رسائی کے لنکس

ضلعی نظام کی بحالی پیپلزپارٹی کیلئے کڑا امتحان بن گئی


ضلعی نظام کی بحالی پیپلزپارٹی کیلئے کڑا امتحان بن گئی

ضلعی نظام کی بحالی پیپلزپارٹی کیلئے کڑا امتحان بن گئی

سندھ میں ضلعی نظام کے خاتمے اور ایک ماہ بعد دوبارہ نفاذ کے عمل نے حکمراں جماعت پاکستان پیپلزپارٹی کو سخت ترین امتحان میں ڈال دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس عمل سے جہاں پی پی کا سندھ کارڈ کمزور ہوا ہے وہیں پارٹی میں اختلافات بھی کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔مزید یہ کہ سب سے قابل اعتماد اتحادی جماعت اے این پی بھی برہم نظر آ رہی ہے ، اگر چہ یہ سب ایم کیو ایم کیلئے کیا گیا لیکن اس کے باوجود اس کی حکومت میں شمولیت مشکوک ہے ۔

دوسری جانب بدھ کو بھی اندرون سندھ بلدیاتی نظام نافذ کیے جانے کے خلاف صوبے کے مختلف شہروں میں احتجاج جاری رہا ۔ حیدر آباد میں سندھ سجاگ بار تحریک کی جانب سے احتجاجی ریلی میں بابر اعوان اور آغا سراج دورانی کے پتلے بھی نذر آتش کیے گئے۔سندھ میں بلدیاتی نظام کے نفاذ سے قوم پرست جماعتوں میں پائے جانے والے اس تاثر کو بھی تقویت ملی کہ صدر زرداری حکومت کو بچانے کے لئے سندھ دھرتی کا سودا بھی کر سکتے ہیں۔

ایک اور سیاسی تجزیہ نگار کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی کی حکومت نے متحدہ قومی موومنٹ کی خواہش کے مطابق 2001ء کے شہری و ضلعی حکومتوں کے نظام کی بحالی کے لیے آرڈی ننس تو جاری کر دیا ہے لیکن اْس کے لیے اس آرڈی ننس کو 90دنوں کے اندر سندھ اسمبلی سے بل کی صورت میں منظور کرانا ہے بہت مشکل ہو گیا ہے کیونکہ پیپلز پارٹی کے بہت سے ارکان سندھ اسمبلی نے اپنی قیادت کو براہ ِ راست اور بالواسطہ طور پر باور کرانا شروع کر دیا ہے کہ وہ اسمبلی میں اس بل کی حمایت نہیں کر سکیں گے کیونکہ اْنہیں اپنے حلقوں میں ووٹرز کا بھی سامنا کرنا ہے۔

دوسری طرف پاکستان مسلم لیگ (فنکشنل)، نیشنل پیپلز پارٹی (این پی پی) اور عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) نے بھی اس بل کی مخالفت میں ووٹ دینے کا فیصلہ کیا ہے ۔

مئی دو ہزار آٹھ کے انتخابات میں پیپلزپارٹی کو سادہ اکثریت ملی جس کے باعث وہ دیگر جماعتوں کے ساتھ مفاہمت کی پالیسی اپنانے پر مجبور ہو ئی ۔ پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے انتخابات میں حصہ لینے والی ہر بڑی جماعت کو مختلف اوقات میں حکومت کا حصہ بنا یا۔ یہی وجہ ہے کہ وقتا فوقتا مختلف جماعتیں حکومت میں شمولیت اور علیحدگی اختیار کرتی رہیں ۔ بعض اوقات پیپلزپارٹی تھوڑی بحرانی کیفیت سے بھی دو چار ہوئی مگر جلد سنبھل گئی ۔

اٹھارویں ترمیم میں صوبہ سرحد کا نام خیبر پختونخواہ رکھے جانے پر عوامی نیشنل پارٹی صدر آصف علی زرداری سے سب سے زیادہ خوش تھی اورہر بحران میں پیپلزپارٹی کے شانہ بشانہ کھڑی ہوئی تاہم سندھ میں نظام سے متعلق فیصلے سے دونوں جماعتوں کے درمیان دوریاں بڑھ رہی ہیں جس کے کراچی کی صورتحال پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں اور ایم کیو ایم کو منانے کے لئے کیے گئے حکومتی اقدامات بے سود ثابت ہو سکتے ہیں ۔

مبصرین کے مطابق ایم کیو ایم کی 27 جو ن کو حکومت سے علیحدگی کے بعد کراچی میں امن و امان کی صورتحال نے صدر آصف علی زرداری کو ایک بار پھر ایم کیو ایم کی حکومت میں واپسی پر مجبور کر دیا اور اس کے لئے وہ مفاہمتی پالیسی میں اتنے آگے نکل گئے کہ انہیں اس بات کا احساس بھی نہ ہواکہ جن کے ووٹوں کی بدولت انہیں اقتدار ملا ان کی خوشی کس نظام میں ہے اور یہ وجہ ہے کہ اس وقت یہ بحث عام ہے کہ موجودہ فیصلوں میں پارٹی کا سندھ کارڈ کمزور ہوا ہے ۔

حکومت کے حالیہ فیصلوں میں پیپلزپارٹی کیلئے ایک اور بڑا دھچکا یہ ہے کہ ایک جانب تو اس کی سندھی قیادت کے آپس میں اختلافات سامنے آ رہے ہیں تو دوسری جانب سندھی قیادت پنجاب کے اہم مرکزی رہنماؤں کو بھی نشانہ بنانے سے گریز نہیں کر رہی ۔

جمعرات کو قومی اسمبلی میں نوشہرہ فیروز سے تعلق رکھنے والے پی پی کے رہنما سید ظفر علی شاہ نے وزیر داخلہ رحمن ملک اور سابق وزیر قانون بابر اعوان کو متنبہ کیا ہے کہ وہ نہیں چاہتے کہ یہ دونوں افراد سندھ کی سر زمین پر خرابیاں پیدا کریں ،انہوں نے تسلیم کیا کہ حکومت اتحادیوں کے ہاتھوں یر غمال بنی ہوئی ہے اورجس کے انتہائی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں ، رات کے اندھیرے میں آرڈیننس جاری کرنے سے خرابیاں پیدا ہو رہی ہیں ۔ انہوں نے اپنی حکومت کے خلاف باغیانہ انداز میں کہا کہ وہ سندھ میں کمشنری نظام کی بحالی مسترد کرتے ہیں ۔

XS
SM
MD
LG