رسائی کے لنکس

کہتے ہیں ضرورت ایجاد کی ماں ہے۔۔اسی مقولے کے تحت چند ملکی ہنرمندوں نے کم آمدنی والے طبقے کے لئے بجلی اور پیسے کی بچت کا ایک اور’توڑ‘ نکال لیا ہے۔ اور وہ ہے ۔۔۔

جی ہاں۔۔۔ اگر آپ کا انرجی سیور خراب ہوگیا ہے تو اب اسے پھینکنے کی ضرورت نہیں۔۔۔بلکہ آدھی سے بھی کم قیمت میں اسے دوبارہ قابل استعمال بنایا جاسکتا ہے۔ یعنی کم خرچ بالا نشیں۔۔

کہتے ہیں کہ ضرورت ایجاد کی ماں ہے۔۔اسی مقولے کے تحت چند ملکی ہنرمندوں نے کم آمدنی والے طبقے کے لئے بجلی اور پیسے کی بچت کا ایک اور’توڑ‘ نکال لیا ہے۔ اور وہ ہے کمپیوٹر، ٹی وی اور موبائل کی طرح الیکٹرک سیور کی ریپرنگ ۔۔۔جو رفتہ رفتہ کراچی میں عام ہوتا جا رہا ہے۔

پوری دنیا میں بلب اور فلورسینٹ ٹیوب لائٹ کے بجائے انرجی سیور کے استعمال کا رجحان عام ہو رہا ہے۔ کراچی والے بھی اب اس کے عادی ہوگئے ہیں۔ لیکن، سب لوگ بار بار مہنگے سیور خرید نہیں سکتے۔ لہذا، ان کی مرمت بھی شروع ہوگئی ہے۔ وہ بھی نئے سیور کی قیمت کے مقابلے میں آدھے نرخوں پر۔

شہر میں اس وقت 25 واٹس کا نیا انرجی سیور ڈیڑھ سو سے 200 روپے تک میں ملتا ہے۔

اسے تیار کرنے والی کمپنی کے دعوے کے مطابق نئے انرجی سیور کی لائف اوسطاً 6000 گھنٹے اور وارنٹی ایک سال ہوتی ہے۔ لیکن، اس مدت کے بعد بھی اب آپ اپنے سیور کی لائف بڑھا سکتے ہیں صرف 50 روپے میں اس کی رپیرنگ کرا کر۔

انرجی سیور ریپئر کرنے والے ٹیکنیشن کراچی کے کئی علاقوں میں موجود ہیں۔ مثلاً لیاقت آباد، سرجانی ٹاؤن، نارتھ کراچی، نیو کراچی، اورنگی ٹاوٴن، جبکہ باقی علاقوں میں بھی ان کی تعداد بڑھ رہی ہے۔

سرجانی ٹاؤن میں انرجی سیور کی ریپرنگ کرنے والے ٹیکنیشن، یاسر فیروز نے ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا کہ ’انرجی سیور میں زیادہ تر دو اقسام کے فالٹ ہوتے ہیں۔ ایک اس کا سرکٹ خراب ہوجاتا ہے، دوسرا اس کی ٹیوب۔ اور ان دونوں ہی صورتوں میں اس کی ریپرنگ ممکن ہے‘۔

کراچی میں کئی کمپنیوں کے انرجی سیور استعمال ہوتے ہیں، مثلاً اوساکا، ہٹاچی، ڈائی چی، فلپس۔

یاسر فیروز اپنا کام شروع کرنے سے پہلے ’اوساکا ‘میں ملازمت کرتے تھے۔ انہیں اپنے کام کا کئی سال کا تجربہ ہے۔

وی او اے کے ایک سوال پر یاسر کا کہنا تھا کہ ریپرنگ میں لگنے والا وقت خرابی کی نوعیت پر منحصر ہوتا ہے۔ اگر معمولی ریپرنگ ہو اور کوئی پارٹ تبدیل نہ کرنا پڑے تو اس میں 10 سے 15منٹ لگتے ہیں۔ لیکن، اگر پارٹس یا ٹیوب تبدیلی کرنی ہو تو اس میں زیادہ وقت لگتا ہے۔

اپنے گھر کے کئی انرجی سیورز کی مرمت کرانے والے ایک شہری، فیصل نے بتایا کہ انہوں نے ایک ساتھ کئی کئی سیور رپیئر کرائے ہیں۔ رپیئر کرائے گئے سیور اور نئے سیور میں کوئی فرق محسوس نہیں ہوتا۔ اس سے واقعی پیسے اور توانائی دونوں کی بچت ہے۔

پچاس روپے میں ڈیڑھ سو، دو سو یا اس سے زیادہ قیمت والا سیور پھر سے قابل استعمال ہوجائے ۔۔ایک غریب یا متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے کو اور کیا چاہئے۔ پھر ایک عشرے پہلے متعارف ہونے والے سیورز اب ان کا ملک بھر میں استعمال اس حد تک بڑھ گیا ہے کہ ہوم لائٹس، کمرشل، انڈسٹریل لائٹس، اسٹریٹ لائٹس، ٹریفک لائٹس اور پینل لائٹس کی شکل میں بھی ہر جگہ استعمال ہورہے ہیں۔

اور اب ۔۔سپر انرجی سیور
سیور کے استعمال میں مسلسل اضافے کی ایک بڑی وجہ سیورز کی پائیداری اور بجلی کی بچت ہے۔ پھر اب تو ’سپر انرجی سیورز‘ بھی آگئے ہیں جو صرف تین سے پانچ واٹس بجلی ’کھاتے‘ ہیں۔ یعنی ان سے عام سیورز سے بھی زیادہ بجلی کی بچت ہوتی ہے۔

دنیا کا سب سے بڑا فری ’انرجی سیور پروگرام‘

حکومت پاکستان نے کچھ دنوں پہلے دنیا کا سب سے بڑا فری ’انرجی سیور پروگرام‘شروع کیا تھا، جس کے تحت، ملک بھر میں تین کروڑ مفت انرجی سیورز گھر گھرتقسیم کئے جانے کے منصوبے پر عمل ہو رہا ہے۔ اسے ’وزیراعظم کا انرجی سیور پروگرام‘ کا نام دیا گیا ہے۔

منصوبے کے تحت ہر گھر میں 2انرجی سیور بالکل مفت تقسیم کئے گئے جن کی وارنٹی دو سال تھی جبکہ اس مدت کے دوران سیور خراب ہونے کی صورت میں اسے مفت تبدیل کیا جائے گا۔ اس اقدام کو لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کی طرف مثبت ا قدام قرار دیا جارہا ہے۔

حکومت نے اس حوالے سے ایک بڑی اشتہاری مہم بھی شروع کی گئی تھی جس کے ذریعے عوام کو آگاہ کیا جارہا تھا کہ سیور کے استعمال سے بجلی کے بل میں سالانہ 1600روپے کی بچت ہوگی۔ یہ ماحول دوست پروجیکٹ ہے، اس سے ملک بھرکو 1000میگا واٹ بجلی کی یقینی بچت کی توقع ظاہر کی گئی تھی۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG