رسائی کے لنکس

پچھلے دنوں جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیول کی ایک معروف مارکیٹ میں ایک الٹرامارڈن بھکارن کو دیکھ کر نہ صرف لوگوں کے قدم رک گئے بلکہ ہر کوئی اسے بھیک دینے میں ایک دوسرے پر سبقت لینے کی کوشش میں مصروف ہوگیا۔

کسی کی جیب سے اس طرح پیسے نکلوانا کہ دینے والے کو یہ معلوم ہوکہ بدلے میں اسے کچھ نہیں ملے گا، ایک انتہائی مشکل کام ہے۔مگر ڈونا نے اس مشکل کا ایک آسان حل پیش کردیا ہے۔

سرخ لباس پہنے اور سرپر سرخ رنگ کا ہی سکارف رکھے گڑیا جیسی ڈونا جب جاپانی انداز میں سرجھکا کر خیرات دینے والے کا شکریہ ادا کرتی ہے تو اس کا دل ایک بار پھر اس کی ٹوکری میں مزید پیسے ڈالنے کو چاہنے لگتا ہے۔

ننھی خوبصورت ڈونا کا قد محض 31 انچ ہے اور وہ کوئی جیتی جاگتی لڑکی نہیں بلکہ ایک روبوٹ ہے۔

ڈونا کی آمد دنیا بھر کے گداگروں کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ انہیں یا تو اس کا مقابلہ کرنا ہوگا یا پھر وہ اپنا کام آسان بنانے کے لیے ڈونا جیسی الٹرا مارڈرن بھکارن کو گود لینا ہوگا، جس طرح بچوں کے لیے کام کرنے والی ایک عالمی تنظیم نے سیول میں چندہ اکھٹا کرنے کا کام ڈونا سے لیا ہے۔

ڈونا کے خالق کانام من سوکم ہے۔ وہ پیشے کے اعتبارسے ایک انجنئیرہیں۔وہ کہتے ہیں کہ مجھے ڈونا بنانے کا خیال اس لیے آیا کہ میں چندہ جمع کرنے کی مہم میں فلاحی اداروں کی مدد کرنا چاہتا تھا۔

ماہرین کا خیال ہے کہ سیول میں ڈونا کی پہلی پرفارمنس حوصلہ افزا رہی ہے ، جس سے ایسے روبوٹوں کی تیاری کی راہ ہموار ہوگئی ہے جو عوامی مقامات پر فلاحی اداروں کے لیے عطیات جمع کرنے کا کام کرسکیں۔

ڈونا فی الحال ایک روبوٹ کی طرح ہی کام کرتی ہے۔اس میں کئی الیکٹرانک سینسر لگے ہیں جو اپنے قریب کسی شخص کی موجودگی کا پتا لگا لیتے ہیں۔سینسر یہ معلومات کو ڈونا کی مرکزی چپ ، یعنی اس کےدماغ کو منتقل کردیتے ہیں جو فوراً اس کی آنکھوں، سر، گردن اور بازوں کو حرکت دیتا ہے۔

ڈونا آہٹ کی سمت سر گھما کر اپنی آنکھیں جھپکنے لگتی ہے اور ہاتھ کے اشارے سے وہاں پر موجود شخص کو اپنے سامنے رکھی ہوئی ٹوکری میں پیسے ڈالنے کی درخواست کرنے لگتی ہے۔

ڈونا کی حرکات و سکنات ان پیشہ ور گداگروں سے متشابہ ہیں جو کسی کودیکھتے ہی فوراً مشین کی طرح جھولی پھیلا کر دعائیں دینے اور خیرات کی التجائیں کرنے لگتے ہیں۔

جب کوئی شخص ڈونا کی ٹوکری میں پیسے ڈالتا ہے تو وہ سرجھکا کرٹوکری میں جھانکتی ہے اور پھر جھک کراپنا ننھا ہاتھ ہلاتے ہوئے پیسے دینے والے کا شکریہ ادا کرتی ہے۔ اس کی یہ ادا ایسی ہے کہ لوگوں کا ہاتھ دوبارہ اپنی جیب کی جانب بڑھنے لگتا ہے۔

ڈونا عموما کسی ایک مقام پر کھڑی ہوکر مخیر افراد کا انتظار کرتی ہے اور جب کچھ دیر تک کسی شخص کا وہاں سے گذر نہیں ہوتا تو وہ لوگوں کی تلاش میں آگے چل پڑتی ہے۔

اس سوال کے جواب میں کہ کمپیوٹر کے اس دور میں جب کہ چندوں اور عطیات کا زیادہ ترکام انٹرنیٹ کے ذریعے کیا جارہاہے، انہیں ڈونا بنانے کا خیال کیوں آیا۔من سوکم کا کہنا تھا کہ انہیں مختلف مارکیٹوں میں رکھے ہوئے ڈبوں میں لوگوں کو چندے کے پیسے ڈالتے دیکھ کر احساس ہوا کہ یہ کام زیادہ بہتر انداز میں ایک روبوٹ سے بھی لیا جاسکتا ہے۔

ڈونا کی تیاری پر من سوکم کو تین برس لگے ہیں۔ اس کا پہلا ماڈل محض ایک ریموٹ سے منسلک گتے کا ڈبہ تھا، جوپہیوں پرچلتاتھا۔ دوسرے مرحلے میں اسے گڑیا کی شکل دی گئی مگر اس کی حرکات و سکنات بڑی محدود تھیں ۔ تیسرے مرحلے میں اسے انسانی زندگی کے قریب تر بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔

کم نے بتایا کہ ڈونا کے بازوؤں، سر اور پاؤں کو حرکت دینے کے لیے 22 موٹریں لگائی گئی ہیں۔اس میں 20 مختلف قسم کے تاثرات ظاہر کرنے کی صلاحیت رکھی ہے۔ اس کا کمپیوٹر ایک خاص سافٹ ویئر پر کام کرتا ہے جس کی مدد سے وہ چند مخصوص سوالوں کا جواب دے سکتی ہے، چندہ مانگ سکتی ہے، چندے کے استعمال کے بارے میں بتاسکتی ہے اور چندہ ملنے پر سرجھکا کر شکریے کے کلمات ادا کرسکتی ہے۔

کم کاکہناہے کہ میں ڈونا میں کمپیوٹر انٹیلی جنس کا استعمال بڑھانا چاہتا ہوں تاکہ اس کا اگلا ماڈل ایک پیشہ ور بھکاری کی طرح کام کرسکے۔مگر اس کے لیے پیسہ اور وقت درکارہے۔

ظاہر ہے پیسے نکلوانے کے لیے پیسے لگانے توپڑیں گے۔

بہت ممکن ہے کہ آنے والے برسوں میں زندگی کے دیگر بہت سے شعبوں کی طرح گداگری کا پیشہ بھی کمپیوٹر سنبھال لیں اور ہمارے ہاں عوامی مقامات پرڈونا جیسے صحت مند روبوٹ بھاریوں کے ساتھ ساتھ مصنوعی اپاہج، معذور اور بیمار روبوٹ بھی ہاتھ پھیلائے کھڑے نظر آنے لگیں۔

XS
SM
MD
LG