبے کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ ترک روزنامے میلیت کے سفارتی نامہ نگارسمیع ادزکہتے ہیں ’’اردگان کی کوشش یہ ہے کہ انتخاب کے سال میں وہ اپنی ذاتی رائے اور مختلف تنظیموں کے درمیان جن کا ترکی رکن ہے یا رکن بننا چاہتا ہے، توازن قائم رکھیں۔ یہ ایک نازک سا توازن قائم رکھنے کی کوشش ہے، لیکن اصل با ت یہ ہے کہ ترکی کُھل کر نیٹو سے کہے کہ وہ اس کارروائی میں حصہ نہیں لے گا۔‘‘

اپنی منگل، 22 مارچ کی تقریر میں، مسٹر اردگان نے اس طرف اشارہ دیا کہ ترکی، نیٹو کو لیبیا کے فوجی آپریشن کا کنٹرول سنبھالنے سے روکنے کے لیئے اپنا ویٹو استعمال کر سکتا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ اس قسم کی کارروائی کی قیادت صرف اقوامِ متحدہ کو کرنی چاہیئے ۔

ترکی کی وزارتِ خارجہ کے عہدے دارسلیم یینال کہتے ہیں کہ لیبیا میں فوجی کارروائیوں کی قیادت اگر نیٹو کے پاس ہوتی توان میں ترکی کی رائے بھی شامل ہوتی کہ یہ آپریشن کس طرح چلنا چاہیئے۔ یینل کہتے ہیں کہ یہی وجہ ہے کہ لیبیا پر ہوائی حملوں سے پہلے گذشتہ ہفتے پیرس میں جو سربراہ کانفرنس ہوئی، اس میں فرانس کے صدر نکولس سرکوزی نے ترکی کو مدعو نہیں کیا۔’’ہمیں اس فیصلے پر بڑی حیرت ہوئی۔ شاید فرانسیسیوں نے سوچا کہ ہم انہیں کارروائی شروع کرنے سے روک دیں گے۔ فرانس نے نیٹو میں منصوبہ بندی کی مخالفت کی تھی۔ لہٰذا ہمیں کچھ نہیں معلوم کہ اتحاد کیا کر رہا ہے۔ ہمیں اس معاملے سے دور رکھا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے خیال میں اس معاملے کی ذمہ داری نیٹو کو سونپ دی جانی چاہیئے۔‘‘

سفارتی نامہ نگار ادزکہتے ہیں کہ حملوں میں فرانس نے جو نمایاں کردار ادا کیا ہے اس پر خاص طور سے ترکی چراغ پا ہو گیا ہے۔ صدر سرکوزی کی طرف سے یورپی یونین میں ترکی کی رکنیت کی شد و مد سے مخالفت کی وجہ سے تعلقات میں جو سرد مہری آئی ہے، اس میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ ’’اردگان اور سرکوزی کے درمیان جو ذاتی مخاصمت ہے، اس کی روشنی میں آج کل دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں کوئی نرم گوشہ نظر نہیں آتا۔ایسا لگتا ہے کہ لیبیا کے معاملے میں فرانس اور ترکی کے درمیان ایک طرح سے دوڑ لگی ہوئی تھی ۔ فرانس ترکی سے آگے نکل گیا اور ترکی کو اس کا ملال ہے۔‘‘

لیکن Bahcesehir University کے پروفیسر چنگیز اختر کہتے ہیں کہ اس قسم کی رقابت میں خطرہ یہ ہے کہ اہم مسائل نظروں سے اوجھل ہو سکتے ہیں۔’’اردگان سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ بین الاقوامی مداخلت کے اس لیئے خلاف ہیں کیوں کہ وہ سرکوزی سے ناراض ہیں۔ یہ تو کوئی بات نہ ہوئی۔ بین الاقوامی تعلقات میں ، اس قسم کے غصے سے کام نہیں چلتا۔ آپ کو اپنے ملک کا مفاد یا عام لوگوں کی حفاظت اور سلامتی کو مد نظر رکھنا ہوتا ہے۔‘‘

یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ مسٹر اردگان اور مسٹر سرکوزی نے ایک دوسرے کی مخالفت کی ہے ۔ لیکن لیبیا کا بحران سنگین سے سنگین تر ہوتا جا رہا ہے، اور اس قسم کی رقابت کے دور رس نتائج بر آمد ہو سکتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG