رسائی کے لنکس

پشاور:خود کش بم دھماکے میں 36 ہلاک

  • شمیم شاہد

دھماکے کی جگہ ہلاک اور زخمی ہونے والے افراد کے جوتے پڑے ہیں

دھماکے کی جگہ ہلاک اور زخمی ہونے والے افراد کے جوتے پڑے ہیں

ادیزئی کے علاقے میں حکومت کے حمایت یافتہ طالبان مخالف لشکروں میں شامل افراد پر پہلے بھی ایسے حملے کیے گئے ہیں جن کا بظاہر مقصد شدت پسندوں کے خلاف لشکر تشکیل دینے کی سرکاری پالیسی کی حوصلہ شکنی کرنا ہے۔

پشاور کے نواحی علاقے ادیزئی میں بدھ کی صبح ایک خودکش دھماکے میں کم ازکم 36 افراد ہلاک اور لگ بھگ 70 زخمی ہوگئے۔

صوبائی وزیراطلاعات میاں افتخار حسین نے مقامی ذرائع ابلاغ کو تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ خود کش حملہ آور طالبان مخالف امن لشکر کے ایک سرکردہ رہنما کی اہلیہ کے جنازے میں شریک لوگوں میں شامل ہوا اور وہاں خود کو دھماکا خیز مواد سے اڑا دیا۔ خودکش بمبار کی عمر سولہ سے سترہ سال بتائی گئی ہے۔

پولیس اور عینی شاہدین کے مطابق جنازے میں دو سو سے زائد افراد شریک تھے۔ زخمیوں کو پشاور کے ہسپتالوں میں منتقل کردیا گیا جہاں بعض کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔

ادیزئی کے علاقے میں حکومت کے حمایت یافتہ طالبان مخالف لشکروں میں شامل افراد پر پہلے بھی ایسے حملے کیے گئے ہیں جن کا بظاہر مقصد شدت پسندوں کے خلاف لشکر تشکیل دینے کی سرکاری پالیسی کی حوصلہ شکنی کرنا ہے۔

طالبان نے بدھ کو کیے گئے اس ہلاکت خیز حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے مزید ایسی کارروائیاں کرنے کی دھمکی دی ہے۔

ایک روز قبل پاکستان کے صنعتی مرکز فیصل آباد میں ایک گیس اسٹیشن کے قریب کار بم دھماکے کی ذمہ داری بھی طالبان نے قبول کی ہے جس میں 25 افراد ہلاک اور 100 سے زائد زخمی ہو گئے تھے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس کار بم دھماکے کا ہدف خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کا دفتر تھا تاہم اس میں ادارے کے کسی ملازم یا دفتر کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔

XS
SM
MD
LG