تفتان کے قرنطینہ مرکز میں مقیم پاکستانی پریشان
کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے ایران سے پاکستان آنے والے زائرین کو تفتان کے قرنطینہ مرکز میں رکھا جا رہا ہے۔ لیکن شہری وہاں عدم سہولیات کا شکوہ کر رہے ہیں۔ قرنطینہ مرکز میں لوگوں کو کیا مشکلات درپیش ہیں؟ جانتے ہیں وہاں مقیم ایک پاکستانی کی زبانی۔
کرونا وائرس پر کنٹرول کے لیے سرحدیں بند کرنے کو اولیت دی جا رہی ہے
کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے دنیا بھر کے ملکوں نے ہفتے کے روز اپنی سرحدیں بند کر دیں۔ ملک میں داخلے پر سخت بندشیں عائد رہیں، قرنطینہ کی لازمی شرط پر عمل کیا جاتا رہا اور بڑے اجتماعات پر پابندی جاری رہی۔
رائٹرز کی تفصیلی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 27 مارچ تک چین سے باہر کی دنیا میں ایپل کے اسٹوروں کا کاروبار بند رہے گا۔ ادھر چین میں جمعے کے روز سے تمام 42 اسٹور کھول دیے گئے۔ یہ ایک ایسے موقع پر ہوا ہے جب چین کی سر زمین پر ڈرامائی طور پر وائرس کے پھیلاؤ میں قدرے کمی نظر آ رہی ہے۔
چونکہ دنیا بھر میں 5000 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور لگ بھگ ڈیڑھ لاکھ افراد اس وائرس سے متاثر ہیں۔ تمام ملکوں نے عجائب خانے بند کر دیے ہیں۔ سیاحتی کشش والے مقامات اور تقریبات کا انعقاد روک دیا گیا ہے، تاکہ کرونا وائرس پھیلنے کا اندیشہ کم سے کم ہو۔
کولمبیا نے بتایا ہے کہ وہ ونزویلا کے ساتھ اپنی سرحدیں بند کر دے گا اور یورپ یا ایشیا سے واپس آنے والے سیاحوں کو روک دے گا، جب کہ جمعے کی شب سے یورپ سے امریکہ آنے والے زیادہ تر افراد کا داخلہ بند کر دیا گیا ہے۔
کرونا وائرس: فلم فروزن ٹو جلد ریلز کرنے کا فیصلہ
والٹ ڈزنی کمپنی نے اپنی نئی اینی میٹڈ فلم فروزن ٹو مقررہ وقت سے کئی مہینے پہلے ریلز کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ ان خاندانوں کو جنہیں کرونا وائرس کے باعث اپنا زیادہ تر وقت گھر میں گزارنا پڑ رہا ہے، اس فلم کا لطف اٹھا سکیں۔ کمپنی کا خیال ہے کہ لوگوں کے بڑے پیمانے پر گھر موجود ہونے سے اسے کہیں زیادہ ناظرین مل سکیں گے۔
ڈزنی اپنی یہ نئی فلم ڈزنی پلس چینل پر سٹریم کرے گا۔
جمعے کے روز ڈزنی کے ایک اعلان میں کہا گیا ہے کہ فلم 'فروزن ٹو' کی سٹریمنگ ڈزنی پلس پر اتوار سے شروع کی جا رہی ہے، جب کہ معمول کے حالات میں یہ تین مہینے بعد ریلز کی جانی تھی۔
کینیڈا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور نیدرلینڈز میں فیروزن ٹو کی سٹریمنگ منگل سے شروع کی جا رہی ہے۔
کرونا وائرس کی وجہ سے ڈزنی سمیت کئی کمپنیوں نے اپنی نئی فلموں کی ریلز ملتوی کر دی ہے۔ ان میں سے کچھ فلمیں مارچ اور اپریل میں ریلز ہونا تھیں مگر کچھ تھیٹرز بند کر دیے گئے ہیں، کیونکہ صحت سے متعلق حکام نے ہدایات جاری کی ہیں کہ وائرس کے خطرے کے پیش نظر اجتماع سے گریز کیا جائے۔
فلم کمپنیاں اپنی نئی فلمیں پہلے سینما گھروں میں ریلز کرتی ہیں جس کے بعد انہیں سٹریمنگ پر ڈال دیا جاتا ہے۔
کرونا وائرس سے بچنے کے لیے اپنا موبائل فون روزانہ صاف کریں
کرونا وائرس سے بچنے کے لیے آپ نے یہ تو پڑھا اور سنا ہو گا کہ اپنے ہاتھوں کو صابن کے ساتھ دن میں کئی کئی بار کم ازکم 20 سیکنڈ کے لیے اچھی طرح دھوئیں۔ لیکن کیا آپ کا دھیان اپنے موبائل فون کی طرف بھی گیا ہے جسے دن میں بیسیوں بار آپ استعمال کرتے ہیں اور وہ آپ کے ہاتھوں میں آتا ہے۔
سائنس دانوں نے موبائل کے جو ٹیسٹ کیے ہیں ان سے یہ نتیجہ برآمد ہوا ہے کہ موبائل فون کی سطح پر کرونا وائرس دو سے تین دن تک زندہ رہ سکتا ہے اور اسے چھونے سے وہ انسانی جسم میں منتقل ہو سکتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ صرف موبائل فون ہی نہیں بلکہ پلاسٹک اور سٹین لیس سٹیل سے بنی ہوئی تمام اشیا پر وائرس دو سے تین دن تک موجود رہ سکتا ہے۔
بیماریوں پر کنٹرول اور بچاؤ کے امریکی ادارے سی ڈی سی پی نے لوگوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنے موبائل فون، کمپیوٹر کا کی بورڈ اور ٹیبلٹ سمیت استعمال میں آنے تمام ہائی ٹیک آلات کو روزانہ باقاعدگی سے صاف کریں اور اس کے لیے جراثیم کش سپرے وغیرہ کا ستعمال کریں۔
پانی یا اسی طرح کے کسی مائع سے موبائل فون صاف کرنے سے اسے نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اس کی صفائی میں یہ احتیاط کریں کہ نمی فون کے اندر نہ جانے پائے کیونکہ اس سے وہ خراب ہو سکتا ہے۔ اسے صاف کرتے وقت نرم کپڑا استعمال کریں تاکہ اس کی سطح پر خراشیں نہ آئیں۔