رسائی کے لنکس

ایبٹ آباد آپریشن کی خبر 'ٹوئٹ' کرنے والا راتوں رات ہیرو بن گیا


ایبٹ آباد آپریشن کی خبر 'ٹوئٹ' کرنے والا راتوں رات ہیرو بن گیا

ایبٹ آباد آپریشن کی خبر 'ٹوئٹ' کرنے والا راتوں رات ہیرو بن گیا

القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کے قتل کے لیے کیے جانے والے امریکی آپریشن کی اطلاعات نادانستگی میں سب سے پہلے دنیا تک پہنچانے والے ایبٹ آباد کے ایک کمپیوٹر پروگرامر کو راتوں رات ہیرو کا درجہ حاصل ہوگیا ہے۔

ایبٹ آباد میں چھٹیاں منانے کیلیے آئے ہوئے کمپیوٹر پروگرامر شعیب اطہر وہ پہلے فرد تھے جنہوں نے اتوار اور پیر کی درمیانی شب ہونے والے اس آپریشن کے بارے میں اپنے ٹوئٹر اکائونٹ پر پیغام بھیجا۔ تاہم اس وقت تک وہ یہ نہیں جانتے تھے کہ ان کے قرب و جوار میں ہونے والی غیر معمولی سرگرمی دنیا کے سب سے مطلوب شخص کی گرفتاری کیلیے کیے جانے والے آپریشن کا نتیجہ ہے۔

مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ 'ٹوئٹر' پر آپریشن کی رات بھیجے گئے اپنے پہلے پیغام میں صہیب اطہر نے ایبٹ آباد شہر پر رات کے اوقات میں ہونے والی ایک ہیلی کاپٹر کی غیر معمولی پرواز کا تذکرہ کیا تھا۔

کچھ ہی دیر بعد انہوں نے اپنے اگلے پیغام میں شہر میں ایک ایسا زوردار دھماکہ ہونے کی خبر دی جس سے ان کے بقول "کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ گئے ہیں"۔

بعد ازاں اپنے اگلے پیغامات میں اطہر نے اپنے طور پر دھماکہ کی وجوہات کا اندازہ لگانے کی کوشش کرتے ہوئے امکان ظاہر کیا کہ دھماکہ کسی ڈرون حملے یا پھر تربیتی پرواز کرنے والے کسی ہیلی کاپٹر کے گرنے کے نتیجے میں ہوا ہوگا۔

یہ بات دنیا اور خود اطہر کے علم میں پیر کی صبح آئی کہ گزشتہ رات گرنے والا ہیلی کاپٹر امریکی تھا جو اسامہ بن لادن کی ہلاکت کیلیے کیے جانے والے آپریشن میں شریک تھا۔

امریکی صدر براک اوباما کی جانب سے ایبٹ آباد شہر میں کیے گئے ایک امریکی آپریشن کے دوران بن لادن کے قتل کا اعلان کیے جانے کے بعد بھیجے گئے اپنے ایک پیغام میں اطہر نے خود کو ایک ایسا فرد قرار دیا جس نے لاعلمی میں اسامہ کی ہلاکت کیلیے ہونے والے آپریشن کو براہِ راست دنیا کے سامنے پیش کردیا تھا۔

ان کی اس لاعلمی میں کی گئی کاروائی نے انہیں میڈیا اور 'ٹوئٹر' صارفین کی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔ اپنے اکائونٹ پر بھیجے گئے پیغامات میں اطہر نے واقعہ کے حوالے سے مختلف اخبارات اور ٹی وی چینلز کو دیے گئے اپنے کئی انٹرویوز کا حوالہ دیا ہے اور ان صحافیوں سے معذرت بھی طلب کی ہے جنہیں وہ وقت نہیں دے سکے۔

ادھر اطہر 'ٹوئٹر' صارفین میں بھی ایک دم مقبول ہوگئے ہیں اور سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹ پر انہیں 'فالو' کرنے والے افراد کی تعداد ہزاروں تک جاپہنچی ہے۔

منگل کے روز اپنی پوسٹ میں اطہر نے ایبٹ آباد کی تصاویر اپ لوڈ کی ہیں اور کہا ہے کہ وہ شہر کے جس علاقے میں مقیم ہیں وہاں زندگی معمول پر لوٹ آئی ہے۔

XS
SM
MD
LG