رسائی کے لنکس

اسرائیل پر میزائل داغنا بند کیے جائیں اور اسرائیل جنگ میں شدت لانے سے احتراز کرے : اوباما


امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ اسرائیل اور فلسطینی تشدد پسند گروپ حماس کے درمیان حالیہ لڑائی کے معاملے کے حل کے سلسلے میں آغاز کےطور پر ضروری ہے کہ عسکریت پسند اسرائیلی علاقے میں مزید میزائل داغنا بند کردیں۔

مسٹر اوباما نے یہ بیان اتوار کے روز تھائی لینڈ کے دارالحکومت بینکاک کے دورے کے دوران دیا۔

امریکہ کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے، اُنھوں نے کہا کہ، اُن کے بقول، اسرائیل کو غزہ سے اُس کے عوام کے گھروں پر داغے جانے والے میزائلوں کے خلاف دفاع کا حق حاصل ہے۔

مسٹر اوباما نے یہ بھی کہا کہ مناسب ہوگا کہ میزائل داغنا بند کیے جائیں, جب کہ اسرائیل غزہ کے شدت پسندوں کے خلاف پانچ روز سے جاری فضائی اور بحری کارروائی میں شدت لانے سے احتراز کرے۔ اُنھوں نے کہا کہ اِس ہدف کے حصول کے لیے اُنھوں نے حالیہ دنوں کے دوران اسرائیل، مصر اور ترکی کے راہنماؤں سے متعدد بار گفتگو کی ہے۔

اسرائیل نے اتوار کے دِن غزہ میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر مزید فضائی حملے جاری رکھے، جب کہ شدت پسندوں نے مزید راکٹ داغے جن میں سےدو اسرائیل کے تجارتی مرکز تل ابیب جا گرے، جس کے باعث آج چوتھے روز بھی شہر میں فضائی حملے کے سائرن بجتے رہے۔ اسرائیل کے میزائل شکن ’آئرن ڈوم’ نظام نے راکٹوں کو فضا میں ہی ناکارہ بنانے کا کام جاری رکھا۔

غزہ کے حکام نے بتایا ہے کہ اسرائیلی کارروائی کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد کم از کم 53ہوگئی ہے، جس میں فلسطینی شدت پسند اور شہری بھی شامل ہیں۔ فلسطینی راکٹ حملوں میں کم از کم تین اسرائیلی شہری ہلاک ہوئے۔

اسرائیلی وزیر اعظم بینجامن نتن یاہو نے اتوار کے روز کہا کہ وہ غزہ میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کو وسعت دینے پر تیار ہیں۔ اُن کی حکومت نے زمینی حملے کے ذریعے ممکنہ طور پر حماس کی حکمرانی والے علاقے کو فتح کرنے کی غرض سے ہزاروں فوجیوں کو غزہ کی سرحد پر تعینات کر لیا ہے۔

غزہ میں طب سے متعلق عہدے داروں نے بتایا ہے کہ اتوار کو اسرائیلی جنگی طیاروں کے حملوں میں کم از کم چھ افراد ہلاک ہوئے جن میں متعدد بچے بھی شامل ہیں۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG