رسائی کے لنکس

سیلاب زدہ علاقے خوراک کی قلت کا شکار، عالمی ادارہ خوراک

  • ن ہ

سیلاب زدہ علاقے خوراک کی قلت کا شکار، عالمی ادارہ خوراک

سیلاب زدہ علاقے خوراک کی قلت کا شکار، عالمی ادارہ خوراک

بڑے پیمانے پر زرعی زمینوں کے زیر آب آنے سے لوگ فصلیں کاشت کرنے سے محروم ہو چکے ہیں جس سے آنے والے دنوں میں خوراک کا بحران اور بھی سنگین ہو جائے گا کیونکہ متاثرہ علاقوں میں طالبان کے خلاف فوجی کارروائیوں کے باعث خوراک کی صورت حال پہلے ہی تشویش ناک تھی۔

عالمی ادارہ برائے خوراک نے کہا ہے کہ پاکستان میں سیلاب سے متاثرہ بعض شمال مغربی علاقے خوراک کی شدید قلت کا شکار ہو رہے ہیں ۔

ڈبلیو ایف پی کے ایک ترجمان امجد جمال نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ عالمی تنظیم کی درخواست پر حکومت ِ پاکستان نے ادارے کو چھ ہیلی کاپٹر فراہم کیے جن کے ذریعے بدھ کے روز سے سیلاب سے متاثرہ وادی سوات سمیت مالاکنڈ ڈویژن کے اُن بالائی علاقوں میں خوراک کی فراہمی شروع کر دی گئی جن کا ملک کے دوسرے حصوں سے زمینی رابطہ ٹوٹا ہو ا ہے۔

امجد جمال

امجد جمال

امجد جمال نے بتایا کہ ڈبلیوایف پی کے مطابق سیلاب متاثرہ تقریباً 18لاکھ افراد ایسے ہیں جنہیں خوراک کی قلت کا سامنا ہے اور اُن کاادارہ ایسے لوگوں کو آئندہ دو سے تین مہینے تک خوراک فراہم کرے گا۔ اُنھوں نے بتایا کہ گذشتہ تین روزسے موسم بہتر ہونے کے بعد اب اُن کے ادارے کی امدادی سرگرمیوں میں تیزی آئی ہے۔

” صورت حال کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ پانچ یا چھ دنوں کے دوران سیلاب سے ہونی والی تباہی کے باعث لوگ کھانے پینے کی اشیاء سے محروم ہو چکے ہیں، بازار وں میں دکانیں منہدم ہو چکی ہیں، مواصلاتی رابطے اور سڑکیں ٹوٹنے سے پچھلے ایک ہفتے سے انھیں خوراک نہیں پہنچائی جا سکی ہے۔ “

مقامی اور اقوام متحدہ کے عہدے داروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کی تاریخ کے اس بدترین سیلاب میں 1400سے زائد افراد ہلاک اور30 لاکھ کے لگ بھگ بے گھر ہو چکے ہیں جبکہ متاثرہ علاقوں میں وبائی امراض خصوصاََ دست اور اسہال کی بیماریاں پھوٹنے کی اطلاعات آنے والے دنوں میں صورت حال کو مزید خراب کرسکتی ہیں۔

تاہم عالمی ادارہ برائے صحت کے عہدے داروں نے تاحال متاثرہ علاقوں میں وبائی امراض کے پھوٹنے کی اطلاع نہیں دی ہے ۔ لیکن تنظیم کے عہدے داروں نے متنبہ کیا ہے کہ گندا پانی پینے سے لاکھوں افراد کے بیمار ہونے کا خدشہ ہے۔

امجد جمال کا کہنا ہے کہ بڑے پیمانے پر زرعی زمینوں کے زیر آب آنے سے لوگ فصلیں کاشت کرنے سے محروم ہو چکے ہیں جس سے آنے والے دنوں میں خوراک کا بحران اور بھی سنگین ہو جائے گا کیونکہ متاثرہ علاقوں میں طالبان کے خلاف فوجی کارروائیوں کے باعث خوراک کی صورت حال پہلے ہی تشویش ناک تھی۔

دریں اثنا ء پاکستانی کابینہ بدھ کو ہونے والے اجلاس میں خاص طور پر سیلاب زدگان کے لیے امدادی کارروائیوں کو تیز کرنے اور دوسر ے اقدامات پر غور کر رہی ہے۔

امریکی بلیک ہاک ہیلی کاپٹر

امریکی بلیک ہاک ہیلی کاپٹر

اب تک کی جانے والی امدادی کارروائیوں پر حکومت کو متاثرین کی طرف سے کڑی تنقید کا سامنا ہے اور وہ ان حالات میں صدر آصف علی زرداری کے دورہ یورپ کی مذمت کر رہے ہیں۔

اقوام متحدہ ، امریکہ اور دوسرے ملکوں کی طرف سے پاکستان کے لیے ہنگامی امداد کے اعلانات کیے گئے ہیں جبکہ امریکی ائر فورس کے جہازوں کے ذریعے متاثرین کے لیے خوراک اور دیگر امدادی سامان کی تقسیم کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے ۔

امدادی کارکنوں کاکہنا ہے کہ سیلاب زدگان کو خوراک کے علاوہ پینے کے صاف پانی کی بھی اشد ضرورت ہے۔

دریائے سندھ میں سیلاب سے جنوبی پنجاب کے کئی دیہات زیر آب آ گئے ہیں اور پانی دریا کا بند توڑتے ہوئے کوٹ مٹھن اور کوٹ ادو میں داخل ہو گیا ہے اور یہاں قائم خام تیل کی صفائی اور بجلی پیدا کرنے کی تنصیبات کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے ۔

سیلاب زدہ علاقے خوراک کی قلت کا شکار، عالمی ادارہ خوراک

سیلاب زدہ علاقے خوراک کی قلت کا شکار، عالمی ادارہ خوراک

امریکی سفارتخانے کی طرف سے جاری بیان کے مطابق چھ امریکی فوجی ہیلی کاپٹر امدادی سرگرمیوں میں حصہ لینے کے لیے بدھ کو پاکستان پہنچ گئے ہیں۔ یہ ہیلی کاپٹر حکومت پاکستان کی ہنگامی اپیل پر سیلاب زدہ علاقوں میں متاثرین کی امداد کے لیے افغانستان سے بھیجے گئے ہیں۔ ایک اور بیان کے مطابق امریکہ میں سینٹ کی کمیٹی برائے خارجہ تعلقات کے چیئرمین سینیٹر جان کیری نے ہلاکت خیز سیلاب سے متاثرہ افراد سے گہری ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔

سینیٹر کیری نے پاکستانی حکومت اور عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ امداد کی ضرورت مندوں تک جلد از جلد رسائی کو یقینی بنانے کے لیے مل کر اور تیزی سے کام کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ بہت سے پاکستانی سست کارروائیوں کی وجہ سے مایوس ہیں۔

دریں اثناء مبینہ طور پر طالبان عسکریت پسندوں کے ساتھ تعلق رکھنے والی بعض فلاحی تنظیمیں بھی سیلاب زدگان کو خوراک کی فراہی کی سرگرمیوں میں حصہ لے رہی ہیں۔

XS
SM
MD
LG