رسائی کے لنکس

شامی فریقین کے درمیان مذاکرات کے ایک اور دور کی تیاری


شام کے حزب اختلاف کے نمائندوں کا وفد (فائل فوٹو)

شام کے حزب اختلاف کے نمائندوں کا وفد (فائل فوٹو)

حکومت سے معاہدے کے بعد توقع ہے کہ محصور بچے اور عورتیں پیر کو حمص شہر سے نکل جائیں گے اور لخدار براہمیی پر اُمید ہیں کہ اقوام متحدہ کا ایک کارروان امداد لیے وہاں جا سکے گے۔

شام کے صدر بشار الاسد اور حزب مخالف کے نمائندے پیر کو ایک بار پھر جنیوا میں مذاکرات کے لیے مل رہے ہیں۔

بات چیت میں ثالث کا کردار ادا کرنے والے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے نمائندہ خصوصی لخدار براہیمی کا کہنا ہے کہ مذاکرات ابھی جاری ہیں اور امید ہے کہ ان میں پیش رفت ہو گی۔

انھوں اس امید کا بھی اظہار کیا کہ حکومت سے معاہدے کے بعد محصور بچے اور عورتیں پیر کو حمص شہر سے نکل جائیں گے اور ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ اس بات کی توقع کررہا ہے کہ ایک کارروان امداد لیے وہاں جائے گا۔

حمص شام کے بڑے شہروں میں سے ایک ہے اور باغیوں سے قبضہ حاصل کرنے کے لیے حکومت کی طرف سے اسے شدید بمباری کا سامنا کرنا پڑا۔


مسٹر براہیمی کا یہ بھی کہنا تھا کہ حزب اختلاف نے اپنے زیر حراست افراد کی فہرست کے بارے میں حکومت کا مطالبہ تسلیم کرلیا ہے۔

جمعہ کو مذاکراتی عمل ٹوٹ جانے کے قریب ہی تھا تاہم براہیمی کی کوششوں سے ہفتے کو شام کی حکومت اور حزب اختلاف کے نمائندے پہلی مرتبہ براہ راست ملے۔

سرکاری طور پر جینوا ٹو نامی اس عمل کا مقصد شام میں عبوری حکومت کا قیام ہے تاہم مبصرین کے بقول یہ ہدف حاصل کرنے کے امکانات بہت کم ہیں۔

شام میں بحران مارچ 2011ء میں شروع ہوا جب صدر بشارالاسد کے خلاف پرامن مظاہرے خانہ جنگی میں تبدیل ہوگئے جس میں اقوام متحدہ کے مطابق ایک لاکھ سے زائد افراد ہلاک اور نو لاکھ بے گھر ہوئے۔
XS
SM
MD
LG