رسائی کے لنکس

logo-print

بچوں کی خود اعتمادی والدین کے رویے پر منحصر ہے: رپورٹ


خاص طور بچوں کی خود اعتمادی کو گھر میں غالب رویہ رکھنے والے ماں یا باپ کے برتاؤ کے ساتھ منسلک کیا جا سکتا ہے۔

ایک حالیہ مطالعے سے پتا چلتا ہے کہ بچوں کی خود اعتمادی والدین کے رویے سے متاثر ہوتی ہے لیکن اس کے ساتھ ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ آپ کے گھر میں والدین میں سے جس کا حکم چلتا ہے بچے کی خود اعتمادی یر اسی کا اثر ہوتا ہے۔

برطانوی ماہرین نفسیات کی ایک ٹیم نے دریافت کیا ہے کہ ایک کثیر الثقافتی معاشرے میں آج بھی خاندانی ثقافت ایک انفرادی بچے کی خود اعتمادی کو متاثر کر سکتی ہے، خاص طور بچوں کی خود اعتمادی کو گھر میں غالب رویہ رکھنے والے ماں یا باپ کے برتاؤ کے ساتھ منسلک کیا جا سکتا ہے۔

برطانوی یونیورسٹی سیسیکس سے منسلک تجزیہ کاروں کے مطابق، بچوں کی تربیت میں اگر والدین میں سے کوئی ایک کمزور ہے تو اس کی کمزوری یا لاتعلقی کا بچے کی خود اعتمادی پر اتنا اثر نہیں ہوتا ہے کیونکہ، مضبوط اثر رکھنے والے باپ یا ماں کی طرف سے بچے کے لیے ٹھوس مشفق رویہ ہمیشہ برقرار رہتا ہے۔

پروفیسر ڈاکٹر ایلسن پائیک نے کہا کہ خود اعتمادی ایک انفرادی شخص کی کامیابیوں، قابلیت اور نمایاں ہونے میں دیکھی جا سکتی ہے، اسی لیے والدین بچوں کی پرورش کے دوران اس پر خاص توجہ مرکوز رکھتے ہیں کیونکہ، اگر ان میں خود اعتمادی کی کمی ہے تو، وہ اپنی صلاحیتوں سے فائدہ نہیں اٹھا سکیں گے اور اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی اور بد سلوکی کو چپ چاپ برداشت کر لیں گے۔

مصنفین نے 'جرنل آف کراس کلچرل سائیکلوجی' میں لکھا کہ خود اعتمادی پر توجہ مرکوز رکھتے ہوئے ہم نے دیکھا ہے کہ کس طرح خاندانی ثقافت اس خصوصیت پر اثر انداز ہوتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ خاندانوں کے اندر صنفی بنیاد پر طاقتور اختلاف پایا جاتا ہے، جو ثقافتی اختلافات کو جنم دیتا ہے اور یہ دونوں نظریات بچوں کی خود اعتمادی کو کم کرتے ہیں۔

ماہرین نے اس نظریہ کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ جنوبی ایشیائی خاندانوں میں گھر میں ماں کا کردار باپ کے مقابلے میں کمتر سمجھا جاتا ہے اور اسی طرح وسیع معاشرے کے اندر بھی ایسا ہی نظر آتا ہے، جہاں گھر میں باپ کا حکم چلتا ہے، جو خاندان کے فیصلوں اور نظم و ضبط کا ذمہ دار ہوتا ہے۔

جبکہ دوسری طرف انگریز یا مغربی ثقافت سے تعلق رکھنے والے گھرانوں میں گھر کے اندر ماں کا باپ کے مقابلے میں مرکزی کردار ہے، جہاں ایک عورت کے اوپر بچوں اور گھر کی دیکھ بھال اور نظم و ضبط کی ذمہ داری ہے۔

ایک مشاہدے کے دوران پائیک نے مغربی لندن میں رہنے والے 125 انگریز اور بھارتی گھرانوں کو شامل کیا جن کے بچوں کی عمریں سات سے دس برس کے درمیان تھیں۔ بچوں میں ایک سوالنامے کے ذریعے خود اعتمادی کا انکشاف ہوا۔

تجربے کے دوران والدین نے ایک پیرینٹل منفی رویہ کے اسکیل کو مکمل کیا، جس میں محققین نے ا24 سوالات کے ذریعے والدین کے منفی رویوں کا اندازا لگایا گیا مثلاً کیا وہ بچوں پر ضرورت سے زیادہ حاوی ہونے کی کوشش کرتے ہیں، کیا انھیں ڈرا دھمکا کر یا احساس ندامت کے ذریعے نظم و ضبط کا پابند بنانے کی کوشش کرتے ہیں اور یا پھر حد سے زیادہ بچوں کی جاسوسی کرتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔

نتائج سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار کے تجزیے سے یہ بات سامنے آئی کہ انگریز اور بھارتی ماؤں میں زچگی کے بعد کے ڈپریشن کی وجہ سے پائے جانے والے منفی رویے کے درمیان کوئی فرق نہیں تھا۔

تاہم بھارتی والد میں ایک انگریز والد کی نسبت منفی رویے کا رجحان زیادہ تھا اور ان کے بچوں کی تربیت میں اس منفی رویہ کا اثر تھا، ان بچوں میں خود اعتمادی کی کمی تھی۔

دوسری طرف انگریز خاندان سے تعلق رکھنے والے بچوں میں ماؤں کی زچگی کے ڈپریشن کا رویہ بچوں کے کم خود اعتمادی کے ساتھ منسلک تھا۔

محقق ایلسن پائیک نے کہا کہ ہمارے نتائج سے یہ ظاہر ہوا کہ ماں اور باپ کا مختلف ثقافتوں میں مختلف کردار ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ نتائج سے یہ بھی نشاندھی ہوئی کہ مختلف ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے بچے ناصرف والدین کے تربیت کے مخصوص طریقوں سے متاثر ہوئے تھے، بلکہ اس بات نے بھی انھیں متاثر کیا تھا کہ گھر میں ان کی تربیت ماں نے کی ہے یا ان کی تربیت باپ کے ہاتھوں ہوئی ہے۔

XS
SM
MD
LG