رسائی کے لنکس

پاکستان سے امریکی فوجیوں کی تعداد میں کمی


پاکستان سے امریکی فوجیوں کی تعداد میں کمی

امریکہ نے کہا ہے کہ اُس نے پاکستانی حکومت کی درخواست پروہاں تعینات اپنے فوجیوں کی تعداد کم کرنا شروع کر دی ہے ۔

دو مئی کو ایبٹ آباد میں امریکی اسپیشل فورسز کی خفیہ کارروائی میں القاعدہ کے رہنماء اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد پاکستان نے امریکہ سے ملک میں تعینات فوجیو ں کی تعداد کم کرنے کے لیے کہا تھا۔

امریکی محکمہ دفاع کے ترجمان کرنل ڈیوڈ لیپن (David Lapan) نے کہا ہے کہ پاکستان میں 200 سے زائد امریکی فوجی تعینات تھے لیکن یہ نہیں بتایا کہ پاکستانی حکومت کی درخواست کے بعد کتنے فوجیوں کو واپس بلایا گیا ہے۔

کرنل لیپن نے کہا کہ گذشتہ دوہفتوں کے دوران حکومت پاکستان نے تحریری طور پر امریکی حکام کو آگاہ کیا تھا کہ وہ ملک میں موجود امریکی فوجیوں کی تعداد میں کمی چاہتے ہیں۔ ”اس کے مطابق ہم نے (فوجیوں کی تعداد) میں کمی شروع کر دی“۔

اُنھوں نے بتایا کہ جن امریکی فوجیوں کو واپس بلایا گیا وہ پاکستانی اہلکاروں کو انسداد دہشت گردی کی تربیت فراہم کر رہے تھے۔ تاہم پینٹاگون کے ترجمان نے یہ نہیں بتایا کہ کیا حکومت پاکستان نے ملک میں کم از کم امریکی فوجیوں کی تعینات کی کوئی تعداد مقرر کی ہے یا نہیں۔

ترجمان نے بتایا کہ پاکستان میں امریکی دفاعی نمائندے کے دفتر میں بھی فوجی کام کر رہے تھے لیکن اُنھوں نے ان کی تعداد نہیں بتائی۔ کرنل لیپن نے کہا کہ کل امریکی فوجیوں کی تعداد200 سے 300 کے درمیان ہی تھی اور ان میں کمی بیشی پاکستانی اہلکاروں کی تربیتی پروگرام کے مطابق کی جاتی تھی۔

پانچ مئی کو فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کی زیرصدارت فوجی کمانڈروں کے اجلاس منعقد ہوا جس میں ایبٹ آباد میں یکطرفہ امریکی کارروائی کے محرکات اور اس کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کا جائزہ لیا گیا، اور اس کے بعد جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا تھا کہ ملک میں امریکی فوجیوں کی تعداد کو کم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

دفاعی مبصرین نے پاکستان کی درخواست پر امریکہ کی طرف سے عمل درآمد کو درست سمت میں ایک اہم قدم قرا ر دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی وجہ سے ایبٹ آباد میں یک طرفہ امریکی کارروائی کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان پائے جانے والے تناؤ کو دور کرنے میں مدد ملے گی۔

پاکستانی فوج کے سابق برگیڈیئر محمود شاہ نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا ”میرا خیال ہے کہ (اس اقدام سے) پاکستان کا اعتماد بحال ہو جائے گا اور دونوں ملکوں کے درمیان جو تناؤ ہے وہ ختم ہو جائے گا۔“

XS
SM
MD
LG