رسائی کے لنکس

پولیس اور فوجی دستے سڑکوں اور گلیوں میں رکاوٹیں کھڑی کرکے پڑتالی چوکیاں قائم کررہے ہیں اور شہر میں مشتبہ افراد کو گرفتار کررہے ہیں

پاکستان کے سیکیورٹی اداروں نے ، ایبٹ آباد میں، جہاں پیر کی شب امریکی اسپشل فورس نے ایک خفیہ حملے میں اسامہ بن لادن کو ہلاک کردیا تھا، بڑے پیمانے پر سیکیورٹی جانچ پڑتال اور گرفتاریاں شروع کردی ہیں۔

پولیس اور فوجی دستے سڑکوں اور گلیوں میں رکاوٹیں کھڑی کرکے پڑتالی چوکیاں قائم کررہے ہیں اور شہر میں مشتبہ افراد کو گرفتار کررہے ہیں۔

ایبٹ آباد میں کاکول ملڑی اکیڈمی کے قریب اسامہ بن لادن ایک ایسے گھر میں چھپا ہواتھا جس کی بیرونی دیواریں زیادہ سے زیادہ تحفظ اور خود کو دوسروں کی نظروں سے اوجھل رکھنے کے لیے بہت اونچی بنائی گئی تھیں۔

پولیس علاقے میں گھر گھر جاکر یہ غالباً اس پہلو کو سامنے رکھتے ہوئے رہائشیوں سے ان کی شناخت طلب کررہی ہے کہ آیا وہاں ایسے عناصر تو موجود نہیں ہیں جنہوں نے بن لادن کو مدد فراہم کی ہو۔

امریکی بحریہ کے خصوصی سیلز کمانڈوز کے آپریشن سے قبل ایبٹ آباد کو صوبہ پختون خواہ کے محفوظ ترین شہروں میں شمار کیا جاتاتھا۔ جب کہ صوبے کے بہت سے شہر عسکریت پسندوں کے حملوں کانشانہ بن چکے ہیں۔ ایبٹ آباد ایک فوجی چھاونی ہے اور اکثر فوجی گھرانے ریٹائرمنٹ کے بعد یہاں رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

تاہم اب کئی شہریوں کو یہ خدشہ ہے کہ بن لادن کی ہلاکت کے نتیجے میں اس شہر میں تشدد کے واقعات رونما ہوسکتے ہیں۔ ایبٹ آباد کے ایک رہائشی طارق کا کہناہے کہ اب وہ اور ان کا خاندان یہاں خود کو محفوظ تصور نہیں کرتا ۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم سب بہت خوف زدہ ہیں ، خاص طورپر رات کو تو بہت خوف آتا ہے ۔ اور انہیں شہر پر مزید حملوں کا خدشہ ہے۔

شہر کے دوسرے بہت سے لوگ جو اس قسم کے سخت سیکیورٹی انتظامات کے عادی نہیں ہیں، خوش دکھائی نہیں دیتے۔ یونیورسٹی کے ایک طالب علم سیف کا کہنا ہے کہ جگہ جگہ بنی ہوئی پڑتالی چوکیاں آنے جانے والوں کے لیے مسائل پیدا کررہی ہیں۔

نامہ نگاروں کا کہناہے کہ انہیں اس عمارت تک رسائی کی اجازت نہیں دی جارہی جہاں اسامہ مقیم رہا تھا۔ کئی نامہ نگاروں نے بتایا کہ انہیں خبردار کیا گیا ہے کہ انہیں شہر سے نکالا جاسکتا ہے۔

پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ ابھی اس بارے میں کچھ کہنا بہت قبل ازوقت ہے کہ جس عمارت میں بن لادن کو ہلاک کیا گیاتھا، اس کا مستقبل کیا ہوگا۔

XS
SM
MD
LG