رسائی کے لنکس

logo-print

افغانستان: قیمتی پتھروں کی اسمگلنگ سے کروڑوں ڈالر کا نقصان


افغان حکومت 2016 کے وسط تک اپنی خود کی ایک منڈی بنانے کا انتظام کر رہی ہے جو کہ صرف لاجورد کی خریدوفروخت کے امور دیکھے گی۔

افغانستان کی حکومت طالبان عسکریت پسندوں کو غیر قانونی طور پر قیمتی پتھروں خصوصاً لاجورد کی بیرون ملک فروخت سے حاصل ہونے والی آمدن کا راستہ روکنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔

حکومت اس قیمتی پتھر کی فروخت کے لیے خود ایک منڈی بنائے گی جو کہ ہزاروں سال سے کوہ ہندوکش سے نکلتا اور فروخت ہوتا رہا ہے۔

طالبان اپنے مالی وسائل غیرقانونی تاجروں اور مختلف جرائم پیشہ عناصر سے حاصل کرتے رہے ہیں جو کہ لاجورد، یاقوت اور زمرد کی اسمگلنگ کے علاوہ ہیروئن کی لیبارٹریاں چلاتے اور اغوا برائے تاوان جیسے دھندوں میں ملوث ہیں۔

افغانستان کے وزیر کان کنی داؤد صبا نے خبر رساں ایجنسی "روئٹرز" کو بتایا کہ ایک اندازے کے مطابق قیمتی پتھروں کی اسمگلنگ سے افغانستان کو ہر سال تقریباً دس کروڑ ڈالر کا نقصان ہوتا ہے اور یہ رقم کوئلے اور دیر صنعتی معدنیات کی برآمدات سے حاصل ہونے والی مجموعی آمدن سے زیادہ ہے۔

"یہ افغان عوام کے لیے ایک بڑا مسئلہ ہے کیونکہ وہ ایسے دہشت گرد گروہوں کے ہاتھوں اپنی جائیداد کھو رہے ہیں جو ایک طرف تو ان کی دولت چرا رہے ہیں اور دوسری طرف اپنے دہشت گردوں گروہوں کو مضبوط بنا رہے ہیں۔"

دواؤد صبا میلبورن میں ہونے والی کانفرنس برائے معدنیات میں شریک ہیں جہاں خبر رساں ایجنسی سے انٹرویو میں انھوں نے بتایا کہ افغان حکومت 2016 کے وسط تک اپنی خود کی ایک منڈی بنانے کا انتظام کر رہی ہے جو کہ صرف لاجورد کی خریدوفروخت کے امور دیکھے گی۔

"(نیلے) لاجورد کی اس قسم پر ہماری اجارہ داری ہے اور ہمارے سرٹیفیکیٹ کے بغیر ایسا کوئی پتھر اگر بین الاقوامی مارکیٹ میں فروخت ہو گا تو وہ اس پر بھی اسی طرح پابندی لگائیں گے جیسے انھوں نے بلڈ ڈائمنڈ پر لگائی۔"

بلڈ ڈائمنڈ ان ہیروں کو کہا جاتا ہے جو شورش زدہ علاقوں سے نکالے جاتے ہیں اور انھیں جنگوں میں مالی وسائل حاصل کرنے کے لیے فروخت کیا جاتا ہے۔

اقوام متحدہ نے اس قسم کے ہیروں پر پابندی کا مطالبہ کیا تھا جس کے بعد 2003ء میں اس کا ایک سرٹیفیکٹ پروگرام ترتیب دیا گیا۔

ہیروں کی صنعت سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ اس وقت کے بعد اب اس طرح کے ہیروں کا منڈی میں حصہ صرف ایک فیصد ہی ہے۔

XS
SM
MD
LG