رسائی کے لنکس

اسرائیل کے حامی ہونے کا مفہوم کیا ہے؟


اسرائیل کے حامی ہونے کا مفہوم کیا ہے؟

اسرائیل کے حامی ہونے کا مفہوم کیا ہے؟

امریکہ کی خارجہ پالیسی میں اسرائیل کو تاریخی اعتبار سے غیر معمولی اہمیت حاصل رہی ہے، اور توقع کے مطابق سال 2012ء کے صدارتی انتخاب میں بھی اسرائیل کے بارے میں دونوں پارٹیوں کا نقطہ نظر توجہ حاصل کرتا دکھائی دیتا ہے: واشنگٹن پوسٹ

What ‘pro-Israel’ should meanیہ عنوان ہے اخبار’ واشنگٹن پوسٹ‘ میں شائع ہونے والے ایک مضمون کا۔ جیسا کہ عنوان سے ظاہر ہے، مضمون نگار نے اِس بات پر زور دیا ہے کہ اسرائیل کے حامی ہونے کا مفہوم کیا ہے، اِس کی وضاحت ہونی چاہیئے۔

مضمون نگار کا کہنا ہے کہ امریکہ کی خارجہ پالیسی میں اسرائیل کو تاریخی اعتبار سے غیر معمولی اہمیت حاصل رہی ہے اور توقع کے مطابق سال 2012ء کے صدارتی انتخاب میں بھی اسرائیل کے بارے میں دونوں پارٹیوں کا نقطہ نظر توجہ حاصل کرتا دکھائی دیتا ہے۔

مصنف کے مطابق ریپبلیکن پارٹی کی جانب سے نامزدگی کے حصول کی کوششوں میں مصروف راہنما بظاہر 1967ء کی حدود کے مطابق اسرائیل فلسطین تنازع کے حل کے امریکہ کے اصولی مؤقف سے دور ہوتے دکھائی دیتے ہیں اور وہ اسرائیلی حکومت کی غیرمعمولی حمایت کرتے نظر آتے ہیں۔ اور، وہ ہر اُس شخص کو اسرائیل مخالف قرار دیتے ہوئے سیاسی فوائد حاصل کرنا چاہتے ہیں جو اُن کی سوچ سے ہٹ کر اسرائیل کے بارےمیں نقطہٴ نظر رکھتے ہوں اور اُن میں صدر براک اوباما بھی شامل ہیں، کیونکہ وہ مشرق وسطیٰ کے معاملے پر امریکی پالیسی کو مزید متوازن دیکھنا چاہتے ہیں۔

مضمون نگار لکھتے ہیں کہ اِن حالات میں امریکہ کے اندر بہت کھل کر بحث ہونی چاہیئے کہ آخراسرائیل حامی ہونے کا کیا مطلب ہے۔

امریکہ کے ہر صدر نے 1967ء کے بعد سے اسرائیلی آبادکاری کی مخالفت کی ہے اور اِس پر دوجماعتی اتفاقِ رائے موجود رہا ہے۔ مگر آج کے امریکی سیاست دانوں کو یہ واضح کرنا ہوگا کہ وہ اسرائیل نواز ہونے کا لیبل چاہتے ہیں یا اکیسویں صدی کے تقاضوں کے مطابق یہ چاہتے ہیں کہ اسرائیل کے حامی ہونے کا مطلب اسرائیل اور فلسطین دونوں کے لیے الگ الگ آزاد ریاستوں کے حق کا حامی ہونا لیا جائے۔

اخبار ’یو ایس اے ٹوڈے‘ نے Russia’s Chance for Changeکے عنوان سے ایک اداریہ تحریر کیا ہے۔ اخبار لکھتا ہے کہ سال 2011ء میں دنیا کے مختلف ممالک میں مظاہرین سڑکوں پر آئے اور اس سلسلے کی تازہ ترین لہر روس میں نظر آتی ہے، جہاں بیسیوں ہزاروں کی تعداد میں مظاہرین ولادی میر پیوتن اور اُن کی یونائٹڈ رشیا پارٹی کے خلاف مصروفِ احتجاج ہیں۔

اِن احتجاج کرنے والوں میں امریکہ کی ریاست نیو جرسی میں ایک باسکٹ بال کے ارب پتی مالک میخائیل پروخوروف بھی شامل ہو گئے ہیں جو مسٹر پیوتن کے خلاف صدارتی مہم میں شریک ہونے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

اخبار لکھتا ہے کہ روس میں حالیہ احتجاجی مظاہروں اور بڑی شخصیات کے میدان میں آجانے سے اُس تبدیلی کی امیدیں پیدا ہونے لگی ہیں جو تبدیلی مشرقِ وسطیٰ میں اور شمالی افریقہ کے کئی ایک ممالک میں حالیہ مہینوں میں دیکھنے میں آئی۔ اس حوالے سے اخبار تجویز کرتا ہے کہ امریکہ کو چاہیئے کہ وہ روس کے اندر جمہوری اصلاحات کی دعویدار فورسز کی حمایت کرے، تاکہ مسٹر میخائیل پروخوروف کے بقول،’ عرب اسپرنگ ‘طرز کی تبدیلی کے امکانات کو حقیقت کا روپ دیا جاسکے۔

اخبار ’نیو یارک ٹائمز‘ نے Inside the Eurozone, bracing for austerityکے عنوان سے ایک مضمون شائع کیا ہے۔ مضمون نگار کا کہنا ہے کہ یورپی ممالک، خاص طور پر، یورو استعمال کرنے والے ممالک کے سیاسی راہنماؤں کے لیے یہ بات بڑی حد تک آسان ہوگئی ہے کہ وہ کفایت شعاری کو قرضوں کے بحران سے نکلنے کے لیے ایک حل کے طور پر بیان کریں۔ اُنھیں چاہیئے کہ وہ سادہ اور آسان فارمولے کے مطابق ٹیکسوں میں اضافہ کریں اور اخراجات میں کمی کے فارمولے پر عمل درآمد کرائیں اور اپنے لوگوں کو باور کرائیں کہ اگر ایسا نہیں کیا جاتا تو معاشی بحران کے خلاف خود کو اپنے پاؤں پر کھڑے رکھنا زیادہ وقت کے لیے قطعا ً ممکن نہ ہوگا۔

مضمون نگار اپنے مشاہدے کی بنیاد پر اٹلی کی مثال دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ گذشتہ عشرے کے دوران یہاں کی سکڑتی ہوئی معیشت اور بڑھتی ہوئی بے روزگاری کے پیشِ نظر کفایت شعاری آج ہر جگہ روزمرہ گفتگو کا موضوع بن چکا ہے اور وزیر اعظم ماریو مونٹی کی نئی حکومت نے اپنا ہنگامی اقتصادی منصوبہ منظوری کے لیے پارلیمان کو بھجوا دیا ہے۔ یہ منصوبہ کفایت شعاری کا ہی متقاضی ہے۔

آڈیو رپورٹ سنیئے:

XS
SM
MD
LG