رسائی کے لنکس

انسداد دہشت گردی کی جنگ میں پاکستان کا اہم کردار

  • مائیکل بومن
  • اسد نذیر

گونر جان ہنٹسمن

گونر جان ہنٹسمن

اِس اعتبار سے یہ کٹھن سفارتکاری ہوگی کہ پاکستان کو یہ باور کرایا جائے کہ ہمارے اقتصادی تعاون کا انحصار اِس بات پر ہے کہ وہ ہمارے ساتھ کس قدر تعاون کرتے ہیں: سینیٹر کائل

ریاست ایریزونا سے تعلق رکھنے والے ریپبلیکن پارٹی کے ایک اہم رکن جان کائل کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ میں پاکستان کا اب بھی اہم کردار ہے۔اُن کے الفاظ میں ’پاکستان کے ساتھ طویل عرصے تک تعلقات کو قائم رکھنا بے حد ضروری ہے‘۔

کائل نے یہ بات اتوار کے روز ’فوکس ٹی وی نیوز‘ کے ایک پروگرام میں کہی۔

سینیٹر کائل نے کہا ہے کہ واشنگٹن اور اسلام آباد کے درمیان رابطوں کو بہر حال برقرار رکھنا ہوگا۔اُن کے بقول، بہت بڑے پیمانے پر سفارتکاری ہوگی۔ یہ اس اعتبار سے کٹھن سفارتکاری ہوگی کہ پاکستان کو یہ باور کرایا جائے کہ ہمارے اقتصادی تعاون کا انحصار اِس بات پر ہے کہ وہ ہمارے ساتھ کس قدر تعاون کرتے ہیں۔ یہ ایسی صورتِ حال نہیں ہے جہاں آپ تمام امداد یکدم بند کردیں، کیونکہ ہمیں اُس علاقے میں اب بھی اُن کی مدد درکار ہے۔

فوکس نیوز کے پروگرام میں ڈیموکریٹک پارٹی کے سینیٹر رچرڈ ڈربن نے کہا کہ سفارتی ذرائع سےراستا تلاش کرنا مشکل ہوگیا ہے۔ افغانستان میں نااہلی اور کسی حد تک بدعنوانی اور پاکستان کے چند حصوں میں گٹھ جوڑ کے درمیان ہمارے فوجی پھنس کر رہ گئے ہیں۔ اور یہ اُس وقت ہو رہا ہے جب ہم وہاں امن قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ریپبلیکن پارٹی کے ایک اور ممتاز رکن، گورنر جان ہنٹسمن کہتے ہیں کہ امریکہ کوجنوبی ایشیا میں ایک نئے اسٹریٹجک شراکت دار کو تلاش کرنا چاہیئے۔

اُن کے الفاظ میں، ’میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات کی نوعیت محض کاروباری لین دین تک رہ گئی ہے اور میرے خیال میں اِن تعلقات سے ہمیں کم سے کم توقعات وابستہ کرنی چاہئیں۔ ہمارا خیال تھا کہ اُس سے ہمیں کچھ زیادہ مل جائے گا، مگر ہمیں بار بار ناکامی ہوئی ہے‘۔

امریکہ اور نیٹو نے پاکستان پر فضائی حملے میں ہونے والی ہلاکتوں پر اظہارِ تعزیت کیا ہے۔

XS
SM
MD
LG