رسائی کے لنکس

logo-print

برطانوی نوجوان انگریزی اور ریاضی میں پیچھے: رپورٹ


اقتصادی تعاون و ترقی کی تنظیم یا او ای سی ڈی کی طرف سے ایک منعقدہ مطالعاتی جائزہ رپورٹ سے پتا چلا کہ 23 ترقی یافتہ قوموں کے مقابلے انگلش نوجوان خواندگی کے اعتبار سے سب سے پیچھے ہیں۔

ایک رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں نوجوانوں کے درمیان خواندگی کی شرح ترقی یافتہ دنیا کے مقابلے میں سب سے کم ہے، اور ہائی اسکول سےگریجویشن کرنے والے بہت سے طالب علم انگریزی اور ریاضی کی صرف بنیادی مہارت رکھتے ہیں۔

اقتصادی تعاون و ترقی کی تنظیم یا ’او ای سی ڈی‘ کی طرف سے ایک منعقدہ مطالعاتی جائزہ رپورٹ سے پتا چلا کہ 23 ترقی یافتہ قوموں کے مقابلے انگلش نوجوان خواندگی کے اعتبار سے سب سے پیچھے ہیں۔

اس کے برعکس ایسے افراد جو پینشنرز ہیں یا ریٹائرمنٹ کے قریب تھے، انھیں خواندگی کے لیے ان کے ہم عمر گروپ میں سب سے اوپر درجے میں شامل کیا گیا ہے۔

خواندگی کی فہرست میں جنوبی کوریا سب سے اوپر ہے۔ جبکہ اس فہرست میں 16 سے 19 برس کے انگلش نوجوان کی درجہ بندی انگریزی کے لیے آخری نمبر اور ریاضی میں آخری نمبر سے ایک درجہ اوپر کی گئی ہے۔

رپورٹ 2012ء کے اعدادوشمار پر مبنی ہے۔ جس میں پتا چلا ہے کہ برطانیہ میں بنیادی تعلیم میں سرمایہ کاری کرنے کے بجائے یونیورسٹی تک رسائی کو وسیع کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ برطانیہ میں نوے لاکھ کام کرنے والی آبادی انگریزی اور ریاضی کی صرف بنیادی قابلیت رکھتی ہے۔

برطانیہ میں 16 سے 19 سال کے کم ہنر مند افراد کی تعداد خواندگی میں اعلیٰ کارکردگی دکھانے والی قوموں کے مقابلے میں تین گنا زیادہ ہے۔

تحقیق کے مطابق برطانیہ میں ہر 5 میں سے ایک نوجوان جو یونیورسٹی سے فارغ التحصیل تھا، اپنے بنیادی کاموں کی انجام دہی کر سکتے ہیں لیکن، زیادہ پیچیدہ مسائل کے ساتھ جدوجہد کرتے ہیں۔

علاوہ ازیں 20 سے 34 سال کے سات فیصد گریجویٹس افراد کی ریاضی کی مہارت کی سطح لیول 2 یا چھٹی جماعت کی قابلیت کے برابر تھی۔ جس کا مطلب یہ تھا کہ انھیں پٹرول کی پیمائش کا آلہ پڑھنے میں جدوجہد کا سامنا تھا۔

دریں اثناء 3.4فیصد گریجویٹس افراد جن سے سوالات پوچھے گئے تھے۔ وہ انگریزی کی مہارت کے لیے اس سطح سے بھی نیچے تھے، انھیں اسپرین کی بوتل پر ہدایات کا لیبل سمجھنے میں پریشانی تھی۔

رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ ترقی یافتہ قوموں کے مقابلے میں برطانوی نوجوانوں کی کمزور بنیادی قابلیت کو ابتدائی تعلیم کے اختتام پر نچلی سطح کی کارکردگی کے ساتھ منسلک کیا جا سکتا ہے۔

او ای سی ڈی تنظیم نے تحقیق سے نتیجہ اخذ کرتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی میں تدریس کے دوران خواندگی کی سطح اور ریاضی کی مہارت پر بہت محدود توجہ دی جاتی ہے اور کم تر بنیادی قابلیت حاصل کرنے والے نوجوانوں کو اپنی قابلیت کی بنیاد پر معمولی معاوضہ ملتا ہے اور اکثر حصول تعلیم کے لیے حاصل کردہ قرضے کی ادائیگی بھی ان کے لیے مشکل ہو جاتی ہے۔

XS
SM
MD
LG