کرونا وائرس: صدر ٹرمپ نے یورپ سے امریکہ آنے پر پابندی لگا دی
امریکہ میں کرونا وائرس کے تیزی سے پھیلنے کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یورپ سے امریکہ سفر پر 30 روز کے لیے پابندی عائد کر دی ہے۔
کرونا وائرس سے امریکہ میں اب تک 32 افراد ہلاک اور 1100 کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں جب کہ واشنگٹن ڈی سی اور کئی ریاستوں میں ہنگامی حالت نافذ ہے۔
صدر ٹرمپ کی حکومت کو ناقدین کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا تھا۔
بدھ کو اوول آفس سے اپنے خطاب میں صدر ٹرمپ نے یورپی ممالک کے لیے امریکہ سفر پر پابندی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ بیرونِ ملک سے آنے والے وائرس کی روک تھام کے لیے یہ اقدام اب تک کا سب سے جارحانہ اور جامع اقدام ہے۔
واشنگٹن ڈی سی میں کرونا وائرس کے چھ مزید کیس، ہنگامی حالت نافذ
امریکہ کے دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں بدھ کو کرونا وائرس کے چھ نئے کیس سامنے آنے کے بعد شہر کی میئر موریل اِی باؤزر نے وفاقی دارالحکومت میں ہنگامی صورت حال کا اعلان کیا ہے۔
ہنگامی حالت کے نفاذ کے بعد میئر کو متاثرین کو لازمی طبی قرنطینہ میں ڈالنے کا اختیار حاصل ہوگیا ہے؛ جب کہ انھوں نے اشیائے ضروریہ کے نرخ میں اضافے کو غیر قانونی قرار دیا ہے۔
باؤزر کے اس اعلان سے چند ہی گھنٹے قبل مارچ کے آخر تک منعقد ہونے والے تمام عوامی اجتماعات کو منسوخ کرنے کے لیے کہا گیا تھا۔
لوگوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنی حفاظت کی خاطر دوسروں سے ملنے سے احتراز کریں، خاص طور پر وہ لوگ جو مقامی گرجا گھر میں گئے ہوں جس کلیسا کے حلقے کے رہنے والے یا چرچ کے عملے کے دو ارکان سے ملے ہوں، جن میں کرونا وائرس کا مثبت ٹیسٹ آیا ہے۔
ایران: کرونا سے مزید 62 ہلاکتیں، مرنے والوں کی تعداد 354 ہو گئی
ایران میں تواتر سے آج دوسرے روز بھی کرونا وائرس کے نتیجے میں ہلاکتوں میں اضافہ دیکھا گیا۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران، بدھ کو مزید 62 افراد ہلاک ہوئے، جب کہ ملک میں اب تک کی ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 354 ہو گئی ہے۔
ایران کی وزارت صحت نے کہا ہے کہ ملک میں 9000 تصدیق شدہ مریض اور اں وائرس تمام صوبوں میں پھیل چکا ہے۔
مشرق وسطیٰ میں لوگوں کی ایک کثیر تعداد، 9700 افراد کو کرونا وائرس لگ چکا ہے، یہ مرض ایران سے زیارتوں کے بعد واپس آنے والوں کی وجہ سے وائرس پھیل رہا ہے۔ چین کے بعد سب سے زیادہ ہلاکتیں ایران میں ہوئی ہیں۔
اب ایران خود کرونا کا مرکز بن چکا ہے۔ ایران سے باہر، صرف عراق، مصر اور لبنان میں وائرس سے ہلاکتیں ہوئی ہیں۔
عرب کی خلیجی ریاست، بحرین میں حکام نے بتایا ہے کہ تصدیق شدہ مریضوں کی تعداد میں بدھ کے روز 70 گنا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، اور وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 189 ہو گئی۔ یہ تمام مریض ایران سے آنے والی پرواز سے اترے تھے۔
بھارت نے ایک ماہ کے لیے ویزوں کا اجرا روک دیا
بھارتی حکومت نے کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کی خاطر ایک ماہ کے لیے کئی قسم کے ویزوں کا اجرا روکنے کا اعلان کیا ہے جبکہ پہلے سے جاری کردہ ویزوں کو بھی معطل کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ ایک اہم اجلاس میں کیا گیا جس میں خارجہ، داخلہ، صحت اور ہوابازی کے وزرا نے شرکت کی۔
اس فیصلے پر 13 مارچ سے عمل کیا جائے گا۔ اس کا اطلاق ان بھارتی نژاد افراد پر بھی ہوگا جن کے پاس دوسرے ملکوں کی شہریت ہے لیکن وہ سمندر پار بھارتی کارڈ ہونے کی وجہ سے ویزے کے بغیر بھارت آسکتے ہیں۔ البتہ، یہ پابندی سفارت کاروں، اقوام متحدہ کے اہلکاروں اور ورک ویزا پر سفر کرنے والوں کے لیے نہیں ہوگی۔
چین، ایران، اٹلی، جنوبی کوریا، فرانس، سپین اور جرمنی سے آنے والوں پر 14 دن قرنطینہ میں رہنے کی پابندی بھی عائد کی گئی ہے۔ یہ پابندی ان بھارتی شہریوں کے لیے بھی ہے جنھوں نے 15 فروری کے بعد ان ملکوں کا دورہ کیا ہوگا۔