رسائی کے لنکس

پاکستان کا افغان امن عمل کی مکمل حمایت کا اعادہ


پاکستان کا افغان امن عمل کی مکمل حمایت کا اعادہ

پاکستان کا افغان امن عمل کی مکمل حمایت کا اعادہ

پاکستان نے کہا ہے کہ وہ افغانستان میں امن و خوشحالی کے لیے ہر اقدام کی حمایت کرے گا بشرطیکہ اُس کے اپنے استحکام کو خطرہ لاحق نا ہو۔

وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے یہ یقین دہانی افغان پارلیمان یا ولسی جرگہ کے رکن اور قانون و انصاف کمیشن کے چیئرمین استاد محقق سے اسلام آباد میں جمعہ کو ایک ملاقات میں کرائی۔

اُنھوں نے کہا کہ پاکستان افغانوں کی قیادت میں طالبان سے امن و مفاہمت کی کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا کیوں کہ وہ اپنے ہمسایہ ملک کو ایک آزاد، خوشحال اور مستحکم ریاست کے طور پر دیکھنے کا خواہاں ہے۔ ’’افغانستان میں امن کی عدم موجودگی میں خطے میں امن ناممکن ہے۔‘‘

وزیر اعظم کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ پاکستانی رہنما نے واضح کیا کہ ’’جس طرح ایک ساتھ دوستی اور دشمنی نہیں کی جا سکتی بالکل ویسے ہی مصالحت اور دہانہ گیری بیک وقت ممکن نہیں۔‘‘

بیان میں اُن کے اس موقف کی وضاحت نہیں کی گئی لیکن بظاہر اُن کا اشارہ افغانستان کی طرف سے پاکستان پر اپنے قبائلی علاقوں میں سرگرم عسکری تنظیم حقانی نیٹ ورک کے خلاف بھرپور فوجی کارروائی پر دباؤ کی جانب تھا۔

یوسف رضا گیلانی کا کہنا تھا کہ پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں نے دہشت گردی اور انتہا پسندی سے نمٹنے کے لیے امن کو ایک موقع دینے پر اتفاق کیا ہے اور اس فیصلے سے اُنھوں نے امریکی وزیر خارجہ ہلری کلنٹن کو بھی ’’انتہائی صاف گوئی‘‘ سے آگاہ کیا ہے۔

پاکستانی وزیر اعظم نے افغان افواج، پولیس اور انتظامیہ کی تربیت میں اپنے ملک کے تعاون کی پیشکش کو دہرایا اور دونوں ملکوں کے اراکین پارلیمان کے وفود کے تبادلوں پر بھی زور دیا کیوں کہ اُن کے بقول عوامی رابطوں کا بہترین ذریعہ یہی ہے۔

افغانستان کی تعمیر و ترقی میں پاکستان کے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ اب تک اس تناظر میں 35 کروڑ ڈالر خرچ کر چکا ہے جب کہ 2,000 افغان طالب علم وظائف پر پاکستانی یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم ہیں۔

وزیراعظم گیلانی نے افغانستان سے تعلق رکھنے والی شیعہ ہزارہ برادری کے افراد پر گزشتہ ہفتوں کے دوران صوبہ بلوچستان میں ہونے والے مہلک حملوں کی مزمت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے ان کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کیے ہیں۔

اس موقع پر افغان رکن پارلیمان استاد محقق نے کہا کہ دونوں ہمسایہ ممالک کی روایات، ثقافت اور تاریخ ایک ہے۔ اُنھوں نے دونوں جانب سے ایک دوسرے پر الزام تراشی سے گریز کرنے اور دہشت گردی سے مشترکہ طور پر نمٹنے کی اہمیت پر زور دیا۔

’’افغانستان اور پاکستان کو مل کر (مقتول) پروفیسر برہان الدین ربانی کے مشن کی تکمیل کے لیے کام کرنا چاہیئے جو دونوں ملکوں کو اچھے ہمسایوں اور اچھے دوست کے طور پر دیکھنا چاہتے تھے۔‘‘

XS
SM
MD
LG