رسائی کے لنکس

وزیر اعظم کے استعفے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا: اسحاق ڈار


وزیراعظم نواز شریف (فائل فوٹو)

وزیراعظم نواز شریف (فائل فوٹو)

عمران خان 2013ء کے عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف احتجاج کرتے چلے آ رہے ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ اب حکومت سے مذاکرات کا وقت گزر گیا ہے۔

حزب مخالف کی جماعت تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی طرف سے وزیر اعظم نواز شریف سے مستعفی ہو کر نئے انتخاب کے اعلان کے مطالبے پر وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ وزیراعظم کے استعفے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کے ایک مرکزی رہنما اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے بدھ کو اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ اگر عمران خان یا عوامی تحریک کے سربراہ طاہر القادری پرامن احتجاج کرنا چاہتے ہیں تو اس پر حکومت کو کوئی اعتراض نہیں۔ تاہم اُنھوں نے کہا کہ کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

’’یہ جو وزیر اعظم کے استعفے کی باتیں ہیں اس کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، یہ غیر آئینی ہے۔ اُنھیں اس کو بھول جانا چاہیئے۔ ہاں آئین اور قانون کے اندر رہ کر بات کریں۔‘‘

اُدھر وزیراعظم نواز شریف نے بدھ کو دوسرے روز بھی مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں سے رابطے جاری رکھے۔ مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کے مطابق موجودہ صورت حال پر وزیراعظم سیاسی مشاورت کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔

قومی اسمبلی میں عددی اعتبار سے حزب مخالف کی سب سے بڑی جماعت پیپلز پارٹی کے ایک مرکزی رہنما خورشید شاہ نے جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق سے بدھ کو اسلام آباد میں ملاقات کی۔

سراج الحق اور خورشید شاہ نے کہا کہ اُنھوں نے موجودہ سیاسی تناؤ کو کم کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

خورشید شاہ نے کہا کہ اُن کی جماعت جمہوریت کے تسلسل کی حامی ہے۔ ’’ہم مل جل کر جب اپنے فیصلے کرتے ہیں تو پھر کوئی آگے نہیں آتا۔ ہم میں جب دراڑیں پڑتی ہیں تو اس کا فائدہ کوئی ضرور لیتا ہے۔ یہ بدقسمتی ہے کہ ہم ماضی کو بھول جاتے ہیں۔۔۔۔ اب ہماری کوشش یہ ہے کہ کسی طریقے سے بھی یہ سسٹم چل رہا ہے اور اُس کو چلنا چاہیئے۔‘‘

سراج الحق نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں اُنھیں سیاسی تناؤ کو کم کرنے میں کردار ادا کرنا چاہیئے۔

’’ہم نے ضرورت محسوس کی ہے کہ ہمیں تماشائی بننے کی بجائے، حالات کو سدھارنے اور ٹھیک رُخ پر ڈالنے کی کوشش کرنی چاہیئے۔ ‘‘

سابق صدر مملکت آصف علی زرداری نے بھی منگل کو تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق سے ٹیلی فون پر رابطہ کر کے سیاسی صورت حال پر اُن سے تبادلہ خیال کیا تھا۔

عمران خان 2013ء کے عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف احتجاج کرتے چلے آ رہے ہیں۔ اُن کہنا ہے کہ اب حکومت سے مذاکرات کا وقت گزر گیا ہے اور وہ 14 اگست کو اسلام آباد میں ریلی کے اعلان سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ وہ انتخابی اصلاحات کے لیے تیار ہے اور بدھ کو اسلام آباد میں پارلیمان کی 33 رکنی انتخابی اصلاحاتی کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں اسحاق ڈار کو کمیٹی کا سربراہ منتخب کیا گیا۔

XS
SM
MD
LG