خواتین کے عالمی دن پر پاکستان کے مختلف شہروں میں 'عورت مارچ' کا انعقاد کیا گیا۔ مختلف تنظیموں کی جانب سے ریلیوں کی اہتمام کیا گیا جس میں خواتین کے حقوق کے مطالبات پیش کیے گئے۔ اسلام آباد میں نیشنل پریس کلب کے باہر عورت مارچ پر پتھراؤ بھی ہوا۔ انتظامیہ کی جانب سے ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے انتظإمات کیے گئے تھے۔ پولیس کی جانب سے سڑک کے درمیان ایک حفاظتی حصار قائم کیا گیا تھا۔ کوئٹہ مین عورت مارچ میں خواتین کے حقوق کے ساتھ لاپتا افراد کی بازیابی کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
‘مبارک ہو، بیٹی ہے!’
22
مارچ کی خواتین مردوں کے رویے سے متعلق بھی کتبے لیے ہوئے تھیں۔
23
خواتین مختلف معاشرتی رویوں کی نشاندہی کرتی نظر آئیں۔
24
اپنے حقوق سے متعلق آواز اٹھانے اور اس میں پیش آنے والی مشکلات کا ذکر بھی نظر آیا۔
25
عورت مارچ پر تنقید کا جواب بھی دینے کی کوشش کی گئی۔