رسائی کے لنکس

محققین نے کہا کہ شادی شدہ جوڑوں میں دیکھ بھال، مدد یا پھر خودمختاری کے لیے زیادہ توقعات نے ازدواجی اطمینان کو بڑھایا تھا لیکن، صرف مضبوط شادیوں میں۔

لوگ اپنی شادیوں سے کتنی توقع کرتے ہیں اور ان میں ان شادیوں سے کتنا کچھ حاصل کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے اس حوالے سے ایک نئی تحقیق بتاتی ہے کہ شادی سے بہت زیادہ مطالبہ کرنے سے لوگوں کے ازدواجی تعلقات یا تو بن جاتے ہیں یا پھر ٹوٹ جاتے ہیں۔

نیا مطالعہ 'پرسنالٹی اینڈ سوشل سائیکولوجی بلیٹن' کے اپریل کے شمارے میں شامل ہے جس میں محققین اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ازدواجی رشتے میں زیادہ توقعات اس وقت صرف ایک مسئلہ بن کر رہ جاتی ہیں اگر، شادی ابتداء سے مضبوط نہیں ہے۔

محققین نے کہا کہ شادی شدہ جوڑوں میں دیکھ بھال، مدد یا پھر خودمختاری کے لیے زیادہ توقعات نے ازدواجی اطمینان کو بڑھایا تھا لیکن، صرف مضبوط شادیوں میں۔

لیکن دوسری طرف کمزور شادیوں میں مثلاً ایسے جوڑے جو ایک دوسرے کے ساتھ بالواسطہ دشمنی یا زیادہ سنگین مسائل کا سامنا کر رہے تھے، وہاں یہ بلند توقعات رشتوں کے لیے تباہ کن ثابت ہوئی تھیں۔

تحقیق کے لیے محققین نے 135 نوبیاہتا جوڑوں کے اعدادوشمار کا استعمال کیا، جو امریکی ریاست ٹینیسی میں رہتے تھے۔

تحقیق کے آغاز میں شرکاء نے ایک سوالنامے کے جوابات دیے اور بتایا کہ کیا ان کی توقعات اور ضروریات کو ان کے ساتھی پورا کر رہے ہیں اور ان کی مخصوص توقعات کیا ہیں۔

جس کے بعد محققین نے ان جوڑوں کی چار سال تک پیروی کی اور ہر چھ ماہ بعد ان کے تعلقات کا جائزہ لیا کہ وہ کس حد تک اپنی شادی شدہ زندگی سے مطمئن ہیں۔

جیسے جیسے شادی پرانی ہوتی گئی ایسے جوڑے جنھوں نے شروع میں اپنے رشتے کو مضبوط بتایا تھا اور جو ایک دوسرے کے لیے مثبت طرز عمل رکھتے تھے ان میں زیادہ توقعات کو اعلیٰ ازدواجی اطمینان کے ساتھ منسلک کیا گیا۔

لیکن ایسے جوڑے جن کا ایک دوسرے کے ساتھ جارحانہ رویہ تھا ان میں بلند توقعات کو ازدواجی زندگی کے کم اطمینان کے ساتھ منسلک کیا گیا۔

تحقیق کے مصنف فلوریڈا یونیورسٹی سے منسلک ماہر نفسیات ڈاکٹر جیمز میک نولٹی نے کہا کہ کچھ لوگ اپنی شادی سے بہت زیادہ مطالبہ کرتے ہیں کیونکہ وہ ان ضروریات کو پورا کرنے کا تقاضا کر رہے ہوتے ہیں جن کو وہ خود وقت اور توانائی کی کمی ہے یا پھر محدود مہارت کی وجہ سے پورا کرنے کے قابل نہیں ہوتے ہیں۔

لیکن کچھ دوسرے لوگوں نے اپنی شادیوں سے بہت کم مطالبہ کیا تھا۔

انھوں نے کہا کہ ایسے لوگوں کی شادیاں ان کی ذاتی تکمیل کے لیے تھیں اور وہ استحصال نہیں کر رہے تھے۔

محقق میک نولٹی کے مطابق ''شادی شدہ جوڑوں کے درمیان جب بات زبانی جھگڑوں کی آتی ہے تو ایسی صورت میں بالواسطہ دشمنی براہ راست دشمنی سے زیادہ تباہ کن ہے''۔

جیسا کہ ہمارے نتائج سے ظاہر ہوا کہ براہ راست دشمنی مثلاً ساتھی کو کسی مسئلے کا مورد الزام ٹھہرانے یا اس سے تبدیل ہونے کا مطالبہ کرنے سے، کچھ جوڑوں کے لیے اہم فوائد حاصل ہوئے تھے خاص طور پر ان جوڑوں میں جنھیں تبدیل ہونے کی ضرورت تھی۔

ڈاکٹر جیمز میک نولٹی کہتے ہیں کہ ''ہر ایک شادی مختلف ہوتی ہے، لوگ اپنی صلاحیتوں اپنی قابلیتوں میں مختلف ہوتے ہیں اور بیرونی مسائل جن کا انھیں سامنا ہوتا ہے وہ بھی مختلف ہوتے ہیں اور یہ تمام عوامل اس بات کا تعین کرنے میں ایک اہم کردار ادا کرتے ہیں کہ شادی کتنی کامیاب ثابت ہو گی اور لوگوں کو اس شادی سے کتنا مطالبہ کرنا چاہیئے''۔

محقق جیمز میک نولٹی نے کہا کہ نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ لوگوں کو شادی کرنے سے پہلے اس کے بارے میں کچھ اندازا لگانے کی ضرورت ہے کہ وہ اس شادی سے کیا حاصل کر سکتے ہیں۔

جبکہ ان کا کہنا تھا کہ شادی شدہ جوڑوں کو اپنی طاقت اور کمزوریوں کا احساس ہونا چاہیئے اور اسی کے مطابق اپنی توقعات کو لگام دینی چاہیئے۔

XS
SM
MD
LG