رسائی کے لنکس

میمو اسکینڈل سیاسی نوعیت کا معاملہ ہے: عاصمہ جہانگیر

  • یاسر منصوری

میمو اسکینڈل سیاسی نوعیت کا معاملہ ہے: عاصمہ جہانگیر

میمو اسکینڈل سیاسی نوعیت کا معاملہ ہے: عاصمہ جہانگیر

امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی کی وکیل نے کہا ہے کہ میمو اسکینڈل پر حکومت اور فوجی قائدین کے متضاد موقف اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ ایک سیاسی معاملہ بن چکا ہے۔

امریکی قیادت کے نام متنازع میمو یا خط کی تحقیقات سے متعلق آئینی درخواستوں کے ناقابلِ سماعت ہونے کے بارے میں جمعرات کو اپنے دلائل مکمل کرتے ہوئے عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ سپریم کورٹ کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ درخواست گزاروں نے آیا بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے عدالت سے رجوع کیا یا اُن کا مقصد سیاسی مفاد حاصل کرنا ہے۔

عدالتی کارروائی کے بعد اس کی تفصیلات سے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو آگاہ کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ سماعت کے دوران اس معاملے کے سیاسی پہلوؤں پر بھی دلائل دیے گئے۔

’’حکومت کی سولین سائیڈ کچھ کہہ رہی ہے اور اس کی عسکری سائیڈ کچھ اور کہہ رہی ہے، تو یہ ایک سیاسی نوعیت کا معاملہ ہے جس میں میرا موکل پِس رہا ہے۔‘‘

چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں قائم 9 رکنی بنچ کے استفسار پر عاصمہ جہانگیر کا کہنا تھا کہ میمو اسکینڈل کی تحقیقات کے لیے حکومت کو کمیشن تشکیل دینے کی ہدایت جاری کرنے کا اختیار عدالت کو حاصل ہے۔

عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ اس معاملے کے مرکزی کردار پاکستانی نژاد امریکی شہری منصور اعجاز کے بیان اور آئینی درخواست میں فراہم کی گئی میمو کی تفصیلات میں تضادات موجود ہیں۔

اُن کے بقول ان تضادات کے باوجود آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شجاع پاشا کا منصور اعجاز سے ملاقات کرنے کا فیصلہ کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔

عاصمہ جہانگیر نے اپنا موقف دہراتے ہوئے کہا کہ اُن کے موکل کا میمو اسکینڈل سے کوئی تعلق نہیں اور عدالت اس سلسلے میں دائر آئینی درخواستوں کو مسترد کر دے۔

تاہم اُن کے مطابق اگر قانون کے تحت اس معاملے کی تحقیقات کی گئیں تو حسین حقانی ان میں تعاون کریں گے۔

ادھر جمعرات کو سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا کہ عدلیہ پارلیمان کا احترام کرتی ہے۔

اُنھوں نے مقامی ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی عدالت عظمیٰ سے منسوب ان خبروں کو بھی غلط قرار دیا کہ پارلیمان کی ناکامی کے باعث سپریم کورٹ کو میمو اسکینڈل کیس کی سماعت کرنا پڑ رہی ہے۔

XS
SM
MD
LG