رسائی کے لنکس

logo-print

اونٹ دوڑ کئی ممالک میں پسندیدہ مشغلہ

اونٹوں کی دوڑ یا کیمیل ریس کو مشرق وسطیٰ اور افریقہ کے کئی ممالک میں انتہائی پذیرائی حاصل ہے۔ اس کے لیے خاص طور پر اونٹ پالے جاتے ہیں جبکہ ان کی خصوصی تربیت بھی کی جاتی ہے تاکہ وہ دوڑ میں سب سے آگے رہ سکیں۔

مصر، کویت، قطر، اومان سمیت کئی ممالک میں ان کے بین الاقوامی مقابلے منقعد ہوتے ہیں۔

ایک جانب اس ریس کو پسند کیا جاتا ہے تو دوسری جانب اس حوالے سے کئی تنازعات موجود ہیں کہ ان میں بچوں کو بطور جوکی استعمال کیا جاتا ہے۔ تاہم اب کئی ممالک میں اس پر پابندی عائد ہے۔

جدید دور میں روبوٹ جوکی بھی سامنے آ چکے ہیں جو ان اونٹ دور کے مقابلوں میں استعمال ہوئے ہیں۔

متحدہ عرب امارات پہلا ملک تھا جس نے 2002 میں 15 سال سے کم عمر بچوں کے جوکی بنانے پر پابندی عائد کی جبکہ اس کے بعد قطر نے 2007 میں ایسا ہی فیصلہ کیا۔

برطانوی خبر رساں ادارے 'بی بی سی' کی رپورٹ کے مطابق پاکستان، بنگلہ دیش اور سوڈان سے بچوں کومشرق وسطی کے ممالک اسمگل کیا جاتا تھا جہاں ان کو بطور جوکی استعمال کیا جاتا تھا۔

اونٹ دوڑ میں عمومی طور کئی کلو میٹر کا ٹریک رکھا جاتا ہے جس پر اونٹ مختلف کیٹیگریز میں دوڑ میں شامل کیے جاتے ہیں۔

مزید لوڈ کریں

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG