رسائی کے لنکس

ہفتے کو ویانا میں عہدے داروں نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ تعزیرات میں نرمی سے متعلق ابتدائی سمجھوتا طے ہوگیا ہے۔ تاہم، امریکی انتظامیہ کے ایک اعلیٰ اہل کار نے متنبہ کیا ہے کہ ابھی وزراٴ کی جانب سے اس کی منظوری آنا باقی ہے

ایران کے جوہری پروگرام پر جاری مذاکرات اتوار کے دِن نازک مرحلے میں داخل ہو جائیں گے، ایسے میں جب اہل کاروں نے تنازع کے دو کلیدی معاملوں پر پیش رفت کی اطلاع دی ہے۔ وہ ہیں: تعزیرات میں نرمی کی رفتار اور ایران کی جوہری اور فوجی تنصیبات کا معائنہ۔

اتوار کو جب چھ عالمی طاقتوں کے مذاکرات کار ویانا واپس لوٹیں گے، اُس سے قبل ماہرین اس کوشش میں ہیں کہ جتنے زیادہ معاملات طے ہوسکیں، کیے جائیں، تاکہ 7 جولائی کی خودساختہ حتمی تاریخ تک ایک مربوط سمجھوتے کو آخری شکل دی جاسکے۔

ہفتے کو ویانا میں عہدے داروں نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ تعزیرات میں نرمی سے متعلق ابتدائی سمجھوتا طے ہوگیا ہے۔ تاہم، امریکی انتظامیہ کے ایک اعلیٰ اہل کار نے متنبہ کیا ہے کہ ابھی وزراٴ کی جانب سے اس کی منظوری آنا باقی ہے۔

امریکی اہل کار نے بتایا کہ ’اگر ماہرین کی سطح پر کوئی معاملہ طے ہو بھی جائے، تب بھی کچھ ایسی باریکیاں باقی رہتی ہیں جن کے بارے میں وزرا ہی فیصلہ کر سکتے ہیں‘۔

ہفتے کی شام گئے، امریکی وزیر خارجہ جان کیری اور ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف کی ایک گھنٹے تک ملاقات ہوئی۔ لیکن، اُنھوں نے کوئی بیان جاری نہیں کیا۔

دریں اثنا، جوہری توانائی کی سرگرمیوں پر نظرداری پر مامور بین الاقوامی ادارے نے ایک متنازع سوال پر ممکنہ پیش رفت کا اظہار کیا ہے، جب کہ مغربی ممالک مربوط حتمی سمجھوتے تک پہنچنے سے پہلے ایران کی ماضی کی جوہری سرگرمیوں کے بارے میں انکشاف کا مطالبہ کرتی رہی ہیں۔

جوہری توانائی کے بین الاقوامی ادارے کے سربراہ، یوکیا امانو نے اخباری نمائندوں کو بتایا ہے کہ ’ایران کے تعاون کے ساتھ‘، اُنھیں یہ توقع ہے کہ اُن کی ٹیم اگلے چھ ماہ کے اندر اندر وہ رپورٹ تیار کر لے گی، جس میں ایران کے ایٹمی پروگرام کے ممکنہ فوجی مضمرات کی وضاحت شامل ہوگی۔

مغربی ممالک سمجھتے ہیں کہ ایران نے ایٹمی ہتھیاربنانے کی ٹیکنالوجی حاصل کر لی ہے، جس سے ایران انکار کرتا ہے۔

امانو نے کہا ہے کہ جمعرات کو ایران کا دورے میں اُنھوں نے پیش رفت دیکھی ہے، تاہم مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔

سارے فریق یہ کہتے ہیں کہ سمجھوتا طے ہونے کے قریب ہے۔ لیکن، ابھی متعدد معاملے طے ہونا باقی ہیں، جن میں سے ایک ’آئی اے اِی اے‘ کی جانب سے ایران کے جوہری پروگرام کے ممکنہ فوجی مقاصد کی چھان بین کا معاملہ ہے۔

XS
SM
MD
LG