رسائی کے لنکس

اسامہ بن لادن کی ہلاکت اور پاک امریکہ ایجنسیاں

  • ندیم یعقوب

اسامہ بن لادن کی ہلاکت اور پاک امریکہ ایجنسیاں

اسامہ بن لادن کی ہلاکت اور پاک امریکہ ایجنسیاں

گذشتہ چند عشروں کے دوران پاک امریکہ تعلقات اتار چڑھاؤ سے گذرتے رہے ہیں، لیکن پچھلے چند ماہ سے دونوں ملکوں کے حساس اداروں کے درمیان تعلقات میں کافی تناؤ دیکھا جارہا ہے۔ ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے خلاف فوجی کارروائی بھی خود امریکی ایجنسیوں نے پاکستانی اداروں کے علم میں لائے بغیر خفیہ طور پر سرانجام دی اور پچھلے چند مہینوں کے دوران منظر عام پر آنے والے امریکی حکام کے بیانات اور ذرائع ابلاغ کی رپورٹس دونوں ممالک کے حساس اداروں کے درمیان بداعتمادی اور بڑھتے ہوئے فاصلوں کی جانب اشارہ کررہے ہیں ۔ جب کہ کئی ماہرین کا کہنا ہے کہ مغربی دنیا میں پاکستان کے حساس ادارے کے بارے میں پائے جانے والے کچھ تاثرات حقیقت پر مبنی نہیں۔

پاکستان اور امریکہ کے حساس اداروں کے درمیان تعاون کے باوجود پاکستانی سکیورٹی فورسز کی جانب سے اوسامہ بن لادن کے خلاف آپریشن نہ کئے جانے کی وجہ بعض مبصرین دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کا فقدان بتاتے ہیں۔ اور اس حوالے سے وہ امریکہ کے چیر مین جوائنٹ چیفز آف سٹاف ایڈمرل مائیک ملن کے اس بیان کی طرف اشارہ کرتے ہیں جس میں انہوں نے پاکستان کے حساس ادارے آئی ایس آئی پر براہ راست الزام عائد کیا کہ وہ عسکریت پسند گروہ حقانی نیٹ ورک کی پشت پناہی کر رہا ہے۔ دفاعی امور کے تجزیہ نگار اکرام سہگل کہتے ہیں کہ تمام حساس ادارے مختلف گروہوں سے رابطہ رکھتے ہیں مگر اس کا مطلب پشت پناہی ہر گز نہیں ہوتا۔

اکرام سہگل کہتے ہیں کہ امریکی حکام کی جانب سے آئی ایس آئی کے بارے میں بیانات پاکستان پر دباؤ ڈالنے کے لئے ہیں جو آئندہ بھی جاری رہیں گے۔ماہرین کا خیال ہے کہ حالیہ چند مہینوں میں امریکی اہلکار ریمنڈ ڈیوس کے معاملے پر دونوں ملکوں کے تعلقات میں جو تناؤ پیدا ہو اتھا، اب آئی ایس آئی کے بارے میں تازہ بیانات اور رپورٹس سے اس میں کمی لانے کی کوششوں کو دھچکا لگے گا۔واشنگٹن کے ایک تھنک ٹینک دی اٹلانٹک کونسل سے وابستہ پاکستانی تجزیہ نگار شجاع نواز کہتے ہیں کہ یہ تاثر غلط ہے کہ آئی ایس آئی ایک آزاد ادارے کے طور پر کام کرتا ہے۔

شجاع نواز کہتے ہیں کہ دونوں ملکوں کے حساس اداروں کے درمیان تلخی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ماضی میں تعاون کے لئے جو معاہدے ہوئے ان کے بارے میں کوئی دستاویزی ثبوت موجود نہیں ۔

ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ مغربی ممالک اور خاص طور پرامریکہ آئی ایس آئی کے کردار کو تب ہی واضح طور پر سمجھ پائیں گے اگر وہ خطے میں پاکستان کے مفادات کوسمجھیں اور پاکستان اور امریکہ کے حساس اداروں کے درمیان تعلقات میں بہتری کا دارومدار بھی ایک دوسرے کے مفادات کے احترام سے جڑا ہوا ہے۔

XS
SM
MD
LG