رسائی کے لنکس

اورکزئی ایجنسی میں شدت پسندوں کے خلاف دوسری مرتبہ کامیابی کا دعویٰ


اورکزئی ایجنسی میں شدت پسندوں کے خلاف دوسری مرتبہ کامیابی کا دعویٰ

اورکزئی ایجنسی میں شدت پسندوں کے خلاف دوسری مرتبہ کامیابی کا دعویٰ

اورکزئی ایجنسی میں فرنٹیئرکور کی سربراہی میں مارچ میں فوجی آپریشن شروع کیا گیا تھا اور تقریباََ تین ماہ کی کارروائیوں کے بعد جون میں فوج نے اس آپریشن کو کامیاب قراردیتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ علاقے میں محض چند مقامات پر عسکریت پسندوں کے ٹھکانے رہ گئے ہیں ۔

لیکن فوج کے اس اعلان کے چند روز گزرنے کے بعد اورکزئی میں ایک بار پھر سکیورٹی فورسز اور مشتبہ طالبان جنگجوؤں کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات آنے لگیں جس میں حکام نے بیسیوں شدت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا جبکہ اس دوران پاکستانی سکیورٹی فورسز کو بھی جانی نقصان اٹھانا پڑا۔

منگل کو فوجی حکام نے اورکزئی میں صحافیوں کے ایک گروپ کو آپریشن کی تازہ ترین تفصیلات بتاتے ہوئے ایک بار پھر کہا کہ اس قبائلی علاقے کے نوے فیصد حصے کو شدت پسندوں سے صاف کر الیا گیا ہے اور اس لڑائی میں مجموعی طور پر ساڑھے چھ سوسے زائد عسکریت پسندو ں کو ہلاک جبکہ اڑھا ئی سو کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

میجر جنرل نادر زیب

میجر جنرل نادر زیب

ہلاک اور گرفتار کیے گئے افراد مقامی جنگجو بتائے گئے ہیں جبکہ حکام نے لڑائی میں لگ بھگ ستر فوجی اہلکاروں کی ہلاکت کی بھی تصدیق کی۔ اس موقع پر صحافیو ں سے گفتگو کرتے ہوئے فرنٹیئر کور کے سربراہ نادر زیب نے صحافیو ں کو بتایا کہ اورکزئی آپریشن کی سست رفتار کی وجہ اس بات کو یقینی بنانا تھا کہ لڑائی میں عام شہریوں کو نقصان نہ پہنچے ۔ انھوں نے کہا کہ اس فوجی کارروائی کو مکمل کرنے کے لیے اب بھی مزید وقت درکار ہے کیونکہ اورکزئی سے جڑے دوسرے قبائلی علاقوں میں جنگجوؤں کے ٹھکانے اب بھی موجود ہیں۔

انھوں نے کہا کہ حکام کواورکزئی میں القاعدہ کے جنگجوؤں کی موجودگی کی اطلاعات ملی تھیں لیکن لڑائی کے دوران کسی غیر ملکی کی ہلاکت یا گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔آئی جی ایف سی کے بقول لوئر اورکزئی کو مکمل طور پر شدت پسندوں سے صاف کرا لیا گیا ہے۔

XS
SM
MD
LG