خواتین کے عالمی دن پر پاکستان کے مختلف شہروں میں 'عورت مارچ' کا انعقاد کیا گیا۔ مختلف تنظیموں کی جانب سے ریلیوں کی اہتمام کیا گیا جس میں خواتین کے حقوق کے مطالبات پیش کیے گئے۔ اسلام آباد میں نیشنل پریس کلب کے باہر عورت مارچ پر پتھراؤ بھی ہوا۔ انتظامیہ کی جانب سے ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے انتظإمات کیے گئے تھے۔ پولیس کی جانب سے سڑک کے درمیان ایک حفاظتی حصار قائم کیا گیا تھا۔ کوئٹہ مین عورت مارچ میں خواتین کے حقوق کے ساتھ لاپتا افراد کی بازیابی کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
‘مبارک ہو، بیٹی ہے!’
9
لاہور میں خواتین نے بڑے بینر پر اپنے خیالات تحریر کیے۔
10
مارچ میں شریک مرد بھی اپنی آرا کا اظہار کتبوں کی شکل میں کر رہے تھے۔
11
خواتین کے وراثت کے مسائل کی جانب بھی توجہ مبذول کروائی گئی۔
12
مردوں کے رویے سے متعلق بھی کتبے مارچ میں شامل خواتین کے ہاتھوں میں تھے۔