'اوبر' کا کرونا سے متاثرہ ڈرائیورز، مسافروں کے اکاؤنٹ بند کرنے کا عندیہ
دنیا کی سب سے بڑی آن لائن ٹیکسی کمپنی 'اوبر' نے کہا ہے کہ وہ کرونا کا شکار ہونے والے اپنے ڈرائیورز اور مسافروں کے اکاؤنٹ عارضی طور پر معطل کرنے پر غور کر رہی ہے۔
'اوبر' نے ڈرائیورز اور صارفین کے نام جاری ایک پیغام میں کہا ہے کہ حفاظتی اقدامات کے پیشِ نظر ایسے ڈرائیورز اور مسافروں کے اکاؤنٹس عارضی طور پر معطل کیے جاسکتے ہیں جن کا کرونا کا ٹیسٹ مثبت آیا ہو یا وہ کرونا کے کسی مریض کے ساتھ رابطے میں رہے ہوں۔
واضح رہے کہ کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں اضافے اور دنیا کے 100 سے زائد ملکوں میں وائرس کے کیس سامنے آنے کے بعد دنیا بھر میں وائرس کو مزید پھیلنے سے روکنے کے لیے حفاظتی اقدامات جاری ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ کرونا کا وائرس متاثرہ شخص کے کھانسنے، چھینکنے، اس کے زیرِ استعمال اشیا کو چھونے یا مریض سے ہاتھ ملانے کے نتیجے میں دوسرے شخص میں منتقل ہوسکتا ہے جس کے باعث لوگوں کو سخت احتیاط کی ضرورت ہے۔
اٹلی: کرونا وائرس سے ہلاکتوں میں اضافہ، تعداد 631 ہو گئی
اٹلی میں منگل کو کرونا وائرس سے ہونے والی ہلاکتوں میں یک دم 36 فی صد اضافہ ہوا ہے جس کے بعد اس مہلک وبا سے ملک میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 631 ہو گئی ہے۔
خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق اٹلی میں منگل کو کرونا وائرس کے شکار مزید 168 افراد ہلاک ہو گئے۔ اٹلی میں ایک روز کے دوران اس وائرس سے ہونے والی ہلاکتوں کی اب تک کی یہ سب سے زیادہ تعداد ہے۔
اٹلی، یورپی ممالک میں کرونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک ہے جہاں اب تک اس وائرس کے 10 ہزار 149 کیسز کی تصدیق ہو چکی ہے۔
منگل کو نئے کیسز کی تعداد میں بھی 10 فی صد اضافہ ہوا۔ پیر کو یہ تعداد نو ہزار 172 تھی جو منگل کو 10 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔
پاکستان میں 12 سالہ بچے میں کرونا وائرس کی تصدیق، کیسز کی تعداد 19 ہو گئی
پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں کرونا وائرس کا پہلا کیس سامنے آ گیا ہے جس کے بعد ملک بھر میں وائرس سے متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 19 ہو گئی ہے۔
کوئٹہ میں منگل کو 12 سالہ بچے میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جس کے بعد اُسے فاطمہ جناح اسپتال میں رکھا گیا ہے۔
اس سے قبل پاکستان میں کرونا وائرس کے 15 کیسز سندھ، دو اسلام آباد اور ایک گلگت بلتستان میں رپورٹ ہوا تھا۔
کوئٹہ کے فاطمہ جناح اسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر نور اللہ موسیٰ خیل نے میڈیا کو بتایا کہ متاثرہ بچہ والدین کے ساتھ تفتان سے کوئٹہ آیا تھا۔ البتہ بچے کے والدین میں کرونا وائرس کی تصدیق نہیں ہوئی۔
ادھر بلوچستان حکومت کے ترجمان لیاقت شہوانی نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں کہا ہے کہ بچے کو آئسولیشن روم میں منتقل کر دیا گیا ہے تاہم اس کی حالت خطرے سے باہر ہے۔
کوئٹہ: ایران سے آنے والے زائرین کے لیے قرنطینہ مرکز قائم
کوئٹہ سے 20 کلو میٹر کے فاصلے پر کرونا وائرس کے خدشے کے پیشِ نظر قرنطینہ مرکز قائم کیا گیا ہے جہاں تفتان سے آنے والے زائرین کو رکھا جائے گا۔ اس مرکز میں 500 افراد کو رکھنے کی گنجائش ہے۔ منتظمین کے مطابق یہاں تعینات اسٹاف کو بنیادی تربیت دی جا چکی ہے۔ مزید دیکھیے مرتضیٰ زہری کی ڈیجیٹل رپورٹ