کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنا بہت مشکل ہے: امریکی ماہر
امریکہ کی ہارورڈ یونیورسٹی کے ایک پروفیسر نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اب کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنا مشکل ہو چکا ہے۔
یونیورسٹی کے پروفیسر برائے وبائی امراض مارک لپ سٹچ نے جرمن میگزین کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ان کا نہیں خیال کہ اب کرونا وائرس کو روکا جا سکتا ہے۔
اپنے انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی بھی انفیکشن کے پھیلنے کا ریٹ اوسطاً دو ہو، یعنی ایک مریض سے یہ دو دوسرے افراد میں منتقل ہو رہا ہو۔ تو ایسی وبا کو مکمل طور پر روکنے سے قبل یہ دنیا کی آدھی آبادی کو متاثر کر چکی ہو گی۔
انہوں نے اپنے انٹرویو میں کہا کہ 'سارس' اور کرونا وائرس میں یہ فرق ہے کہ سارس میں جن مریضوں کی علامات ظاہر ہو چکی تھیں ان کے ذریعے ہی بیماری دوسرے افراد میں منتقل ہو رہی تھی۔ مگر کرونا وائرس ان افراد میں بھی پایا جاتا ہے جن کے جسم میں علامات ظاہر نہیں ہوئیں۔ اور وہ افراد اسے آگے دوسرے افراد میں منتقل کرنے کا باعث بن رہے ہیں۔
ایران سے آنے والے زائرین کو کوئٹہ میں ٹھیرانے کے خلاف احتجاج
کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے ایران سے آنے والے زائرین کو کوئٹہ میں ٹھہرانے اور قرنطینہ مرکز قائم کرنے کے خلاف کچھ مقامی شہریوں نے بدھ کو احتجاج کیا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے کوئٹہ میں کرونا وائرس پھیلنے کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔ مزید دیکھیے کوئٹہ سے مرتضیٰ زہری کی ڈیجیٹل رپورٹ میں۔
سعودی عرب: پاکستان سمیت کئی ممالک کی پروازیں منسوخ، آمد و رفت پر پابندیاں
سعودی عرب نے ملک میں کرونا وائرس کے 24 نئے کیسز سامنے آنے کے بعد پاکستان اور یورپی یونین سمیت دنیا کے کئی ممالک کے لیے پروازیں منسوخ کر دی ہیں جب کہ شہریوں اور وہاں مقیم افراد کی آمد و رفت پر بھی پابندی عائد کی ہے۔
سعودی عرب نے جن ممالک کے لیے پروازیں منسوخ کی ہیں ان میں سوئٹزرلینڈ، بھارت، پاکستان، سری لنکا، فلپائن، سوڈان، ایتھوپیا، جنوبی سوڈان، ایریٹیریا، کینیا، جبوتی اور صومالیہ شامل ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق کرونا وائرس سے متاثرہ ملکوں سے سعودی عرب آنے والے تمام افراد کے داخلے پر پابندی ہو گی۔
ادھر سعودی عرب نے اردن کی سرحدی راہداری کے ذریعے بھی مسافروں کی آمد و رفت بھی بند کر دی ہے تاہم تجارتی سامان اور کارگو ٹریفک کو آنے جانے کی اجازت ہے۔
کرونا وائرس: صدر ٹرمپ نے یورپ سے امریکہ آنے پر پابندی لگا دی
امریکہ میں کرونا وائرس کے تیزی سے پھیلنے کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یورپ سے امریکہ سفر پر 30 روز کے لیے پابندی عائد کر دی ہے۔
کرونا وائرس سے امریکہ میں اب تک 32 افراد ہلاک اور 1100 کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں جب کہ واشنگٹن ڈی سی اور کئی ریاستوں میں ہنگامی حالت نافذ ہے۔
صدر ٹرمپ کی حکومت کو ناقدین کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا تھا۔
بدھ کو اوول آفس سے اپنے خطاب میں صدر ٹرمپ نے یورپی ممالک کے لیے امریکہ سفر پر پابندی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ بیرونِ ملک سے آنے والے وائرس کی روک تھام کے لیے یہ اقدام اب تک کا سب سے جارحانہ اور جامع اقدام ہے۔