رسائی کے لنکس

کراچی کے کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل ظہیر الاسلام کو فوج کے جاسوسی کے ادارے آئی ایس آئی کا نیا سربراہ مقرر کرنے کا اعلان جمعہ کی شام وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک مختصر بیان میں کیا گیا ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل ظہیر الاسلام

لیفٹیننٹ جنرل ظہیر الاسلام

ادارے کے موجودہ ڈائریکٹر جنرل احمد شجاع پاشا 18 مارچ کو اپنے عہدے سے سبکدوش ہو جائیں گے جس کے بعد نئے سربراہ اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔

جنرل پاشا کو 2008 ء میں آئی ایس آئی کا سربراہ مقرر کیا گیا تھا مگر تین سالہ مدت پوری ہونے کے بعد گزشتہ سال وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے فوجی قیادت کی سفارش پر اُنھییں ایک سال کی توسیع دینے کا فیصلہ کیا تھا جس کا بظاہر مقصد انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں کے تسلسل کو یقینی بنانا تھا جس میں فوج کے اس خفیہ ادارے کا کلیدی کردار رہا ہے۔

لیکن گزشتہ سال کے اوائل میں امریکی سی آئی اے کے لیے نجی حیثیت میں کام کرنے والے ریمنڈ ڈیوس کی دو پاکستانیوں کو قتل کرنے کے جرم میں گرفتاری اور بعد میں ایبٹ آباد میں خفیہ امریکی آپریشن میں اُسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد پیپلز پارٹی کی مخلوط حکومت اور فوج کے تعلقات میں کشیدگی پیدا ہوگئی۔

احمد شجاع پاشا

احمد شجاع پاشا

گزشتہ سال کے آخر میں امریکی شہری منصور اعجاز کی طرف سے میمو اسکینڈل کے انکشاف اور آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل پاشا کی لندن میں اُس کے ساتھ ملاقات کے بعد حکومت اور فوجی میں کشیدگی عروج پر پہنچ گئی۔ صورت حال اُس وقت مزید سنگین ہوگئی جب فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی اور ڈی جی آئی ایس آئی جنرل پاشا نے عدالت عظمٰی کے سامنے بیانات حلفی میں امریکی حکام کو پاکستانی فوج کے خلاف بھیجے گئے مراسلے یا میمو کو حقیقت قرار دے کر اس کی تحقیقات کی حمایت کردی۔

ان تمام واقعات کے باوجود گزشتہ دنوں ذرائع ابلاغ میں یہ قیاس آرائیاں کی جارہی تھیں کہ وزیراعظم آئی ایس آئی کے سربراہ کی مدت ملازمت میں مزید توسیع کا ارادہ رکھتے ہیں اور ان اطلاعات پر حزب اختلاف کی بڑی سیاسی جماعت مسلم لیگ ن کے سربراہ نواز شریف نے سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے ڈی جی آئی آیس آئی کی مدت ملازمت میں توسیع کی سخت مخالفت کی تھی۔

تاہم جمعہ کو وزیراعظم ہاؤس کی طرف سے آئی ایس آئی کے نئے سربراہ کی تعیناتی کے اعلان کے بعد یہ تمام قیاس آرائیاں دم توڑ گئیں ہیں۔

XS
SM
MD
LG